ابن حزم اندلسی
| امام | |
|---|---|
| ابنِ حزم اندلسی | |
| (عربی میں: أبو مُحمَّدٍ عَلِيُّ بْنُ أَحْمَدَ بْنِ سَعِيدِ بْنِ حَزْمِ بْنِ غَالِبِ بنِ صَالِحِ بن خَلَفِ بْنِ مَعْدانَ بْنِ سُفْيانَ بْنْ يَزِيدَ اَلْأَنْدَلُسِيُّ القُرْطُبِيُّهنتاي) | |
| معلومات شخصیت | |
| پیدائش | 7 نومبر 994ء [1] قرطبہ، خلافت قرطبہ |
| وفات | 15 اگست 1064ء[2] منتجار، نزد ویلبا، طائفہ اشبیلیہ |
| رہائش | المریہ |
| نسل | اندلسی |
| مذہب | اسلام [1] |
| عملی زندگی | |
| پیشہ | فلسفی ، فقیہ ، ادیب ، شاعر [3][4]، جغرافیہ دان ، مورخ [4]، عالم [4]، سائنس دان [5] |
| مادری زبان | عربی |
| پیشہ ورانہ زبان | عربی [1] |
| کارہائے نمایاں | طوق الحمامہ [6]، المحلی بالآثار ، الاحکام فی اصول الاحکام (ابن حزم) ، جمہرہ انساب العرب ، جوامع السیرۃ النبویہ ، الفصل فی الملل والاہواء والنحل |
| مؤثر | داؤد الظاہری |
| متاثر | ابن خلدون، محمد اسد |
| درستی - ترمیم | |
ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم اندلسی قرطبی [7][8] (30 رمضان 384ھ / 7 نومبر 994ء، قرطبہ – 28 شعبان 456ھ / 15 اگست 1064ء، ولبہ)[9] اندلس کے بڑے علما میں شمار ہوتے ہیں، بلکہ تصنیف و تالیف کے لحاظ سے امام طبری کے بعد اسلام کے عظیم ترین اہلِ علم میں ان کا مقام ہے۔ وہ امام ، حافظِ حدیث ، ظاہری فقہ کے فقیہ اور اس مسلک کے مجدد بلکہ اس کی احیا کرنے والوں میں سے تھے، کیونکہ مشرق میں اس کا اثر کم ہو چکا تھا۔ اس کے علاوہ وہ متکلم ، ادیب ، شاعر ، ماہرِ انساب، علمِ رجالِ حدیث کے عالم اور ناقد و محقق بھی تھے۔ [10] بعض اہلِ علم نے انھیں فلسفی بھی قرار دیا ہے اور وہ ابتدائی علما میں سے تھے جنھوں نے زمین کے گول ہونے کا قول پیش کیا۔ وہ بنو امیہ کے دور میں وزیر بھی رہے۔ انھوں نے تقلید کی مخالفت کی اور آزادانہ تحقیق کی دعوت دی، جس کی وجہ سے مالکی علماء کے ایک گروہ نے ان کی مخالفت کی اور انھیں اپنے وطن سے نکال دیا گیا۔[11] [12] ان کی وفات اپنے آبائی علاقے کے گھر میں ہوئی، جو مونتیخار (قدیم نام منت لیشم) کے قریب ولبہ کے پاس واقع تھا۔ ان کے خاندان کی اصل فارسی تھی؛ ان کے جد یزید نے اسلام قبول کیا اور مغرب میں داخل ہونے والوں میں شامل تھے۔ ابن حزم کی پیدائش قرطبہ میں رمضان 384ھ کے آخری دنوں میں ہوئی۔ [13] .[14]
ابن حزم اندلسی کی زندگی
[ترمیم]نام اور نسب
[ترمیم]ان کا پورا نام ابو محمد علی بن احمد بن سعید بن حزم بن غالب بن صالح بن خلف بن معدان بن سفیان بن یزید ہے۔ وہ پیدائش اور پرورش کے اعتبار سے اندلسی قرطبی تھے، فقہی طور پر ظاہری مسلک کے پیرو تھے اور ولاء کے اعتبار سے یزیدی کہلاتے تھے۔ ان کے جد یزید، یزید بن ابی سفیان بن حرب (جو معاویہ کے بھائی تھے) کے آزاد کردہ غلام تھے۔ [15][16][17]
خاندان اور ابتدائی زندگی
[ترمیم]ابن حزم نے اپنی ابتدائی زندگی اپنے بڑے بھائی ابو بکر کی معیت میں گزاری، جو ان سے پانچ سال بڑے تھے۔ وہ اپنے والد کے محل میں رہتے تھے، جو المنصور بن ابی عامر اور بعد میں ان کے بیٹے المظفر کے وزیروں میں شمار ہوتے تھے۔ اس دور میں ان کی پرورش محل کی لونڈیوں کے ہاتھوں ہوئی۔ یہ محل اس سڑک پر واقع تھا جو چھوٹے دریا سے نکل کر قصر الزاہرہ کی طرف جاتی تھی اور المنصور بن ابی عامر کے گھر سے متصل تھا۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ابن حزم کے والد کو المنصور کے نزدیک بہت بلند مقام حاصل تھا، یہاں تک کہ وہ ان کے پڑوس میں رہتے تھے۔[18]
ابن حزم ایک ایسے خاندان میں پیدا ہوئے جو ان کے جدِ اعلیٰ یزید بن ابی سفیان کے زمانے سے اسلام سے وابستہ تھا۔ ان کے خاندان کے ایک فرد خلف بن معدان، امیر عبد الرحمن الداخل کے ساتھ اندلس آئے تھے اور انھوں نے لبلہ میں سکونت اختیار کی۔ اس سے معلوم ہوتا ہے کہ اس خاندان کا اصل مرکز شام تھا، کیونکہ ان کے جد یزید نے وہاں اسلامی فتوحات میں حصہ لیا تھا۔ کچھ روایات کے مطابق اس خاندان کی اصل ہسپانوی بھی بتائی جاتی ہے۔[18]، [19]، .[20]
یہ خاندان خلافتِ حکم المستنصر کے دور میں اندلس کے معزز اور ممتاز خاندانوں میں شمار ہونے لگا۔ انھوں نے “منت لیشم” نامی ایک مکمل بستی بھی اپنے قبضے میں لے لی تھی۔ یہ واضح نہیں کہ اسے خلف بن معدان نے حاصل کیا یا ان کی اولاد نے، لیکن اس سے اس خاندان کی ذہانت اور تدبیر کا اندازہ ہوتا ہے، جو بعد میں احمد بن سعید اور ان کے بیٹے ابن حزم میں بھی نمایاں رہی۔ [21]
احمد بن سعید اس خاندان کے نمایاں افراد میں سے تھے اور گویا اس کی شان و اقتدار کے بانی تھے۔ ابن حیان نے ان کے بارے میں کہا: “وہ اپنے زمانے کے مضبوط وزیر، متوازن رائے رکھنے والے تھے… انھوں نے اپنی زندگی کے آخر میں اپنے لیے ایک بلند مقام قائم کیا اور اسے دانائی، معرفت، چالاکی اور مردانگی جیسی اعلیٰ صفات سے مضبوط کیا۔” ان اوصاف کے ساتھ ساتھ بنو امیہ کے ساتھ ان کی وابستگی اور ان کے امرا و خلفاء سے گہری وفاداری نے انھیں 381ھ/991ء میں المنصور بن ابی عامر کا وزیر بنوایا۔ المنصور کو ان پر اس قدر اعتماد تھا کہ اپنی غیر موجودگی میں انھیں سلطنت کا قائم مقام مقرر کر دیتے تھے اور اپنی مہر بھی ان کے سپرد کر دی تھی۔[22]، [23]
احمد بن سعید کی ایک علمی مجلس ہوا کرتی تھی جس میں بڑے بڑے علما اور شعرا شریک ہوتے تھے، جیسے ابو عمر بن حبرون اور خلف بن رضا۔ وہ خود بھی شعر و ادب میں گہری مہارت رکھتے تھے اور بلاغت میں ان کا مقام بہت بلند تھا۔ وہ اس بات پر حیرت کرتے تھے کہ کوئی شخص گفتگو میں غلطی کرے یا لکھائی میں غیر مناسب لفظ استعمال کرے۔ [24]ان کی اسی علمی اور ادبی تربیت کا اثر ان کے بیٹے ابن حزم پر بھی پڑا، جس کی وجہ سے ابن حزم کو زبان، ادب اور شعر میں بڑی مہارت حاصل ہوئی۔ احمد بن سعید کی فصاحت و بلاغت کا انداز ایسا تھا کہ وہ دلوں کو متاثر کر دیتا تھا اور نفوس کی گہرائیوں تک اثر کرتا تھا۔ ان کا اسلوب آسان مگر بلیغ تھا، جس میں غیر ضروری باتیں نہیں ہوتیں، بلکہ وہ لطافت، خوبصورتی اور خوش مزاجی سے بھرپور ہوتا تھا۔ [25]
احمد بن سعید اندلس میں فتویٰ دینے کی علمی تحریک میں بھی شریک تھے اور یہ کام ان کے علمی مجالس اور اپنے محل میں ہونے والے مناظروں کے ذریعے انجام پاتا تھا۔ ابن عماد نے ان کے بارے میں کہا: “وہ ایک مفتی تھے، زبان و لغت کے ماہر اور علمِ لسان میں گہری بصیرت رکھنے والے تھے۔” یہ بات واضح کرتی ہے کہ احمد بن سعید نے اپنے بیٹے ابن حزم پر گہرا اثر ڈالا۔ ابن حزم نے قرآن و حدیث کی تشریح اور فتویٰ دینے میں زبان کے ظاہری معنی پر اعتماد کیا۔ اسی وجہ سے ان کے والد کو ان کے ظاہری منہج کی تشکیل کا ایک اہم سبب سمجھا جاتا ہے، اگرچہ ابن حزم بنیادی طور پر مالکی مسلک سے تعلق رکھتے تھے۔ [26]، [27]
احمد بن سعید، المنصور بن ابی عامر کے بعد اس کے بیٹے مظفر اور اس کے بھائی عبد الرحمن شنجول کے بھی وزیر رہے، یہاں تک کہ محمد المہدی کے دور میں انھیں اپنے منصب سے معزول کر دیا گیا۔ اس کے بعد وہ “منیہ مغیرہ” چھوڑ کر، جو درباری اہلکاروں کا علاقہ تھا، اپنے پرانے گھر “بلاط مغیث” میں چلے گئے اور سیاسی ہنگاموں سے دور ہو گئے۔ جب ذو الحجہ 400ھ / 1010ء میں المہدی کے قتل کے بعد ہشام المؤید کو دوبارہ خلیفہ مانا گیا، تو احمد بن سعید کا سامنا سپہ سالار “واضح” سے ہوا، جس نے انھیں گرفتار کیا، ان کا پیچھا کیا اور ان کا مال و دولت ضبط کر لیا۔ اسی دور میں بنو حزم پر مسلسل فتنوں اور مصیبتوں کا سلسلہ جاری رہا، یہاں تک کہ احمد بن سعید کی وفات ذو القعدہ 402ھ / 1012ء میں ہو گئی۔ ان مصیبتوں کا گہرا اثر ابن حزم پر بھی پڑا، جس نے ان کے اندر غم و افسردگی کو بڑھایا اور یہی کیفیت ان کی تحریروں میں نمایاں سختی اور شدت کی صورت میں ظاہر ہوتی ہے۔ [28]
ابن حزم کی والدہ کے بارے میں تمام تاریخی مصادر خاموش ہیں اور خود ابن حزم نے بھی اپنی کسی تصنیف میں ان کا ذکر نہیں کیا۔ اسی وجہ سے محققین کے درمیان ان کی اصل و نسب کے بارے میں اختلاف پایا جاتا ہے اور یہ مسئلہ آج تک حل نہیں ہو سکا۔ اسی تناظر میں بعض محققین ابن حزم کے بعض قریبی رشتہ داروں کے ساتھ تعلقات اور ان کے فکری و نفسیاتی اثرات کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ ان میں خاص طور پر ان کے چچا زاد ابو مظفر عبد الوہاب کا ذکر اہم ہے۔ ابتدا میں ان دونوں کے درمیان محبت اور خط کتابت کا سلسلہ تھا، لیکن بعد میں ان کے درمیان اختلاف پیدا ہو گیا۔ [29]اس اختلاف کی وجہ وہ کتاب بنی جو ابو مظفر تک پہنچی، جس میں ابن حزم کی بعض آراء کو ظلم، بہتان اور ضد پر مبنی قرار دیا گیا تھا۔ اس واقعے نے ابن حزم پر گہرا اثر ڈالا۔ [30] اس سے ان کے اندر خود اعتمادی کے ساتھ ساتھ سختی اور شدت بھی پیدا ہوئی، کیونکہ انھیں یہ احساس ہوا کہ ان کے قریبی رشتہ دار بھی ان کے مخالف ہو گئے ہیں۔ اس کے بعد ان کے پاس کوئی مضبوط سہارا نہ رہا اور وہ زیادہ تر اپنے ہی اعتماد اور انفرادی شخصیت پر انحصار کرنے لگے۔
ابن حزم نے اپنے خاندان کے بارے میں ایک کتاب تصنیف کی تھی جس کا نام تھا: “تواریخ اعمامه و ابیہ و اخواته و بنیه و بناته، موالیدهم وتاریخ من مات منهم فی حیاته”۔ اس کتاب سے معلوم ہوتا ہے کہ ان کے بیٹے اور بیٹیاں دونوں تھے، لیکن بیٹیوں کے بارے میں ہمیں کوئی تفصیل نہیں ملتی، کیونکہ یہ کتاب ضائع ہو چکی ہے اور موجودہ مصادر میں بھی ان کا ذکر نہیں ملتا۔ اگر یہ کتاب محفوظ رہتی تو اس سے ان کی بیٹیوں کے شوہروں اور ان کے خاندانوں کے بارے میں بھی معلومات حاصل ہو سکتی تھیں اور یہ بھی معلوم ہو سکتا تھا کہ ان رشتہ داروں نے ابن حزم کے علمی ورثے پر کیا اثر ڈالا کیا انھوں نے ان کی حمایت کی یا مخالفت کی، جیسا کہ بعض دوسرے مخالفین نے کیا۔ ان کے بیٹوں میں چار کے نام معلوم ہیں: ابو رافع الفضل، ابو اسامہ یعقوب، ابو سلیمان مصعب اور سعید ۔ یہ سب ظاہری مسلک کے پیرو تھے۔
ابن حزم اور ان کے والد قرطبہ میں رہتے تھے اور وہاں انھیں بڑی عزت حاصل تھی۔ ان کے والد احمد بن حزم ، حاجب منصور بن ابی عامر کے وزراء میں شامل تھے، جو اندلس کے بڑے حکمرانوں میں سے تھا۔ اس وجہ سے ابن حزم کو معاشی تنگی کا سامنا نہیں کرنا پڑا اور وہ علم و فن کے حصول میں مصروف ہو گئے۔[31] انھوں نے 25 سال کی عمر میں “طوق الحمامہ” تصنیف کی۔ وہ غیر معمولی ذہانت کے مالک تھے اور ان کے پاس اپنے والد کی ایک قیمتی علمی لائبریری بھی موجود تھی۔ ابتدائی دور میں انھوں نے المنصور کے بیٹے مظفر کے دورِ حکومت میں وزارت بھی کی، لیکن بعد میں وہ سیاست سے کنارہ کش ہو کر مکمل طور پر علم و تحقیق میں مشغول ہو گئے۔ [32]

مناصب
[ترمیم]- ابن حزم نے بلنسیہ میں المرتضیٰ کے لیے وزارت کا منصب سنبھالا۔ جب المرتضیٰ کو شکست ہوئی تو ابن حزم قید ہو گئے، یہ واقعہ تقریباً 409ھ کے وسط میں پیش آیا۔ بعد ازاں انھیں رہائی ملی اور وہ قرطبہ واپس آ گئے۔
- رمضان 412ھ میں انھوں نے اپنے دوست عبد الرحمن المستظہر باللہ کے لیے وزارت سنبھالی، مگر یہ منصب زیادہ دیر قائم نہ رہ سکا۔ اسی سال ذی الحجہ میں المستظہر قتل کر دیے گئے، جس کے بعد ابن حزم کو قید کر لیا گیا، پھر انھیں معاف کر دیا گیا۔
- اس کے بعد انھوں نے 418ھ سے 422ھ کے درمیان ہشام المعتد کے دور میں بھی وزارت کے فرائض انجام دیے۔
علمی مقام و مرتبہ
[ترمیم]ابن حزم اندلسی قرطبہ میں ایک بلند علمی مقام رکھتے تھے اور ان کے لیے وہاں یادگار بھی قائم ہے۔ وہ مجتہدِ مطلق اور بڑے حافظِ حدیث تھے۔ ابتدا میں فقہِ شافعی سے وابستہ رہے، مگر بعد میں انھوں نے ظاہری مسلک اختیار کیا۔ عقائد کے بعض مسائل، خصوصاً اسماء و صفات کے باب میں، انھوں نے سلفی موقف سے موافقت کی، جبکہ بعض امور میں اختلاف بھی کیا اور یہ سب ان کے ذاتی اجتہاد پر مبنی تھا۔ انھوں نے شیعہ ، یہود، نصاریٰ، صوفیہ اور خوارج کے رد میں بھی متعدد کتب و رسائل تصنیف کیے۔[33]
ابن حزم نے جس چیز کو منظم صورت دی، وہ عام طور پر “مذہبِ ظاہری” کے نام سے معروف ہے۔ یہ مسلک فقہی قیاس کو رد کرتا ہے اور اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہر شرعی حکم کے لیے قرآن یا سنت سے واضح دلیل موجود ہو۔ تاہم محض اسی پہلو سے انھیں دیکھنا ان کے علمی مقام کے ساتھ انصاف نہیں، کیونکہ بہت سے محققین کے نزدیک وہ اسلامی فکر کی ازسرِ نو تشکیل کا ایک جامع منصوبہ رکھتے تھے، جس میں فقہ اور اصولِ فقہ دونوں شامل تھے۔ [34]
امام ابن حزم اندلسی کتاب، سنت اور اجماعِ صحابہ کی پابندی کی دعوت دیتے تھے اور دین میں ان کے علاوہ مصادر کو قبول نہیں کرتے تھے۔ وہ قیاس، استحسان اور مصالحِ مرسلہ کو رد کرتے تھے، کیونکہ ان کے نزدیک یہ محض ظن پر مبنی ہیں۔ البتہ ان کے اور جمہور علما کے درمیان “علّت” (حکم کی وجہ) اور اس کی حجیت کے بارے میں اختلاف کو کسی حد تک کم سمجھا جا سکتا ہے، اگر یہ بات سامنے رکھی جائے کہ اس اختلاف کا ایک بڑا حصہ محض لفظی یا اصطلاحی نوعیت کا ہے۔ خود ابن حزم نے اس طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا:[35]
| ” | “ہر بلا، اندھی پن، خلط ملط اور فساد کی اصل ناموں کا اختلاط ہے اور ایک ہی لفظ کا متعدد معانی پر دلالت کرنا ہے۔ چنانچہ بولنے والا ایک لفظ استعمال کرتا ہے اور اس سے ایک خاص معنی مراد لیتا ہے، جبکہ سننے والا اسے کسی اور معنی پر محمول کر لیتا ہے، یوں اشکال اور اختلاف پیدا ہو جاتا ہے۔” | “ |
جرأت اور مخالفین
[ترمیم]ابن حزم اندلسی اپنی جرأتِ اظہار اور سخت تنقیدی اسلوب کے لیے مشہور تھے۔ ابن قیم جوزیہ ان کی کتب اور آثار کا گہرا مطالعہ رکھتے تھے اور انھیں “منجنیق العرب”[36] یا “منجنیق الغرب” کہا کرتے تھے۔[37][38] لوگوں میں ان کی زبان کی تیزی ضرب المثل بن گئی تھی، یہاں تک کہا جاتا تھا: “حجاج کی تلوار اور ابن حزم کی زبان دو بھائی ہیں۔” ابن حزم مناظروں میں، خاص طور پر اندلس کے مالکی علما کے ساتھ، نہایت سخت انداز اختیار کرتے تھے۔ اسی شدت کی وجہ سے بہت سے علما ان سے بدظن ہو گئے اور ان کے مخالفین کی تعداد بڑھ گئی۔[39][40][41]
ان کے معاصر بعض فقہا، جو مناصب سے فائدہ اٹھاتے تھے، ان کے خلاف ہو گئے اور انھوں نے المعتضد بن عباد کو ان کے خلاف ابھارا۔[42] چنانچہ اس نے حکم دیا کہ ابن حزم کے مکانات منہدم کیے جائیں، ان کا مال ضبط کیا جائے اور ان کی کتابیں جلا دی جائیں۔ مزید یہ کہ انھیں اپنے آبائی علاقے “منت لیشم” (لبلہ کے قریب) تک محدود کر دیا گیا، وہاں سے نکلنے اور فتویٰ دینے پر پابندی عائد کر دی گئی اور جو کوئی ان سے ملے اسے سزا کی دھمکی دی گئی۔ اسی مقام پر وہ 1064ء میں وفات پا گئے۔ جب ان کی کتابیں جلائی گئیں تو انھیں شدید صدمہ پہنچا اور اسی موقع پر انھوں نے اپنے مشہور اشعار کہے۔[43]
| إن تحرقوا القرطاس لا تحرقوا الذي | تضمنه القرطاس بل هو في صدري | |
| يقيم معي حيث استقلت ركائبي | وينزل إن أنزلويدفن في قبري | |
| دعوني من إحراق رق وكاغد | وقولوا بعلم كي يرى الناس من يدري | |
| وإلاّ فعدوا بالكتاتيب بدءة | فكم دون ما تبغون لله من ستر | |
| كذاك النصارى يحرقونإذا علت | أكفهم القرآن في مدن الثغر |
مشایخِ ابن حزم
[ترمیم]ابن حزم اندلسی نے بہت کم عمری میں علم حاصل کرنا شروع کر دیا تھا، جس کی بدولت انھیں اپنے زمانے کے بڑے علما سے استفادہ کرنے کا موقع ملا۔ ان کے گھرانے اور خصوصاً ان کے والد نے بھی ان کی علمی تربیت میں اہم کردار ادا کیا، جس سے وہ مختلف علوم کے ماہر اساتذہ سے فیض یاب ہوئے۔
ان کے مشہور اساتذہ کی فہرست اور ہر ایک سے حاصل کردہ علوم الگ طور پر بیان کیے جاتے ہیں۔ یہ بات قابلِ توجہ ہے کہ ابن حزم کی فقہی، حدیثی اور کلامی تعلیم کا آغاز بہت ابتدائی عمر میں ہی ہو گیا تھا، یعنی قرطبہ چھوڑنے سے پہلے ہی وہ ان علوم میں مہارت حاصل کرنے لگے تھے۔ یہ حقیقت اس مشہور روایت کی تردید کرتی ہے جس میں کہا جاتا ہے کہ انھوں نے 26 سال کی عمر کے بعد علم حاصل کرنا شروع کیا، کیونکہ شواہد اس کے برعکس ہیں کہ وہ ابتدا ہی سے علمی سرگرمیوں میں مشغول تھے۔
علما کے اقوال (حامیوں کی آراء)
[ترمیم]ابن حزم اندلسی کے بارے میں ان کے موافق علما میں الحمیدی کا بیان خاص طور پر اہم ہے۔
- الحمیدی کہتے ہیں کہ ابن حزم حدیث کے حافظ، علومِ حدیث کے ماہر اور قرآن و سنت سے احکام مستنبط کرنے والے بڑے عالم تھے۔ وہ متعدد علوم میں مہارت رکھتے تھے اور علم پر عمل کرنے والے، دنیا سے بے رغبت اور زہد اختیار کرنے والے انسان تھے، خاص طور پر اس وزارت و ریاست کے بعد جو ان کے اور ان کے والد کے پاس رہی۔ وہ نہایت متواضع اور کثیر الفضائل شخصیت تھے۔ انھوں نے حدیث کے میدان میں بہت سی کتب جمع کیں اور ان میں سے ایک بڑی کتاب “الایصال الی فہم کتاب الخصال” لکھی، جس میں فقہی مسائل پر صحابہ، تابعین اور ائمہ کے اقوال، دلائل اور احادیث کو صحیح و ضعیف روایات کے ساتھ بیان کیا گیا ہے۔ اسی طرح ان کی مشہور تصنیفات میں: الاحکام فی اصول الاحکام ، الفصل فی الملل والاہواء والنحل ، الاجماع کے مسائل پر کتاب علوم کے مراتب اور ان کے طریقۂ حصول پر کتاب یہود و نصاریٰ کی تحریفات پر کتاب ، منطق کے اصول کو آسان بنانے والی کتاب (التقریب) الحمیدی مزید کہتے ہیں کہ ابن حزم جیسا ذہین، تیز حافظہ رکھنے والا، سخی النفس اور دیندار شخص انھوں نے نہیں دیکھا۔ وہ بدیہی طور پر شعر کہنے میں بھی بہت تیز تھے اور ان کا کلام بہت زیادہ ہے۔ ان کی پیدائش 384ھ میں قرطبہ میں ہوئی اور ان کی وفات 450ھ کے بعد ہوئی۔:[44]
- احمد محمد مقری تلمسانی نے ایک واقعہ نقل کرتے ہوئے کہا کہ “ابن حزم نے طوق الحمامة میں یوں فرمایا…”، اگرچہ یہ روایت موجودہ نسخے میں موجود نہیں، لیکن مقری کے بیان کو اس لیے معتبر سمجھا جا سکتا ہے کہ موجودہ نسخہ مکمل نہیں ہے اور خود ناسخ کے مطابق اس میں اشعار کو کم کر دیا گیا ہے۔[45] [46]
- ابن عماد حنبلی نے کہا کہ ابن حزم ذہانت، تیز فکری، وسیع علم، قرآن و سنت، مذاہب، ادیان، لغت، ادب، منطق اور شعر میں انتہا درجے کی مہارت رکھتے تھے، ساتھ ہی صداقت، دینداری، وقار، ریاست اور کثرتِ کتب کے مالک تھے۔[47]
- ابو حامد الغزالی نے کہا: “میں نے اسماء الحسنیٰ پر ابن حزم کی ایک کتاب دیکھی جو ان کے عظیم حافظہ اور تیز ذہن کی دلیل ہے۔”
- ابو قاسم صاعد الاندلسی نے طبقات الامم میں لکھا کہ ابن حزم اندلس کے سب سے زیادہ جامع العلم شخص تھے اور وہ عربی زبان، بلاغت، شعر، تاریخ اور سیر میں بھی وسیع علم رکھتے تھے۔ ان کے بیٹے الفضل کے مطابق ان کی تصانیف تقریباً 400 جلدوں پر مشتمل تھیں جن میں قریباً 80,000 صفحات شامل تھے۔[48]
- ابن حزم اندلسی کے بارے میں ابن خلكان بیان کرتے ہیں کہ وہ حدیث کے حافظ، قرآن و سنت سے احکام مستنبط کرنے والے عالم تھے۔ وہ ابتدا میں شافعی المذہب تھے، بعد میں اہلِ ظاہریہ کے مسلک کی طرف منتقل ہوئے۔ وہ مختلف علوم میں مہارت رکھتے تھے، اپنے علم پر عمل کرنے والے، دنیا سے بے رغبت اور وزارت و ریاست کے بعد زہد اختیار کرنے والے تھے۔ وہ نہایت متواضع، کثیر الفضائل اور کثیر التصانیف تھے۔ ابن خلكان کے مطابق انھوں نے حدیث، فقہ اور دیگر علوم پر متعدد کتابیں تصنیف کیں، جن میں: الایصال الى الفہم ، الخصال الجامعہ ، مراتب العلوم اور ان کے طریقۂ حصول پر کتاب ، یہود و نصاریٰ کی تحریفات پر کتاب ، منطق پر کتاب “التقریب” اور دیگر بے شمار تصانیف شامل ہیں ۔ [49]
- اسی طرح محمد صدیق حسن خان قنوجی بھی ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ابن حزم وسیع العلم، زاہد، متواضع اور کثیر التصانیف تھے۔ انھوں نے فقہ الحدیث پر ایک بڑی کتاب لکھی جس میں صحابہ، تابعین اور ائمہ کے اقوال اور دلائل جمع کیے گئے۔ تاہم وہ یہ بھی ذکر کرتے ہیں کہ ابن حزم بعض اوقات متقدمین علما پر سخت نقد کرتے تھے، جس کی وجہ سے ان کے مخالفین بڑھ گئے اور فقیہانِ وقت نے ان کے خلاف رائے قائم کر لی۔ نتیجتاً ان کے بارے میں نفرت پیدا ہوئی، ان کی آراء رد کی گئیں اور انھیں اپنے علاقے سے دور کر دیا گیا۔[50]}
- ابن حزم اندلسی کے بارے میں ابن مفلح کہتے ہیں کہ وہ ذہانت، حفظ اور وسیع علم میں بلند ترین مقام رکھتے تھے۔ وہ مختلف علوم میں مہارت رکھتے تھے اور ان کی کئی شاندار تصانیف موجود ہیں، حتیٰ کہ منطق جیسے علوم پر بھی۔ ان کی کتاب “المحلیٰ” بارہ جلدوں میں ہے، جس میں انھوں نے امام احمد کے ادب اور ان کی پیروی کو نمایاں طور پر بیان کیا ہے۔
- العز بن عبد السلام نے کہا:“میں نے اسلام کی کتب میں علم کے اعتبار سے ابن حزم کی کتاب المحلیٰ اور ابن قدامہ کی المغنی جیسی کوئی کتاب نہیں دیکھی۔”[51]
- ابن بشکوال ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ ابن حزم اندلس کے تمام علما میں سب سے زیادہ جامع العلم تھے اور زبان، بلاغت، شعر، سیرت اور تاریخ میں بھی وسیع مہارت رکھتے تھے۔ ان کے بیٹے ابو رافع الفضل کے مطابق ان کی تصانیف تقریباً 400 جلدوں پر مشتمل تھیں، جن میں قریباً 80,000 صفحات شامل تھے۔[52]
- ابن حزم اندلسی کے بارے میں عبد الواحد بن علی المراکشی لکھتے ہیں کہ انھوں نے وزارت کو چھوڑ کر علم و تحقیق کی طرف مکمل توجہ دی۔ انھوں نے قراءاتِ آثار اور سنت کے علوم میں وہ مقام حاصل کیا جو ان سے پہلے اندلس میں کسی کو نصیب نہیں ہوا۔ وہ ابتدا میں امام شافعی کے مذہب پر تھے، پھر ظاہری مذہب کی طرف منتقل ہوئے اور اس میں اس قدر آگے بڑھے کہ انھوں نے ابو سلیمان داود ظاہری سے بھی برتری حاصل کی۔ ان کی تصانیف فقہ، اصول، تاریخ، نسب، ادب، ملل و نحل اور ردود میں تقریباً 400 جلدوں تک پہنچتی ہیں، جو قریباً 80,000 صفحات پر مشتمل ہیں۔ عبد الواحد المراکشی مزید کہتے ہیں کہ اندلس میں ان سے پہلے اتنی وسعت علمی کے ساتھ کوئی مصنف نہیں تھا، سوائے ابن جریرلطبری کے، جنھیں اسلامی تاریخ کا سب سے زیادہ تصنیف کرنے والا عالم سمجھا جاتا ہے۔ انھوں نے یہ بھی بیان کیا کہ ابن حزم کے علمِ نحو، لغت، شعر اور خطابت میں بھی بڑا حصہ تھا اور وہ اپنے زمانے میں اندلس کے سب سے زیادہ مشہور علما میں شمار ہوتے تھے، خاص طور پر ان کے ظاہری مسلک اور امام مالک کی مخالفت کی وجہ سے ان کا ذکر زیادہ ہوتا تھا۔[53]
- اسی طرح جلال الدین سیوطی کہتے ہیں کہ ابن حزم صاحبِ فنون، زاہد، متقی، نہایت ذہین اور وسیع العلم تھے اور اندلس کے سب سے جامع علم رکھنے والے اہلِ علم میں شمار ہوتے ہیں۔[54]
- ابن حزم اندلسی کے بارے میں امام شمس الدین ذہبی کہتے ہیں کہ وہ “امامِ یگانہ، بحرِ علم اور مختلف علوم و معارف کے ماہر تھے”۔ وہ فقیہ، حافظ، متکلم، ادیب، وزیر اور ظاہری مسلک کے بڑے نمائندہ تھے۔ ذہبی ان کے علمی مقام کو بہت بلند قرار دیتے ہیں اور ان کے والد اور خاندان کی وزارت و ریاست کا بھی ذکر کرتے ہیں۔ وہ یہ بھی بیان کرتے ہیں کہ ابن حزم کی علمی وسعت بہت عظیم تھی اور انھوں نے مختلف علوم میں تصانیف کیں، اگرچہ بعض علما جیسے ابو بکر ابن العربی نے ان پر نقد بھی کیا۔
- اسی طرح الفیروزآبادی ان کے بارے میں لکھتے ہیں کہ وہ علوم کے امام تھے، انھوں نے وزارت چھوڑ کر تصنیف و تدریس کو اختیار کیا اور بے شمار کتب لکھیں، جن میں فقہ، اصول، حدیث، منطق، ادب، تاریخ، فلسفہ اور دیگر علوم شامل ہیں۔ [55]
- ابن کثیر کہتے ہیں کہ ابن حزم نے قرآن و علومِ شرعیہ کی تعلیم حاصل کی، اپنے زمانے کے علما پر فوقیت حاصل کی اور تقریباً 400 جلدوں پر مشتمل کتابیں تصنیف کیں۔ وہ ادیب، شاعر، طبیب اور منطق کے ماہر بھی تھے اور ان کا تعلق ایک صاحبِ ریاست اور بااثر خاندان سے تھا۔
ابن حزم کے ناقدین (منتقدین)
[ترمیم]ابن حزم اندلسی کے علمی مقام کے باوجود متعدد علما نے ان پر نقد بھی کیا ہے۔
- ابن العربی مالکی نے اپنی کتاب العواصم من القواصم میں ظاہریہ مکتب اور ابن حزم دونوں پر سخت تنقید کی۔ ان کے مطابق ابن حزم بعض اوقات اہلِ علم پر سخت الفاظ استعمال کرتے، اہلِ علم کی آراء کو کمزور انداز میں پیش کرتے اور صرف ظاہر پر اصرار کرتے ہوئے دیگر فقہی و اصولی پہلوؤں کو رد کر دیتے تھے۔
- اسی طرح ابن تیمیہ نے ابن حزم کے بارے میں ایک معتدل رائے دی۔ وہ لکھتے ہیں کہ ابن حزم ایمان اور حدیث کے باب میں دیگر کئی علما سے زیادہ مضبوط تھے اور حدیث کی تعظیم کرتے تھے، لیکن وہ بعض اوقات فلسفیوں اور معتزلہ کے بعض اقوال سے متاثر ہو گئے، جس کی وجہ سے وہ صفاتِ الٰہی کے مسائل میں اہلِ حدیث کے طریقے سے مکمل طور پر موافقت نہیں کر سکے۔ ابن تیمیہ کے مطابق ابن حزم کے ہاں ظاہر پرستی کی شدت اور بعض اوقات سخت کلامی بھی پائی جاتی ہے، لیکن اس کے باوجود وہ وسیع علم اور حدیث کی معرفت میں نمایاں مقام رکھتے ہیں۔ [56]
- ابن العریف نے کہا:“ابن حزم کی زبان اور حجاج کا تلوار ایک دوسرے کے مانند تھے (یعنی دونوں میں سختی اور شدت پائی جاتی تھی)۔”[57]
- اسی طرح دیگر علما جیسے ابو عمرو الدانی اور ابو الولید باجی کے درمیان بھی ان سے علمی اختلافات اور مناظرے مشہور ہیں۔ ان اختلافات کی بنیاد فقہی منہج اور اجتہادی طریقہ کار تھا۔ امام شمس الدین ذہبی کے مطابق ابو عمرو الدانی قول کے اعتبار سے زیادہ درست اور سنت کے زیادہ پیرو تھے، جبکہ ابن حزم علمی وسعت کے لحاظ سے زیادہ جامع تھے اور ان کی تصانیف ابو عمرو سے کہیں زیادہ پھیلی ہوئی تھیں، حتیٰ کہ بعض کے مطابق ابن حزم کی کتب کا دائرہ ابو عمرو کی تصانیف سے کہیں وسیع تھا۔
- ابو بکر محمد بن حیدرہ معافری شاطبی نے بھی ابن حزم اندلسی پر ایک علمی رد لکھا۔ وہ حدیث، اس کے علل، رجالِ حدیث، ادب اور شعر کے ماہر تھے اور قرطبہ میں ان کی علمی شہرت بہت مضبوط تھی۔[58]
- اور ابن زرقون (ابو الحسن محمد بن ابی عبد اللہ محمد بن سعید الانصاری الاشبیلی) مالکیہ کے بڑے شیخ تھے اور اپنے مذہب میں سخت تعصب رکھنے والوں میں شمار ہوتے تھے۔ بعد میں انھیں بنو عبد المؤمن کی طرف سے تکلیف پہنچائی گئی، کیونکہ انھوں نے قیاس کو باطل قرار دیا اور لوگوں کو صرف آثار اور ظاہر پر عمل کا پابند بنایا۔ انھوں نے ابن حزم کی کتاب المحلیٰ کے رد میں المعلیٰ نامی کتاب لکھی۔ ان کا انتقال شوال 731 ہجری میں 83 سال کی عمر میں ہوا۔[59]
- اور ابن حزم پر اعتراض کرنے والوں میں ابراہیم بن حسن ربعی تونسی بھی شامل ہیں، جو تونس کے قاضی القضاة تھے اور ابو اسحاق کے لقب سے معروف تھے۔ انھوں نے دو جلدوں میں “معین الحکام” لکھی اور ابن حزم پر امام مالک کے بعض اقوال پر اعتراضات کا رد لکھا۔ انھوں نے قاضی ابو الولید ابن رشد کے جوابات کا خلاصہ بھی لکھا۔ ان کا انتقال 734 ہجری میں ہوا اور وہ 99 سال سے کچھ زائد عمر پائی۔ [60]
- اور تاج الدین سبکی نے ابن حزم پر سخت تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ ان کی کتاب الفصل فی الملل والنحل “بری کتابوں میں سے ہے”۔ ان کے مطابق اس کتاب میں اہلِ سنت پر بے بنیاد الزامات لگائے گئے اور ان کی طرف ایسے اقوال منسوب کیے گئے جو انھوں نے نہیں کہے تھے۔ وہ مزید کہتے ہیں کہ ابن حزم نے امام ابو حسن اشعری کے بارے میں بھی سخت باتیں کیں، حتیٰ کہ بعض مقامات پر ان کی بدعت کی طرف نسبت بھی کی۔ تاہم تاج الدین سبکی کے مطابق ابن حزم نے بعض باتیں غلط فہمی کی بنیاد پر نقل کیں، کیونکہ انھیں اشاعرہ کے عقائد صحیح طور پر نہیں پہنچے تھے۔[61]
- اسی طرح ابو بکر ابن حیدرہ شاطبی بھی ابن حزم کے ناقدین میں شامل ہیں۔ وہ حدیث، رجال، ادب اور شعر کے ماہر تھے اور قرطبہ میں معروف محدث تھے۔ انھوں نے ابن حزم کے بعض نظریات پر رد لکھا اور ان کے خلاف علمی موقف اختیار کیا۔[62]
ابن حزم پر کتابیں اور مطالعات
[ترمیم]- “ابن حزم: ان کی زندگی، ان کا دور، ان کی آراء اور فقہ” — محمد ابو زہرہ
- “ابن حزم اور ان کا رسالہ: صحابہ کے درمیان فضیلت کا موازنہ” — سعید الافغانی (دمشق، 1940ء)
ابن حزم کی فقہ و علوم میں بعد کے ادوار میں دلچسپی
[ترمیم]بعد کے ادوار میں ابن حزم اندلسی کے فقہ اور علمی تراث میں دلچسپی رکھنے والوں میں کئی معاصر علما شامل ہیں، جن میں ابو تراب ظاہری، ابو عبد الرحمن بن عقیل ظاہری، محمد ابو زہرہ ، محمد ناصر الدین البانی، مقبل بن ہادی الوادعی اور ادیب سعید افغانی سمیت بہت سے دیگر اہلِ علم شامل ہیں۔
اسی طرح معاصر عرب فلسفی ابو یعرب مرزوقی کے مطابق:
| ” | “یہ اعلیٰ فلسفیانہ مکتب بعد میں ابن تیمیہ اور ابن خلدون کے ذریعے مزید ترقی کرے گا اور ایک ایسی اسلامی نشاۃِ ثانیہ کی بنیاد رکھے گا جو ابھی تک مکمل طور پر ظاہر نہیں ہوئی۔” | “ |
ایک اور عرب فلسفی محمد عابد جابری ، ابن حزم کو اپنے عرب نشاۃِ ثانیہ کے تصور میں ایک بنیادی ستون قرار دیتے ہیں، اگرچہ ان کا تصور ابو یعرب مرزوقی کی رائے سے مختلف ہے۔ الجابری کے نزدیک یہ فکری سلسلہ ابن حزم سے شروع ہوتا ہے، پھر ابن باجہ ، ابن طفیل، ابن رشد، ابو اسحاق الشاطبی اور پھر ابن خلدون تک پہنچتا ہے۔
ان کے مطابق ابن حزم کا تجدیدی فلسفیانہ وژن عرب و اسلامی ورثے کی ہر نئی تعبیر میں ایک بنیادی حیثیت رکھتا ہے، اگرچہ ان کے فقہی مکتب کو روایتی اسلامی مدارس، خصوصاً چار سنی فقہی مذاہب نے سختی سے رد کیا اور اجتہاد کے دروازوں کو محدود سمجھا۔
ابن حزم کو یہ امتیاز بھی حاصل ہے کہ وہ یہودیت اور نصرانیت کے اسلامی تنقیدی مطالعے کے اولین علمبرداروں میں شمار ہوتے ہیں۔ ڈاکٹر احمد عبد مقصود جندی نے ان کی علمی برتری کا ذکر کرتے ہوئے کہا:
| ” | “ابن حزم وہ پہلے شخص تھے جنھوں نے تورات (عہدِ قدیم) پر ایک منظم اور سائنسی تنقیدی منہج پیش کیا۔”[63] | “ |
ابن حزم اندلسی کے اقوال
[ترمیم]- جب تم کسی علمی مجلس میں شریک ہو تو تمھاری حاضری صرف علم اور اجر میں اضافہ کے لیے ہونی چاہیے، نہ کہ اس غرور کے ساتھ کہ تمھیں سب کچھ معلوم ہے یا کسی کی لغزش تلاش کرنے اور اسے پھیلانے کے لیے؛ یہ کم ظرف لوگوں کے کام ہیں جو کبھی علم میں کامیاب نہیں ہوتے۔
- دیندار شخص پر اعتماد کرو، چاہے وہ تمھارے دین پر نہ ہو اور لاپروا شخص پر اعتماد نہ کرو، چاہے وہ تمھارے دین کا دعویٰ کرے۔
- عقل اور راحت کے عظیم دروازوں میں سے ایک یہ ہے کہ لوگوں کی باتوں کی پروا نہ کی جائے اور اللہ تعالیٰ کے کلام کی پروا کی جائے؛ بلکہ یہی مکمل عقل اور مکمل سکون کا راستہ ہے۔
- جو یہ سمجھتا ہے کہ وہ لوگوں کی تنقید اور عیب جوئی سے محفوظ رہے گا، وہ دیوانہ ہے۔
- علوم اور اہلِ علم کے لیے سب سے بڑی آفت وہ لوگ ہیں جو اس میں داخل تو ہو جاتے ہیں مگر اہل نہیں ہوتے؛ وہ جاہل ہوتے ہیں مگر اپنے آپ کو عالم سمجھتے ہیں، بگاڑ پیدا کرتے ہیں مگر اصلاح کا گمان رکھتے ہیں۔
- کل کے کسی کام کو آج کرنے میں حقیر نہ سمجھو، چاہے وہ کم ہی کیوں نہ ہو؛ کیونکہ تھوڑے اعمال جمع ہو کر بہت ہو جاتے ہیں اور اگر انھیں مؤخر کیا جائے تو کبھی سبھی رہ جاتے ہیں۔ اسی طرح کسی نیکی کو معمولی نہ سمجھو جس سے قیامت کے دن تمھارا میزان بھاری ہو سکتا ہو، بلکہ اسے فوراً کر لو، چاہے کم ہو۔
- جو شخص اپنے دشمن اور دوست کو قربت اور مرتبے میں برابر کر دے، وہ نہ لوگوں کی محبت حاصل کر سکتا ہے، نہ دشمنی سے بچ سکتا ہے؛ بلکہ اس کا دشمن اس پر غالب ہو جاتا ہے اور دوست بھی اس سے بددل ہو جاتا ہے۔
- محبت دین میں نہ قابلِ انکار ہے اور نہ شریعت میں ممنوع؛ کیونکہ دل اللہ کے ہاتھ میں ہیں۔
تصانیف
[ترمیم]ابن حزم اندلسی کو امام محمد بن جریر طبری کے بعد سب سے زیادہ تصنیف و تالیف کرنے والے علما میں شمار کیا جاتا ہے۔ انھوں نے ادب میں معروف کتاب “طوق الحمامہ” لکھی اور فقہ اور اصولِ فقہ میں بھی متعدد کتب تصنیف کیں۔ انھوں نے ارسطو کے منطق کی شرح کی اور کئی فلسفیانہ تصورات کو نئے انداز میں پیش کیا۔ بعض اہلِ علم کے نزدیک وہ فلسفہ میں “مذہبِ اسمیہ” کے ابتدائی قائلین میں شمار ہوتے ہیں، جو ارسطوی کلیات کے تصور کو رد کرتا ہے۔ ان کے بیٹے ابو رافع فضل کے مطابق، ابن حزم کی تصانیف (فقہ، حدیث، اصول، تاریخ، ادب وغیرہ میں) تقریباً چار سو جلدوں پر مشتمل تھیں، جن میں لگ بھگ اسی ہزار صفحات شامل تھے۔[64] ذیل میں ان کی بعض کتابوں کی فہرست پیش کی جاتی ہے:[65][66]
| کتاب | کتاب | کتاب |
|---|---|---|
| الفصل فی الملل والاہواء والنحل | المحلى شرح المجلى | طوق الحمامة |
| الإحكام فی اصول الاحکام | الاخلاق و السیر | التلخیص لوجوہ التخلیص |
| الرسالة الباہرة | قیاس، رائے، استحسان اور تقلید کے ابطال کا خلاصہ | الایصال الی فہم کتاب الخصال (مفقود) |
| الخصال: جامع احکامِ شریعت (مفقود) | وہ مسائل جن میں امام مالک، ابو حنیفہ اور شافعی منفرد ہیں (مفقود) | الفقہ کا جائزہ (مفقود) |
| شرح مؤطا (املا) (مفقود) | قواعدِ فقہ ظاہریہ (مفقود) | مراتب الإجماع |
| الرسالة البلقاء فی الرد علی عبد الحق الصقلی (مفقود) | الفصل پر اعتراضات کا رد | ابلیس اور مشرکین کے شبہات کا رد |
| ابن زکریا رازی پر رد | متأولین کی تکفیر کرنے والوں کا رد | عللِ حدیث پر مختصر رسالہ |
| عام فہم الفاظ میں منطق کی تعریف | الاستجلاب (مفقود) | نسبِ بربر (مفقود) |
| نقط العروس | پانچ فقہا (مالک، ابو حنیفہ، شافعی، احمد، داود) کے اختلافات (مفقود) | النبذ فی اصول الفقہ الظاہری |
تاریخ، نسب اور سیاست
[ترمیم]- جوامع السيرة النبوية — متعدد مرتبہ شائع ہو چکی ہے۔
- رسالة في القراءات المشهورة في الأمصار
- رسالة أسماء الصحابة والرواة وما لكل واحد من العدد
- رسالة أصحاب الفتيا من الصحابة ومن بعدهم على مراتبهم في كثرة الفتيا
- رسالة جمل فتوح الإسلام بعد الرسول (تقریباً 431ھ / 1039ء یا اس کے بعد تصنیف)
- رسالة في أسماء الخلفاء والولاة وذكر عددهم (یا تو 426ھ / 1034ء یا 446ھ / 1054ء میں تصنیف)
- یہ پانچوں رسائل "جوامع السيرة" کے ساتھ شائع ہوئے۔
- رسالة جمل من التاريخ (اسی زمانے میں لکھی گئی، بعض حصے شائع ہو چکے ہیں)
- رسالة أمهات الخلفاء (422ھ / 1030ء کے بعد)
- نقط العروس في تواريخ الخلفاء (450ھ / 1058ء سے پہلے، بعد میں 452ھ میں ترمیم)
- رسالة في فضل الأندلس وذكر رجالها (قلعہ البونت میں 422ھ / 1030ء یا اس کے بعد)
- رسالة فی ذكر أوقات الأمراء أو أيامهم بالأندلس (445ھ / 1053ء کے بعد)
- جمہرة انساب العرب (446ھ / 1054ء کے بعد تصنیف)
ابنِ حزم کی تاریخی مفقود تصانیف
[ترمیم]- اپنے چچا زادوں، والد، بہنوں، بیٹوں اور بیٹیوں کے حالات و تاریخِ ولادت و وفات پر مشتمل کتاب (جن میں ان کی زندگی میں وفات پانے والوں کا ذکر بھی شامل تھا)
- اپنے شاگرد شریح کے لیے اجازت نامہ (اجازہ)
- اپنے شاگرد الحسين بن عبد الرحيم کے لیے اجازت نامہ (اجازہ)
- کتاب طبقات القراء — اس کی ابتدا صحابہ کرام سے کی گئی تھی۔ ابن حجر عسقلانی نے اپنی کتاب الإصابة میں اس سے نقل کیا ہے۔
- کتاب الفضائح — جس میں بربر قوم کی بعض فضائح بیان کی گئیں۔ غالباً یہ 403ھ / 1013ء میں قرطبہ پر بربروں کے حملے کے بعد تصنیف ہوئی۔
- کتاب الشعراء المقدمين
- کتاب الإمامة والمفاضلہ
- نسب البربر (ایک جلد میں)
- رسالة مراتب العلماء وتواليفہم (مختصر رسالہ)
- الرسالة اللازمہ لأولى الأمر
- تسميہ شيوخ مالک
- تسمية الشعراء الوافدين على ابن ابی عامر
- غزوات المنصور بن ابی عامر
- فهرسہ شيوخ ابن حزم
- کتاب فی جملہ من دخل الاندلس من المغرب
ابنِ حزم کی فقہ اور اصولِ فقہ سے متعلق تصانیف
[ترمیم]- المحلّى بالآثار شرح المجلى بالاختصار
یہ بارہ جلدوں پر مشتمل کتاب ہے۔ ابن حزم اسے مکمل نہ کر سکے اور مسئلہ نمبر 2023 تک پہنچ کر وفات پا گئے۔ بعد میں ان کے بیٹے الفضل نے اپنے والد کی کتاب الإيصال کی مدد سے اسے مکمل کیا۔ یہ کتاب کئی بار شائع ہو چکی ہے۔
- الإحكام في أصول الأحكام :یہ آٹھ حصوں پر مشتمل دو مجلدات میں ہے اور متعدد بار طبع ہو چکی ہے۔
- النبذہ الكافية في أحكام أصول الدين :یہ کتاب “الإحكام” کا مختصر خلاصہ ہے اور کئی بار شائع ہوئی ہے۔
- مراتب الإجماع في العبادات والمعاملات والاعتقادات :یہ کتاب بھی کئی مرتبہ طبع ہو چکی ہے۔
- إبطال القياس والرأی والتقليد :یہ کتاب محمد سعید بدری کی تحقیق کے ساتھ شائع ہوئی۔
- رسالة ملخص إبطال القياس والرأي والاستحسان والتقليد والتعليل :اسے سعید افغانی نے دمشق میں شائع کیا۔
- حجة الوداع یہ کتاب کئی بار شائع ہوئی ہے۔
- رسالة في الرد على الهاتف من بعد
- رسالة التوقيف على شارع النجاة :یہ تینوں رسائل “التقریب” کے بعد تصنیف ہوئیں۔
- رسالة التلخيص لوجوه التخليص (426ھ کے بعد)
- رسالة البيان عن حقيقة الإيمان (440ھ کے بعد)
- رسالة الإمامة
- رسالة فی حكم من قال إن ارواح اہل الشقاء معذبہ الى يوم القيامہ
- رسالة فی الألفاظ التي تجري بين المتكلمين في الأصول
- رسالة فی الغناء: کیا یہ مباح ہے یا حرام؟
- نبذة فی البيوع
- رسالة فی ألم الموت وإبطالہ
- ظل العمامہ وطوق الحمامة فی فضل القربة والصحابہ (اس کی نسبت میں اختلاف ہے)
- رسالة نكت الإسلام (اصل عربی متن مفقود ہے، صرف ہسپانوی ترجمہ موجود ہے)
- كتاب المجلى (المحلی کا اصل متن)
- الإعراب عن الحيرة والالتباس في مذاهب اہل الرأی والقياس (دو جلدیں)
- كتاب الإيصال في شرح الخصال الجامعہ (تقریباً 40 جلدیں، بڑی حد تک مفقود)
- الرسالة (36 صفحات)
- رسالة الأصول (مخطوط، ڈبلن لائبریری میں محفوظ)
- ابن حزم اور ابو الولید الباجی کے درمیان مناظرے پر کتاب (مخطوط)
رسالة في مسالة الكلب (مخطوط)
ابنِ حزم کی وہ فقہی کتب جو ہم تک نہیں پہنچ سکیں
[ترمیم]- كتاب اجوبة على المسائل المستغربہ من صحيح البخاری [67]
- كتاب تنوير المقباس، الصادع في الرد على من قال بالتقليد
- الإجماع ومسائله على أبواب الفقه
- الاستقصاء، ذو القواعد في ألف ورقة ومن موضوعاته الشروط التي إن خالفها أهل الكتاب تستباح دماؤهم
- القدح المعلى في تتميم المجلى
- مختصر الموضح لأبى الحسن بن المغلس الظاهري
- كتاب في أن تارك صلاة عمدا حتى يخرج وقتها لا قضاء عليه. وقد عرض ابن حزم هذه المسألة بكتابه المحلى مسألة رقم279
- كتاب الإملاء في شرح الموطأ في ألف ورقة
- كتاب في ما خالف فيه الحنفية والمالكية والشافعية جمهور الصحابة. يشتمل على مائتى مسألة
- قسمة الخمس في الرد على إسماعيل القاضي مجلد
- الخصال الحافظ لجمل شرائع الإسلام مجلدين
- السألة اليقينية المستخرجة من الآيات القرآنية
- الآثار التي ظاهرها التعارض ونفى التناقض عنها. بدأ تصنيفة بعد الإحكام ومات ولم يتمه يقع في عشرة آلاف ورقة
- كتاب في ما خالف فيه المالكية الطتائفة من الصحابة
- كتاب اختلاف الفقهاء مالك وأبى حنيفة والشافعي وأحمد وداود
- كتاب التصفح في الفقه، التبيين في هل علم المصطفى أعيان المنافقين ثلاث كراريس
- التلخيص والتخليص في المسائل النظرية ذكر ابن عقيل أنه يقع في مجلد ضخم
- كتاب الإملاء في قواعد الفقه في ألف ورقة
- الإجماع كتيب
- الفرائض كتيب
- الرسالة البلقاء في الرد على عبد الحق بن محمد الصقلى كتيب
- الرد على من كفر المتأولين من المسلمين مجلد
- الاستجلاب مجلد
- مراقبة أحوال الإمام جزء
- رسالة المعارضة كراسة
- قصر الصلاة كراسة
- رسالة التأكيد كراسة
- العتاب على أبى مروان الخولانى كراسة
- رسالة في معنى الفقه والزهد كراسة
- التلخيص في أعمال العباد جزء
- الإظهار لما شنع به على الظاهرية كراسة
- زجر الغاوى جزءين
- رسالة في مسألة الإيمان
- رسالة في السماع
- كتاب الحدود
- كشف الالتباس لما بين أصحاب الظاهر وأصحاب القياس. جزء
- كتاب الصلاة
- كتاب مناسك الحج
- رسالة في الوعد والوعيد وبيان الحق في ذلك من السنن والقرآن. كتبها للأمير ابى الأحوص معن بن محمد التجيبى بين سنتى (433 هـ/1041 م و443 هـ/1051 م)
- كتاب مراتب الديانة
- كتاب مهم السنن
- مجموع فتاوى عبد الله بن عباس
- إرشاد السترشد.
قرآن اور اس کے علوم سے متعلق مفقود کتب
[ترمیم]- الناسخ والنسوخ في القرآن
- رسالة في أن القرآن ليس من نوع بلاغة الناس. كتبها لصاحبه أحمد بن عبد الملك بن شهيد
- رسالة في آية فإن كنت في شك مما أنزلنا إليك
- كتاب في تفسير حتى إذا استياس الرسل
- كتاب في القراءات.
حدیث اور اس کے علوم
[ترمیم]- سنن ابن حزم الظاهری طبع في دار ابن حزم في ثلاث مجلدات بتحقيق الدكتور مجيد الخليفہ.[68]
- كتاب عدد ما لكل صاحب في مسند بقى. ذكر محمد إبراهيم الكنانى أنه مطبوع ولكن لم يذكر دار النشر ولا مكانها
- الجامع في صحيح الأحاديث باختصار الأسانيد والاقتصار على أصحها واجتلاب أكمل ألفاظها وأصح معانيها
- مختصر علل الحديث، حديثان أحدهما في صحيح البخاري والآخر في صحيح مسلم زعم أنهما موضوعان
- ترتيب سؤلات الدارمى لابن معين
- بيان غلط عثمان بن سعيد الأعور في المسند والمرسل
- ترتيب مسند بقى بن مخلد [69]
- تراجم أبواب صحيح البخاري
- جزء في أوهام الصحيحين
- الإنصاف في الرجال
- مختصر كتاب الساجى في الرجال مرتب على الحروف
- الوحدان في مسند بقى بن مخلد [70]
عقائد، فلسفہ اور منطق
[ترمیم]- الفصل فی الملل والاہواء والنحل — یہ کتاب ابن حزم نے 418ھ/1027م میں قرطبہ میں شروع کی اور 440ھ/1048م میں مکمل کی۔ کئی بار شائع ہو چکی ہے۔ یہ مناظراتی کتاب ہے۔
- النصائح المنجية من الفضائح المخزية والقبائح المردية — یہ مختلف بدعتی فرقوں (معتزلہ، مرجئہ، خوارج اور شیعہ) کے رد میں ہے اور کتاب “الفصل” میں شامل ہے۔
- رسالة المفاضلة بين الصحابة — سعید افغانی نے متعدد بار شائع کی اور یہ بھی “الفصل” میں شامل ہے۔
- الأصول والفروع — 420ھ/1029م میں لکھی گئی، عاطف عراقی کی تحقیق کے ساتھ دار النهضة قاہرہ سے شائع ہوئی۔
- الأخلاق والسير في مداواة النفوس — 420ھ سے پہلے تصنیف ہوئی اور کئی بار شائع ہو چکی ہے۔
- التقريب لحد المنطق والمدخل إليه بالألفاظ العامية والأمثلة الفقهية — 420ھ سے پہلے لکھی گئی کتاب۔
- رسالة في مراتب العلوم — یہ “الفصل” کے بعد لکھی گئی۔
- الرد على الكندي الفيلسوف — یہ رسالہ ابن حزم کے رسائل (جلد 4) میں شائع ہوا ہے۔
- رسالة في الرد على ابن نغريلة اليهودي — 451ھ/1059م کے بعد لکھی گئی، رسائل ابن حزم (جلد 3) میں شائع ہے۔
- رسالة الدرة في تحقيق الكلام فيما يلزم الإنسان اعتقاده — تقریباً 443ھ/1051م کے آس پاس لکھی گئی، مکہ اور قاہرہ سے شائع ہوئی۔
- علم الكلام على مذهب أهل السنة والجماعة — قاہرہ سے مطبوع ہے۔
- مسألة هل السواد لون أم لا — 1979ء میں ریاض سے شائع ہوئی۔
- الرسالة الباهرة في الرد على أهل الأقوال الفاسدة — برٹش لائبریری (بودلیان) میں موجود ہے۔
- رسالة في معرفة النفس بغيرها وجهلها بذاتها — رسائل ابن حزم (جلد 1) میں شائع ہے۔
- كتاب الجوهرة — صدیق خان قنوجی نے ذکر کیا ہے، غالباً منطق سے متعلق ہے۔[71]
ابن حزم کی مفقود کتب (عقائد، فلسفہ اور منطق)
[ترمیم]- التحقيق في نقد زكريا الرازی فی كتابه العلم الالہی — تقریباً 100 ورق پر مشتمل کتاب تھی۔ بول کراوس نے “الفصل” میں رازی کے خلاف ابن حزم کے کچھ ردود جمع کیے ہیں، لیکن اصل رسالہ مفقود ہے۔ یہ “الفصل” سے پہلے تصنیف ہوئی۔
- الرد على من قال أن الإيمان بالقلب — یہ رسالہ “الفصل” سے پہلے لکھا گیا اور اب مفقود ہے۔
- الرد على من اعترض على الفصل — ایک مجلد کتاب تھی جو اب مفقود ہے۔
- اليقين في نقض تمويه المعتذرين عن إبليس اللعين وسائر المشركين — “الفصل” سے پہلے لکھی گئی ایک بڑی مجلد کتاب، جو مفقود ہے۔
- الترشيد في الرد على كتاب الفريد لابن الراوندی — نبوت کے انکار کے رد میں لکھی گئی مجلد کتاب، مفقود ہے۔
- أخلاق النفس والسيرة الفاضلہ — دو جلدوں پر مشتمل کتاب تھی، اب مفقود ہے۔
- الدرة في ما يلزم المسلم — دو جلدوں پر مشتمل کتاب، مفقود ہے۔
- مختصر الملل والنحل — ایک مجلد مختصر کتاب، مفقود ہے۔
- الحد والرسم — مفقود رسالہ۔
- الرد على أناجيل النصارى — مفقود رسالہ۔
- اظہار تبديل اليہود والنصارى للكتابين التوراة والإنجيل یہ “الفصل فی الملل والاہواء والنحل” سے پہلے تصنیف ہوئی اور اس کے کچھ حصے “الفصل” میں شامل کر لیے گئے، لیکن اصل مستقل کتاب مفقود ہے۔
- أسماء الله الحسنى — مفقود رسالہ۔
عربی زبان اور اس کے ادب
[ترمیم]- طوق الحمامة فی الالفة والآلاف — یہ کتاب ابن حزم نے شاطبہ میں 418ھ/1027م یا 419ھ/1028م کے قریب تصنیف کی۔ کئی بار مصر اور عرب دنیا میں شائع ہوئی اور اس کا ترجمہ ہسپانوی، فرانسیسی، انگریزی، روسی اور جرمن زبانوں میں کیا گیا۔
- ديوانه الشعري — ابن حزم کا شعری دیوان، متعدد بار شائع ہوا۔
- قصيدة في أصول فقه الظاہريہ — یہ نظم سعودی عرب میں کئی بار شائع ہوئی اور اس کی ایک نقل موجود ہے۔
- كتاب الإعراب — تقریباً 214 ورق پر مشتمل تھا، جس کا نسخہ 761ھ/1369م میں شستربٹی میں موجود ہے۔
عربی زبان و ادب میں مفقود کتب
[ترمیم]- دعوة الملل في أبيات المثل — ایک شعری تصنیف تھی جس میں تقریباً 40,000 اشعار تھے۔
- رسالة بيان الفصاحة والبلاغة — یہ رسالہ ابن حفصون کے نام تھا۔
- شيء في العروض — علم عروض سے متعلق کتاب۔
- مؤلف في الظاء والضاد — عربی حروف (ظ اور ض) پر کتاب۔
- قطعة بائية — ایک ادبی رسالہ/قطعة۔
- التعقيب على الإفليلى في شرحه لديوان المتنبي — متنبی کے دیوان کی شرح پر نقد۔
الطب (تمام مفقود)
[ترمیم]- رسالة في الطب النبوی — طب نبوی پر رسالہ۔
- مقالة في السعادة — سعادت پر مضمون۔
- مقالة في شفاء الضد بالضد — علاج بالاضداد پر بحث۔
- كتاب شرح فصول أبقراط — بقراط کے فصول کی شرح۔
- كتاب بلغة الحكيم — حکمت پر کتاب۔
- كتاب حد الطب — طب کی تعریف و حدود پر کتاب۔
- كتاب اختصار كلام جالينوس في الأمراض الحادة — جالینوس کے شدید امراض پر اختصار۔
- كتاب الأدوية المفردة — مفرد ادویات پر کتاب۔
- مقالة في المحاكمة بين التمر والزبيب — کھجور اور کشمش کے تقابلی فوائد پر بحث۔
- مقالة في النحل — شہد کی مکھیوں پر رسالہ۔
مختلف علوم و معارف میں تصانیف
[ترمیم]- كتاب العانس في صدمات
- كتاب المرطار في اللهو والدعابة
- كتاب أسواق العرب
- پروگرام ابن حزم [72]
ابن حزم کی کتابوں کا جلایا جانا اور وفات
[ترمیم]
ابن حزم کی تصانیف کے ساتھ ایک نہایت سنگین واقعہ منسلک ہے جو اندلس میں اکثر پیش آتا رہا، جب بھی وہاں کے لوگ کسی ایسے عالم سے تنگ آتے جو ان کے مسلک کے خلاف ہوتا، تو اس کی کتابیں سرعام جلا دی جاتیں۔ ایسا ہی واقعہ ابن حزم کے ساتھ بھی پیش آیا اور اس کی کتابیں اشبِیلیہ میں علانیہ جلا دی گئیں۔ تاہم اس کے باوجود ان کی علمی میراث مکمل طور پر ضائع نہ ہوئی، کیونکہ ان کے کئی ذہین اور باوفا شاگرد موجود تھے جنھوں نے ان کے افکار کی قدر کی اور ان کی کتابوں کو محفوظ رکھا۔ یہ شاگرد ان کتابوں کی نقلیں تیار کر کے انھیں عام کرتے رہے، جس کی وجہ سے یہ علمی ذخیرہ باقی رہا۔
اسی وجہ سے جب بعد میں ابن مرزوق یحصبی (جو متأخرین میں سے تھے) نے ان کی کتابوں کا شمار کیا تو انھوں نے اسے تقریباً اسی ہزار ورق (80,000 صفحات) قرار دیا۔ یہی اندازہ پہلے ابو رافع فضل نے بھی پانچویں صدی ہجری / گیارہویں صدی عیسوی میں بیان کیا تھا۔ اس واقعے کے اسباب درج ذیل قرار دیے جا سکتے ہیں:
- اولاً: ابن حزم کا اپنے آپ پر غیر معمولی اعتماد، خاص طور پر مالکی فقہاء کے بڑے بڑے ائمہ سے مناظروں کے دوران۔ وہ ان کی آراء کو کھل کر رد کرتے اور جب انھیں حق کے خلاف سمجھتے تو سختی سے تنقید کرتے تھے۔
- ثانياً: اس کا اشبِیلیہ کے حکمران خلف حصری کی خلافت کے خلاف مؤقف اور سنہ 325ھ/1033م میں ہشام المؤید کی بیعت کے مسئلے پر سخت تنقید۔ اس کے نتیجے میں محمد بن اسماعیل (عبادی خاندان کے سربراہ) اور اس کے بعد المعتضد بن عباد کے ساتھ اس کے تعلقات خراب ہو گئے اور جب وہ اشبِیلیہ آیا تو المعتضد نے اس کے خلاف سخت اقدام کیا۔[73]
- ثالثاً: مالکی فقہا کی اس کے خلاف مسلسل مخالفت اور حکمرانوں کے دربار میں اس کے خلاف اکسانا۔ اس کے نتیجے میں عوامی سطح پر اس کے خلاف ماحول بنایا گیا اور حکمران کے ساتھ ان کے مفادات بھی اس کے خلاف جمع ہو گئے، جس کا نتیجہ اس کی کتابوں کی جلانے کی صورت میں نکلا۔[74]
- رابعاً: ابن حزم کا اموی رجحان اور اندلس میں اموی خلافت کی بحالی کی دعوت دینا۔ جبکہ اس دور کے بیشتر طوائف الملوک حکمران سیاسی و معاشی آزادی کے خواہاں تھے۔ خاص طور پر المعتضد نے اپنے اقتدار کو مضبوط کرنے کے لیے اموی نسبت سے پیدا ہونے والی سیاسی جذبات کو استعمال کیا اور بعد میں خلافت کے جھوٹے دعوے کو ختم کر دیا۔
- خامساً: ابن حزم کا اپنے زمانے کے امرا خصوصاً المعتضد کے بارے میں سخت اور بے باک رویہ۔ وہ حکمرانوں کو زیادہ وقعت نہیں دیتا تھا، جس سے وہ ناراض ہوئے۔ اسی بنا پر المعتضد نے اس کے خلاف ایسا اقدام کیا جس سے وہ عوام کے سامنے ذلیل ہو جائے، یعنی اس کی کتابوں کو جلانا۔
اگرچہ ابن حزم کے خلاف یہ سازش کی گئی جس نے اسے شدید متاثر کیا، لیکن المعتضد اپنے مقصد میں کامیاب نہ ہو سکا کہ اس کی عزتِ نفس کو توڑ کر اسے ذلیل کرے۔ اس کے برعکس ابن حزم اپنی علمی، فکری اور شخصی عظمت کے ساتھ ہر جگہ نمایاں رہا اور کسی کمزوری یا ذلت کا شکار نہ ہوا۔ تاہم اس نے احتیاط کو ترجیح دی اور اشبیلیہ چھوڑ کر اپنی آبائی بستی منت لیشم چلا گیا، جہاں وہ اپنی جائداد کا مالک تھا اور وہاں بار بار آتا جاتا تھا۔
وہیں اس نے تصنیف و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا، یہاں تک کہ بالآخر اتوار کی شام 28 شعبان 456ھ / 15 جولائی 1063ء کو اس کا انتقال ہو گیا۔ [75]، [76] بعض لوگوں نے جو تاریخ 457ھ/1064ء یا 455ھ /1063ء بتائی ہے وہ درست نہیں، کیونکہ ابن حزم کے بیٹے ابو رافع فضل نے اپنے والد کی وفات کی تاریخ خود تحریر کی ہے اور وہ اس معاملے میں سب سے زیادہ معتبر ہیں۔ مزید یہ کہ اکثر سوانح نگاروں نے بھی وہی تاریخ ذکر کی ہے جو ان کے بیٹے نے بیان کی۔[77] ابن حزم نے وفات سے کچھ عرصہ پہلے اپنی وفات کا احساس کرتے ہوئے خود اپنی مدحِ ذات میں اشعار کہے، گویا اسے اپنے قریب آنے والے وقت کا اندازہ ہو گیا تھا اور اس نے کہا:[78]
| كأنك بالزوار لى قد تبادروا | وقيل لهم أودى على بن أحمد | |
| فيارب محزون هناك وضاحك | وكم أدمع تزرى وخد محدد | |
| عفا الله عنى يوم أرحل ظاعنا | عن الأهل محمولا إلى ضيق ملحد | |
| وأترك ما قد كنت مغتبطا به | وألقى الذي آنست منه بمرصد | |
| فواراحتى إن كان زادى مقدما | ويانصبى إن كنت لم أتزود |
حوالہ جات
[ترمیم]- 1 2 3 عنوان : A Mind of His Own
- ↑ آر۔ آرنلڈز، ابن حزم۔ دائرۃ المعارف اسلامیہ، سینکڈ ایڈیشن۔ برل آن لائن، 2013. حوالہ۔ 09 جنوری 2013
- ↑ عنوان : بوَّابة الشُعراء — PoetsGate poet ID: https://poetsgate.com/poet.php?pt=603 — اخذ شدہ بتاریخ: 5 اپریل 2022
- 1 2 3 عنوان : Gemeinsame Normdatei — جی این ڈی آئی ڈی: https://d-nb.info/gnd/11896254X — اخذ شدہ بتاریخ: 20 اپریل 2026 — اجازت نامہ: CC0
- ↑ مصنف: خیر الدین زرکلی — عنوان : الأعلام — ناشر: دار العلم للملایین — : اشاعت 15 — جلد: 4 — صفحہ: 254 — مکمل کام یہاں دستیاب ہے: https://archive.org/details/ZIR2002ARAR
- ↑ http://www.muslimphilosophy.com/hazm/dove/index.html
- ↑ Adel Nuwayhed (1988)، مُعجم المُفسِّرين: من صدر الإسلام وحتَّى العصر الحاضر (بزبان عربی) (3 ایڈیشن)، بیروت: Q121003654، ج الأول، ص 351، OCLC:235971276، QID: Q122197128
- ↑ محمد حميد الله، ابن حزم وسيرته، مجلة المدينة 2312
- ↑ کامل سلمان جبوری (2003)۔ معجم الأدباء من العصر الجاهلي حتى سنة 2002م (بزبان عربی)۔ بیروت: دار الکتب علمیہ۔ ج 4۔ ص 235۔ ISBN:978-2-7451-3694-7۔ LCCN:2003489875۔ OCLC:54614801۔ OL:21012293M۔ QID: Q111309344
- ↑ ابن حزم الأندلسي ابن حزم۔ رسائل ابن حزم (بزبان فرانسیسی وعربی)۔ ص 486
- ↑ كتاب الفصل في الملل والأهواء والنحل، الجزء الثاني، "مطلب بيان كروية الأرض"
- ↑ Hacienda Montija آرکائیو شدہ 2017-12-19 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ ابن حزم في (معجم البلدان) ياقوت الحموي [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2013-07-29 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ ابن كثير/ كتاب البداية والنهاية/ الناشر مكتبة المعارف بيروت - لبنان/ 1412هـ - 1991م./ الجزء الثاني عشر/ الصفحة 91 - 92 .
- ↑ ابن حزم ، الاصول والفروع بتحقيق : محمد عاطف العراقي و سهير ابو وافية وابراهيم هلال ، القاهرة 1978 ص 14
- ↑ ابن حزم الأندلسي، طوق الحمامة في الالفة والالاف، تحقيق صلاح الدين القاسمي، الدار التونسية للنشر، تونس ،1985، ص20.
- ↑ عنه بالتفصيل انظر الذهبي، سير أعلام النبلاء، 18/ 184-213، وانظر كتاب ابن حزم الظاهري وأثره في المجتمع الأندلسي، وهو أطروحة للماجستير للدكتور عبد الباقي السيد عبدالهادى الظاهري.
- 1 2 ابن حزم، طوق الحمامة، ص122، 1123، 166. وقد توفى أخوه أبو بكر في الطاعون الذي اجتاح قرطبة في عام 401 هـ / 1010 م انظر، نفس المصدر، ص257.أقيم مكان قصر ابن حزم الآن كنيسة "سان لورينزو" بحى "سان لورينزو". والزهراء مدينة أقامها المنصور سنة 368 هـ/ 978 م بالقرب من قرطبة، وجعلها مقرا للحكم والإدارة لمزيد من التفاصيل انظر محمد بن عبد الله الحميرى، صفة جزيرة الأندلس، تحقيق ليفى بروفنسال، مطبعة لجنة التأليف والترجمة والنشر، القاهرة، 1937 م، ص80 – 82.
- ↑ الذهبي، مصدر سابق، 18/185 ؛ محمد أبوزهرة، ابن حزم حياته وعصره، دار الفكر العربى، القاهرة، 1373 هـ/1954 م، ص27 ؛ سهير فضل الله، سيرة ابن حزم، ص17
- ↑ محمد احمد قاسم، تاريخ العلوم عند العرب، بغداد، 2012 ، ص84.
- ↑ ياقوت الحموى، معجم الأدباء، تحقيق أحمد فريد الرفاعى، دار المأمون ومكتبة القراء والثقافة الأدبية، (د.ت)، 12/240 ؛ وانظر عبد الحليم عويس، ابن حزم، ص58.
- ↑ نقلا عن ابن بسام، الذخيرة، قسم1 مجلد1 ص170.
- ↑ Asin Placios، Aben hazam de cordoba، T.1، P.35-36.، وانظر إحسان عباس، تاريخ الأدب الأندلسي، عصر سيادة قرطبة، دار الثقافة، بيروت، ط1، 1960 م ن ص247،248.
- ↑ الضبى، بغية الملتمس، ص263 ؛ إحسان عباس، المرجع السابق، ص248.
- ↑ الحميدى، جذوة المقتبس 1/199 ؛ المقرى، نفح الطيب، 6/72.
- ↑ انظر: شذرات الذهب، 3/163.
- ↑ عن استخدام ابن حزم للغة كأساس في الفتوى والتفسير انظر، الفصل، 2/4،5،7 ؛ رسائل ابن حزم، 3/163.
- ↑ ابن حزم، طوق الحمامة، ص246 ؛ وانظر الطاهر مكي، دراسات عن ابن حزم، ص69،70.
- ↑ انظر : عبد الكريم خليفة، ابن حزم الأندلسي، دار العربية ومكتبة الأقصى، بيروت – عمان، ص14،15 ؛ عبد اللطيف شرارة ،ابن حزم رائد الفكر العلمى ،منشورات المكتب التجارى ،بيروت ،(د.ت)، ص36،37 ؛ سهير فضل الله، سيرة ابن حزم، ص21.
- ↑ ابن بسام، الذخيرة، قسم1 مجلد1 ص137.
- ↑ ابن حزم في (إخبار العلماء بأخيار الحكماء) القفطي [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2013-07-29 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ ابن حزم في (المعجب في أخبار المغرب) المراكشي [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2013-07-29 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ هل يجوز إطلاق اسم القديم على الله الحوالي، تاريخ الولوج 5 أغسطس 2011 آرکائیو شدہ 2008-01-20 بذریعہ وے بیک مشین "نسخة مؤرشفة"۔ 4 أغسطس 2014 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 11 يوليو 2017
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|تاریخ رسائی=و|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ الظاهرية أفكارهم ورجالهم الظاهرية أفكارهم ورجالهم، الحوالي، تاريخ الولوج 5 أغسطس 2011 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2015-01-07 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ مدى اعتبار المقاصد الشرعية عند ابن حزم الظاهري صورية عائشة باية بن حسين، موقع ابن حزم، تاريخ الولوج 5 أغسطس 2011 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2013-12-08 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ أبو عبد الرحمن بن عقيل الظاهري في كتابه ابن حزم خلال ألف عام 2/ 259
- ↑ معجم المناهي اللفظية، الطبعة الثالثة 1417 هـ، ص63
- ↑ زاد المعاد 5/ 522 ط الرسالة
- ↑ قلها الصفدي في الوافي 20/96: عن ابن العريف خلق الله سيف الحجاج ولسان ابن حزم شقيقين.
- ↑ الإمام الذهبي في سير أعلام النبلاء (18/199)
- ↑ القنوجي في أبجد العلوم 3/147
- ↑ ابن حزم في (وفيات الأعيان) لابن خلكان موقع ابن حزم، تاريخ الولوج 5 أغسطس 2011 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2013-07-29 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ الباحث حمصي فرحان الحمادة في اتحاد الكتاب العرب بالرقة : الإمام ابن حزم الأندلسي شاعراً نجم الدرويش، مؤسسة الوحدة للصحافة والطباعة والنشر، تاريخ الولوج 5 أغسطس 2011 آرکائیو شدہ 2015-06-05 بذریعہ وے بیک مشین [مردہ ربط]
- ↑ انظر : الحميدي،جذوة المقتبس في ذكر ولاة الأندلس 1/ 310.
- ↑ انظر: نفح الطيب، 2/ 288، والبين رقم 4 من المقطوعة الشعرية.
- ↑ انظر : طوق الحمامة، ص336.
- ↑ نقلا عن الذهبي، سير أعلام النبلاء، 18/ 187، ابن حجر، لسان الميزان، 4/ 201، المقرى، نفح الطيب، 2/ 78.
- ↑ انظر : طبقات الأمم، ص 98 ،99.
- ↑ انظر : وفيات الأعيان، 3/ 325- 330.
- ↑ انظر صديق القنوجى، أبجد العلوم، 3/ 147، 148، وانظر ترجمته ابن حزم في الذهبي، العبر في خبر من غبر، 3/ 241، ابن تغرى بردى، النجوم الزاهرة، 5/ 75.
- ↑ ابن مفلح، المقصد الأرشد، 2/ 213 ،214.
- ↑ انظر : الصلة، 2/605.
- ↑ انظر المراكشى، المعجب، ص46- 49.
- ↑ انظر : طبقات الحفاظ، ص435 ،436.
- ↑ انظر البلغة في أئمة اللغة، ص146، 147.
- ↑ ابن تيمية، مجموع الفتاوى، 4/ 19.
- ↑ نقلا عن الذهبي، سير أعلام النبلاء، 18/ 199.
- ↑ ابن تيمية، مجموع الفتاوى، 4/ 19.
- ↑ انظر : شذرات الذهب، 3/ 96، ابن فرحون، الديباج المذهب، 1/ 286.
- ↑ ابن فرحون، الديباج المذهب، 1/ 89.
- ↑ انظر : طبقات الشافعية الكبرى، 1/ 90، 91.
- ↑ السيوطى، طبقات الحفاظ، ص456.
- ↑ النقد الإسلامي للعهد القديم آرکائیو شدہ 2008-08-18 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ ابن حزم في (إخبار العلماء بأخيار الحكماء) للقفطي موقع ابن حزم، تاريخ الولوج 5 أغسطس 2011 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2013-07-29 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ كتب ورسائل ابن حزم المفقودة موقع ابن حزم، تاريخ الولوج 5 أغسطس 2011 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2013-12-11 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ ما وصلنا من كتب ابن حزم موقع ابن حزم، تاريخ الولوج 5 أغسطس 2011 [مردہ ربط] آرکائیو شدہ 2012-07-20 بذریعہ وے بیک مشین
- ↑ حاجى خليفة، كشف الظنون، 1/545.
- ↑ "شبكة مشكاة الإسلامية - المكتبة - سنن إبن حزم الظاهري - ط دار ابن حزم"۔ 2018-12-29 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-03-10
- ↑ ابن حجر، الإصابة، 5/544.
- ↑ ابن حجر، الإصابة، 2/570.
- ↑ انظر : أبجد العلوم، 2/542.
- ↑ مختلف مصادر: ابن حزم، الفصل؛ رسائل ابن حزم؛ المحلى؛ الفيروزآبادی؛ الذهبي؛ ابن حجر؛ الشوكاني؛ الزركلي؛ وغيرها
- ↑ انظر : نقط العروس، رسائل 2/97.
- ↑ ابن حزم، رسالتان له أجاب فيهما عن رسالتين، رسائل 3/115،116 ؛ وانظر ابن سعيد، المغرب، 1/405.
- ↑ الذهبي، سير أعلام النبلاء، 18/211 ؛ وانظر Asin Placios، Aben hazam، T.1، P. 240, 241.
- ↑ ياقوت، معجم الأدباء، 12/240 ؛ وانظر غرسيه غومث، الشعر الأندلسي، ترجمة حسين مؤنس، مطبعة لجنة التأليف والترجمة والنشر، ط1، 1952 م، ص16.
- ↑ صاعد، طبقات الأمم، ص99 ؛ وانظر ابن بشكوال، الصلة، 2/605 ترجمة 898 ؛ ابن سعيد، المغرب، 1/355 ؛ ابن كثير، البداية والنهاية، 6/569 ؛ Roger Arnoldez Grammaire E theologie chez ibn hazm de cordove essal sur Las trueture Et les conditions de pensee musulmane, liprairie philosophique, Paris, 1956 ,P.19.
- ↑ انظر : ديوان ابن حزم، ص96 مقطوعة رقم 2.
- 994ء کی پیدائشیں
- 7 نومبر کی پیدائشیں
- 1064ء کی وفیات
- ابن حزم
- اثری شخصیات
- رجال شناس
- شیعیت کے نقاد
- قرطبہ، اندلس کی شخصیات
- گیارہویں صدی کی اندلس کی شخصیات
- مجددین
- محدثین
- مسلم الٰہیات دان
- مسلم فلاسفہ
- گیارہویں صدی کی عرب شخصیات
- دسویں صدی کی عرب شخصیات
- اندلس کے مصنفین
- گیارہویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
- اندلسی ائمہ کرام
- ماہرین انساب
- اصولی شخصیات
- اندلس کے محدثین
- سولہویں صدی کے مسلم الٰہیات دان
- مسلم متکلمین
- مذہبی مؤرخین
- قرطبہ میں پیدا ہونے والی شخصیات
- گیارہویں صدی کے ہسپانوی شعرا
- وزیران
- عرب شخصیات
- ہسپانیہ میں اسلام
- ہسپانوی فلسفی
- اسلامی قانون
- 993ء کی پیدائشیں
