مندرجات کا رخ کریں

بریمستراہلگ

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے

بریمستراہلگ Bremsstrahlung جرمن زبان کا لفظ ہے جس کے معنی ہیں "توڑنے والی تابکاری"۔ یہ لفظ ایکس رے کے طیف سے متعلق استعمال ہوتا ہے۔

ایکس رے ٹیوب میں جب تیز رفتار الیکٹرون کی رفتار گرتی ہے تو مختلف فریکوئنسی کی ایکس رے وجود میں آتی ہیں۔ اس خاکے میں ایکس رے کے فوٹون کو ہری لکیر کی شکل میں دکھایا گیا ہے جبکہ لال رنگ سے ایٹمی مرکزہ ظاہر کیا گیا ہے۔۔

ایکس رے ٹیوب میں بہت زیادہ وولٹیج کی مدد سے الیکٹرون کو نہایت تیز رفتار بنایا جاتا ہے اور پھر اسے ٹنگسٹن یا تانبے سے بنے ٹارگٹ (anode) سے ٹکرایا جاتا ہے۔ ٹارگٹ عموماً ایسی دھاتوں سے بنائے جاتے ہیں جن میں پروٹونوں کی تعداد (Z) کافی زیادہ ہوتی ہے۔ جب یہ تیز رفتار الیکٹرون ٹنگسٹن یا تانبے میں داخل ہوتا ہے تو ٹنگسٹن میں پہلے سے موجود الیکٹرون کا منفی (negative) چارج آنے والے الیکٹرون کو بڑی شدت سے دھکیلتا ہے جب کہ ایٹمی مرکزوں (nucleus) کا مثبت چارج آنے والے الیکٹرون کی سمت اور رفتار بدل دیتا ہے۔ اس طرح آنے والے الیکٹرون کو بریک لگنی شروع ہو جاتی ہے۔ طبیعیات کے قوانین بتاتے ہیں کہ جب الیکٹرون کی ولاسٹی (رفتار) کم ہونے لگتی ہے تو اس کی توانائی بھی کم ہونے لگتی ہے۔[1] قانون بقائے توانائی کے مطابق یہ توانائی کسی اور شکل میں ظاہر ہونی چاہیے۔ ایکس رے ٹیوب میں یہ توانائی ایکس رے کے فوٹون میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

جب ایک تیز رفتار الیکٹرون کو اچانک بریک لگتی ہے تو ایکس ریز جنم لیتی ہیں۔

عام نظر آنے والی روشنی کے برعکس ایکس ریز کی فریکوئنسی ایک ہزار سے دس ہزار گنا زیادہ ہوتی ہے۔

اگر آنے والا الیکٹرون براہ راست ٹارگٹ کے کسی مرکزے کی سمت بڑھے تو اس کی رفتار انتہائی تیزی سے گرتی ہے اور نتیجے میں زیادہ سے زیادہ توانائی کا فوٹون جنم لیتا ہے۔ لیکن بیشتر الیکٹرون براہ راست مرکزے سے ٹکرانے کی بجائے مرکزے کے نزدیک سے گزرتے ہیں جس سے خارج ہونے والے فوٹون کی توانائی کچھ کم ہو جاتی ہے اور الیکٹرون میں کچھ توانائی بچ جاتی ہے جو اگلی کسی ٹکر پر فوٹون کی شکل میں خارج ہوتی ہے۔
سب سے زیادہ توانائی کی ایکس رے خارج کرنے کے لیے ایکس رے ٹیوب کی وولٹیج بڑھانی پڑتی ہے۔ مثلاً اگر ایکس رے ٹیوب پر وولٹیج 120 کلو الیکٹرون وولٹ ہوں گے تو خارج ہونے والے سب سے طاقتور فوٹون کی توانائی بھی 120kev ہو گی۔ اسے Duane-Hunt کی حد کہتے ہیں۔[2] باقی سارے ایکس رے کے فوٹون اس سے کم تر توانائی کے حامل ہوں گے۔ عموماً زیادہ تر فوٹون سب سے طاقتور فوٹون کی ایک تہائی توانائی رکھتے ہیں۔[3]

Bremsstrahlung کا مظاہرہ ایکس رے ٹیوب کے علاوہ بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ مثلاً جب کوسمک ریز زمین کی فضا میں داخل ہوتی ہیں تو Bremsstrahlung کی وجہ سے اپنی کچھ توانائی کرہ فضائی کو منتقل کر دیتی ہیں۔ اسی طرح سورج سے نکلنے والے تیز رفتار الیکٹرون جب سورج کی فضا سے گزرتے ہیں تو کروموسفیئر نامی منطقہ میں طاقتور ایکس رے میں تبدیل ہو جاتے ہیں۔[4]
تیز رفتار الفا ذرات اور نیوٹرون بھی ایکس رے پیدا کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں مگر ان کی یہ خاصیت الیکٹرون کے مقابلے میں نہایت کمزور ہوتی ہے۔

ایکسرے (شعاع) کی خصوصیات

[ترمیم]
ایک ایکس رے ٹیوب جو 60 ہزار وولٹ پر استعمال ہو رہی ہے اور جس میں رہوڈیئم بطور ٹارگٹ استعمال کیا گیا ہے۔ خارج ہونے والی ایکس رے bremsstrahlung کے مطابق مسلسل طیف بناتی ہیں۔ مگر رہوڈیئم کے K شیل کی وجہ سے دو عمودی لکیریوں کا اضافہ ہو جاتا ہے جو ہر عنصر میں الگ الگ طول موج (فریکوئینسی) رکھتی ہیں۔ دونوں عمودی لکیریں bremsstrahlung کا حصہ نہیں ہیں۔ دائیں طرف والی عمودی لکیر Kα کہلاتی ہے جبکہ بائیں جانب والی عمودی لکیر Kβ کہلاتی ہے۔ Kβ کی توانائی Kα سے زیادہ ہوتی ہے مگر شدت کم ہوتی ہے۔

بریمستراہلگ کا طیف مسلسل ہوتا ہے مگر اس میں موجود دو یا زیادہ عمودی لکیریں بریمستراہلگ کا حصہ نہیں ہوتیں بلکہ ان عناصر کی ایکسرے خصوصیات کہلاتی ہیں جن سے ٹارگٹ بنا ہوا ہوتا ہے۔[5] ان کی مدد سے کسی دھات میں موجود مختلف عناصر کی بڑی درست حد تک پہچان آسانی سے کی جا سکتی ہے۔ Kα کی لکیر اس وقت بنتی ہے جب آنے والے تیز رفتار الیکٹرون ایٹمی مدار۔K میں موجود الیکٹرون کو ٹکر مار کر نکال باہر کرتے ہیں۔ نزدیکی مدار۔L سے ایک الیکٹرون نیچے اتر کر اس خالی جگہ کو پُر کرتا ہے اور اس طرح خارج ہونے والی ایکس رے سے Kα کی عمودی لکیر وجود میں آتی ہے۔[6] لیکن اگر مدار۔K کو بھرنے والا الیکٹرون مدار۔L کی بجائے مدار۔M سے آئے تو Kβ کی عمودی لکیر ظاہر ہوتی ہے جو توانائی میں تو Kα سے زیادہ ہوتی ہے مگر شدت کے لحاظ سے کمزور ہوتی ہے۔

ایکس ریز فلوریسینس (XRF) سے دھاتوں کی شناخت کرنے والا آلہ Kα اور Kβ کی مدد سے کام کرتا ہے۔
عنصرلائنطول موج (نینو میٹر میں)عنصرلائنطول موج (نینو میٹر میں)عنصرlinewavelength (nm)elementlinewavelength (nm)
LiKα22.8NiKα10.1658ILα10.3149PtLα10.1313
BeKα11.4CuKα10.1541XeLα10.3016AuLα10.1276
BKα6.76ZnKα10.1435CsLα10.2892HgLα10.1241
CKα4.47GaKα10.1340BaLα10.2776TlLα10.1207
NKα3.16GeKα10.1254LaLα10.2666PbLα10.1175
OKα2.362AsKα10.1176CeLα10.2562BiLα10.1144
FKα1,21.832SeKα10.1105PrLα10.2463PoLα10.1114
NeKα1,21.461BrKα10.1040NdLα10.2370AtLα10.1085
NaKα1,21.191KrKα10.09801PmLα10.2282RnLα10.1057
MgKα1,20.989RbKα10.09256SmLα10.2200FrLα10.1031
AlKα1,20.834SrKα10.08753EuLα10.2121RaLα10.1005
SiKα1,20.7126YKα10.08288GdLα10.2047AcLα10.0980
PKα1,20.6158ZrKα10.07859TbLα10.1977ThLα10.0956
SKα1,20.5373NbKα10.07462DyLα10.1909PaLα10.0933
ClKα1,20.4729MoKα10.07094HoLα10.1845ULα10.0911
ArKα1,20.4193TcKα10.06751ErLα10.1784NpLα10.0888
KKα1,20.3742RuKα10.06433TmLα10.1727PuLα10.0868
CaKα1,20.3359RhKα10.06136YbLα10.1672AmLα10.0847
ScKα1,20.3032PdKα10.05859LuLα10.1620CmLα10.0828
TiKα1,20.2749AgKα10.05599HfLα10.1570BkLα10.0809
VKα10.2504CdKα10.05357TaLα10.1522CfLα10.0791
CrKα10.2290InLα10.3772WLα10.1476EsLα10.0773
MnKα10.2102SnLα10.3600ReLα10.1433FmLα10.0756
FeKα10.1936SbLα10.3439OsLα10.1391MdLα10.0740
CoKα10.1789TeLα10.3289IrLα10.1351NoLα10.0724

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ "Bremsstrahlung animation"۔ 2021-01-17 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-12-14
  2. ↑ "Bremsstrahlung X-ray generation"۔ 2021-08-10 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا۔ اخذ شدہ بتاریخ 2020-12-14
  3. ↑ Bremsstrahlung by Dr Patrick Rock and Dr J Yeung et al.
  4. ↑ Bremsstrahlung: Encyclopaedia Britannica
  5. ↑ hyperphysics
  6. ↑ Characteristic X-Rays

مزید دیکھیے

[ترمیم]

بیرونی ربط

[ترمیم]