مندرجات کا رخ کریں

بنو یعفر

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
بنو يعفر
بنو يعفر
847–997
دار الحکومت
عمومی زبانیں
مذہب
اہل سنت اسلام
حکومتامارت
امیر 
• 847–872 (پہلا)
يعفر بن عبد الرحمن حوالی حميری
• 963–997 (آخری)
عبد الله بن قحطان
تاریخ 
• قیام
847
• سقوط
997
کرنسیدینار
ماقبل
مابعد
خلافت عباسیہ
بنو زیاد

بنو یعفر ایک حِمیَری سلسلہ تھا جس نے یمن پر 225-387 ہجری / 839-997 عیسوی تک حکومت کی۔ ان کا اثر صنعاء تک پھیلا، جس کی بنیاد یعفر بن عبد الرحمن حوالی نے رکھی۔ جب عبد الرحمن کا انتقال ہوا تو اس کا بیٹا یعفر اس کی جگہ آیا اور کئی محاذوں پر لڑائیاں کیں۔ ان میں سب سے اہم اس کی لڑائی تھی حمير بن حارث، جو یمن کا والی تھا اور بنو زیاد، جو زبید پر حکومت کرتے تھے، کے خلاف۔ مگر ابراہیم بن محمد کے دور میں جب ائمہ اور قرامطہ نے یمن پر حملہ کیا تو سلطنت سخت ابتری کا شکار ہو گئی، انتشار پھیل گیا اور انجام کار ان کا اقتدار ختم ہو گیا۔[1]

تاریخ

[ترمیم]

جس وقت یمن پر عباسیوں کی براہِ راست حکمرانی کمزور ہوئی، یعافر خاندان نے شبام کُوکَبان سے اپنے اقتدار کی بنیادیں مضبوط کرنا شروع کیں۔ 841 عیسوی میں انھوں نے پہلی مرتبہ صنعاء پر قبضہ کرنے کی کوشش کی لیکن یہ کوشش بُری طرح ناکام رہی اور عباسی گورنر کو عراق سے فوجی امداد مل گئی۔[2]

اس کے باوجود یعافر اپنے قلعے شبام کو دشمن کے حملوں سے بچانے میں کامیاب رہے۔ 847 عیسوی میں انھوں نے صعدہ سے تعز تک کے علاقے پر قبضہ کر لیا۔ صنعاء اس وقت ان کے ہاتھ آئی جب عباسی گورنر، حمير بن الحارث، یمن سے بھاگ گیا۔

کچھ عرصے تک صنعاء ان کی دار الحکومت رہی۔ یعفر کا اقتدار یمن کے کئی علاقوں اور مخلافوں تک پھیل گیا، شبام اور صنعاء سے لے کر کبھی کبھار حضرموت تک، البتہ تہامہ (ساحلی خطہ) ان کے قبضے سے باہر رہا۔ بظاہر وہ عباسیوں کے وفادار تھے۔[3]

حکام کی فہرست

[ترمیم]
نمبر حاکم کا نام دورِ حکومت
1 یعفر بن عبد الرحمن الحوالی 847 – 872 عیسوی
2 محمد بن یعفر 872 – 892 عیسوی
3 عبد القادر احمد بن یعفر 892 عیسوی
4 ابراہیم بن محمد بن یعفر 892 – 898 عیسوی
5 اسعد بن ابراہیم 898 – 905 عیسوی
قرامطہ کی حکومت ( 905 – 916 عیسوی )
(5) اسعد بن ابراہیم 916 – 944 عیسوی
6 محمد بن ابراہیم 944 – 956 عیسوی
7 عبد اللہ بن قحطان 963 – 997 عیسوی

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ G. Rex Smith, "Politische Geschichte des islamischen Jemen bis zur ersten türkischen Invasion" in Werner Daum, Jemen, Frankfurt am Main, p. 137.
  2. ↑ G. R. Smith (2012-04-24). "Yuʿfirids". Encyclopaedia of Islam, Second Edition (بزبان انگریزی). Archived from the original on 1 فبراير 2022. {{حوالہ رسالہ}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (help)
  3. ↑ R.B. Serjeant & R. Lewcock, San'a'; An Arabian Islamic City, London 1983, p. 55.