مندرجات کا رخ کریں

اشعری

آزاد دائرۃ المعارف، ویکیپیڈیا سے
اشعريہ
اشعری
اشعری

مذہب اسلام
رہنما ابو الحسن اشعری
اشخاص فخر الدين رازی · امام الحرمین جوینی · العز بن عبد السلام · ابو بکر بیہقی
بانی ابو الحسن اشعری
ارکان علمِ کلام کے دلائل سے سلف کے عقیدے کا اثبات
نقل کی وضاحت کے لیے عقل کا استعمال
ابتدا اہل سنت والجماعت
قریبی عقائد والے مذاہب ماتريديہ · صوفيہ · اثریہ
دنیا میں شمالی افریقہ
وسطی اور جنوب مشرقی ایشیا
عالمِ اسلام کے مختلف علاقوں میں

اشعریہ اپنے امام اور بانی ابو الحسن اشعری کی طرف منسوب ہے، جن کا نسب صحابی ابو موسیٰ اشعری تک پہنچتا ہے۔ یہ اہلِ سنت کی ایک اسلامی کلامی درسگاہ ہے۔ اس کے پیروکار اپنے منہج کو ایک ایسے معتدل راستے کے طور پر پیش کرتے ہیں جو ایک طرف عقل کو مطلق اختیار دینے والوں اور دوسری طرف نص کے ظاہر پر جمود اختیار کرنے والوں کے درمیان ہے۔ وہ نص کو عقل پر مقدم رکھتے ہیں، البتہ نص کو سمجھنے کے لیے عقل کو ایک ذریعہ قرار دیتے ہیں۔ [1] اس منہج کو عقیدے میں اختیار کرنے والے علما میں امام بیہقی ، ابو بکر باقلانی ، امام قشیری ، الجوینی ، غزالی ، فخر الدین رازی ، نووی ، سیوطی ، عز بن عبد السلام ، تقی الدین سبکی ، ابن عساکر اور دیگر کئی جلیل القدر اہلِ علم شامل ہیں۔ امام اشعری اور امام ماتریدی نے ایک دوسرے سے ملتا جلتا منہج اختیار کیا اور یوں اہلِ سنت کے علمِ کلام کی ایک نمایاں روایت وجود میں آئی۔ [2][3]

اشاعرہ وہ علما تھے جنھوں نے معتزلہ کے افکار کا بھرپور رد کیا، ان کے نظریات کو باطل ثابت کیا، ان کے شبہات کا ازالہ کیا اور امت کے سلف کے منہج کے مطابق حق کو واضح کیا۔ [4][5] امام ابو الحسن اشعری نے اسلام میں کوئی نیا عقیدہ یا نیا مذہب ایجاد نہیں کیا جو سلف کے عقیدے سے مختلف ہو، بلکہ اللہ تعالیٰ نے انھیں اعتزال چھوڑ کر اہلِ سنت کے عقیدے کی طرف ہدایت دی۔ چونکہ وہ پہلے معتزلہ سے وابستہ رہے تھے، اس لیے ان کے نظریات، دلائل اور مناظرانہ اسلوب سے بخوبی واقف تھے۔ یہی تجربہ بعد میں ان کے لیے معتزلہ کے رد اور ان کے شبہات کے ازالے میں نہایت مؤثر ثابت ہوا۔ اہلِ سنت نے امام اشعری میں وہ شخصیت دیکھی جس کی انھیں مدت سے تلاش تھی، چنانچہ انھوں نے ان کے منہج کو اختیار کیا اور ان کے نقشِ قدم پر چلے، کیونکہ انھوں نے دیکھا کہ امام اشعری اپنے مخالفین کے دلائل کا مؤثر جواب دینے، اہلِ سنت کے عقائد کا دفاع کرنے اور انھیں مضبوط دلائل کے ساتھ ثابت کرنے کی غیر معمولی صلاحیت رکھتے تھے۔ امام ابو الحسن اشعری کا جو عقیدہ تھا، وہی امام احمد بن حنبل ، امام شافعی، امام مالک ، امام ابو حنیفہ اور ان کے اصحاب کا عقیدہ تھا اور یہی سلفِ صالحین کا عقیدہ ہے، جیسا کہ اس منہج پر چلنے والے متعدد ائمۂ اہلِ علم نے صراحت کے ساتھ بیان کیا ہے۔

اس طرح اشاعرہ کا ظہور اہلِ سنت والجماعت کی تاریخ میں ایک اہم موڑ ثابت ہوا، کیونکہ انھوں نے عقائدِ اہلِ سنت کی بنیاد کو علمِ کلام کے اسالیب، جیسے منطق اور قیاس، کے ذریعے مضبوط کیا۔[6] اشاعرہ نے قرآن و سنت کی نصوص کے ساتھ بعض عقائدی مسائل کی وضاحت میں ضرورت کے مطابق عقلی دلائل سے بھی استدلال کیا۔ ابو الحسن علی ندوی اشاعرہ اور معتزلہ کے درمیان بنیادی اختلاف، نیز اہلِ حدیث اور حنابلہ سے بعض منہجی جزئیات میں فرق بیان کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

” "امام اشعری اس بات پر کامل یقین رکھتے تھے کہ عقیدے کا اصل ماخذ وحی، نبوتِ محمدی ﷺ اور صحابۂ کرام سے ثابت شدہ تعلیمات ہیں۔ یہی وہ بنیادی فرق ہے جو انھیں معتزلہ سے ممتاز کرتا ہے، کیونکہ اس معاملے میں ان کا منہج معتزلہ کے بالکل برعکس تھا۔ تاہم وہ اس بات کے بھی قائل تھے کہ صحیح عقیدے کا دفاع، نئی اسلامی نسل کے دلوں میں اس کا راسخ کرنا، زمانے کی رائج علمی زبان میں گفتگو کرنے، علمی اصطلاحات استعمال کرنے اور مخالفین سے ان کے عقلی انداز میں بحث کرنے کا تقاضا کرتا ہے۔ وہ نہ صرف اس کو جائز سمجھتے تھے بلکہ اسے اس دور میں بہترین جہاد اور عظیم ترین عبادت قرار دیتے تھے۔"[7] “

تاریخِ اشاعرہ

[ترمیم]
بسم الله الرحمن الرحيم
الله

مضامین بسلسلہ اسلام :

آغاز

[ترمیم]

اشعری مؤرخین کے مطابق اشعری مکتبِ فکر کی بنیاد اس وقت پڑی جب امام ابو الحسن اشعری نے معتزلہ کے افکار کا علمی رد کیا۔ انھیں اہلِ حدیث کے نمایاں متکلمین میں شمار کیا جاتا ہے۔ امام ابو الحسن اشعری ابتدا میں معتزلی تھے اور ابو علی جبّائی کے شاگرد تھے، لیکن بعد میں انھوں نے اپنے استاد سے اختلاف کیا اور ائمۂ سلف، خصوصاً امام ابو حنیفہ ، امام شافعی اور دیگر اہلِ حدیث کے عقائد کی طرف رجوع کیا۔ ان سے پہلے بھی عبد اللہ بن کلاب، ابو عباس قلانسی اور حارث بن اسد محاسبی نے علمِ کلام کے ذریعے اہلِ سنت کے عقائد کا دفاع کیا تھا، خصوصاً خلقِ قرآن اور قضا و قدر جیسے مسائل میں۔[8]

ابن عساکر کے مطابق امام ابو الحسن اشعری پندرہ دن تک لوگوں سے الگ ہو کر اپنے گھر میں تحقیق اور مطالعہ کرتے رہے۔ اس کے بعد وہ جامع مسجد میں آئے اور لوگوں کو بتایا کہ انھوں نے معتزلہ کے عقائد سے اسی طرح براءت اختیار کر لی ہے جیسے آدمی اپنا لباس اتار دیتا ہے۔ پھر انھوں نے اپنے اوپر موجود ایک کپڑا اتار کر پھینکا اور اپنی نئی تصانیف لوگوں کے سامنے پیش کر دیں۔ اس کے بعد بہت سے لوگوں نے ان کی حمایت کی، ان کے پیروکاروں کی تعداد بڑھتی گئی اور حکمرانوں و علما کی ایک بڑی جماعت ان کی مؤید بن گئی۔ چنانچہ ان کے بعض ہم عصر اہلِ علم نے انھیں "امامِ اہلِ سنت والجماعت" کا لقب دیا۔ [9]

مرحلۂ تاسیس کے بعد

[ترمیم]

امام ابو الحسن اشعری کی جانب سے اہلِ سنت کے عقائد کے منہج کی تجدید کا فوری سبب معتزلہ کا رد تھا۔ یہ مقصد جلد ہی اس وقت حاصل ہو گیا جب اہلِ علم کی بڑی تعداد معتزلہ سے بیزار ہو کر امام اشعری کے گرد جمع ہو گئی۔ تاہم امام اشعری کا منہج جامد نہیں رہا بلکہ وقت کے ساتھ اس میں ارتقا ہوا، اگرچہ اس کی بنیاد وہی رہی جو مؤسس نے قائم کی تھی۔ فرق صرف اس بات میں پیدا ہوا کہ اس اصول کو عملی طور پر کس طرح نافذ کیا جائے۔ اس منہج کی بنیاد یہ تھی کہ عقل کو نصوصِ شرعیہ کا خادم بنایا جائے، نہ کہ ان پر حاکم، تاکہ وہ نصوص کی من مانی تاویل نہ کرے یا انھیں صرف ظاہر پر نہ چھوڑ دے، جیسا کہ معتزلہ کا طریقہ تھا۔ اس ارتقا کا دائرہ صرف عقلی مباحث تک محدود رہا اور مؤسس کے اس اصول کے مطابق تھا کہ عقل معاون ہو، حاکم نہیں۔

  • امام اشعری کے بعد ایسے ائمہ آئے جنھوں نے ان کے نظریات کو مزید مضبوط کیا۔ ان میں سے بعض نے امام اشعری کی نہ صرف آراء بلکہ ان کے استدلالی مقدمات کی بھی سختی سے پیروی کی اور دونوں کی اتباع کو ضروری قرار دیا۔ اس گروہ کے نمایاں نمائندے امام ابو بکر باقلانی تھے، جن کے نزدیک صرف نتائج ہی نہیں بلکہ امام اشعری کے اختیار کردہ مقدمات بھی لازمِ اتباع تھے۔
  • بعد کے بعض اشاعرہ، جن کی قیادت امام ابو حامد غزالی نے کی، اس رائے کے حامل تھے کہ عقلی مقدمات نہ قرآن میں متعین کیے گئے ہیں اور نہ سنت میں، جبکہ عقل کے میدان وسیع ہیں اور نئے دلائل، تجربات اور فکری نتائج تک پہنچنا ممکن ہے۔ ان کے نزدیک اگر نئے عقلی دلائل امام اشعری کے قائم کردہ نتائج سے متصادم نہ ہوں تو ان سے استفادہ کرنے میں کوئی حرج نہیں۔ امام غزالی نے امام باقلانی کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر استدلال کے طریقے میں اختلاف ہو تو اس سے حاصل شدہ صحیح نتیجہ باطل نہیں ہو جاتا۔ ان کے مطابق دین نے تمام انسانوں کی عقل کو مخاطب کیا ہے، اس لیے لوگوں پر لازم ہے کہ قرآن و سنت کے بیان کردہ عقائد پر ایمان رکھیں اور ان کی تائید کے لیے مناسب عقلی دلائل سے بھی کام لے سکتے ہیں۔
  • امام غزالی کے بعد بہت سے علما نے اشعری مکتبِ فکر کے نتائج کو قبول کیا اور ان کے حق میں مزید دلائل پیش کیے۔ ان علما نے اپنے آپ کو امام اشعری کے استدلالی مقدمات کا پابند نہیں بنایا بلکہ صرف ان کے عقائدی نتائج کی پابندی کو ضروری سمجھا۔ [10]

اشاعرہ کا پھیلاؤ

[ترمیم]
جامعہ الازہر نے صلاح الدین ایوبی کے دور میں شیعہ مذہب ترک کرنے کے بعد اشعری منہج کی اشاعت جاری رکھی
جامع اموی نے مشرق میں متعدد اشعری علما کی میزبانی کی
جامع زیتونہ، تیونس، ان اہم مراکز میں سے ایک تھا جس نے مغرب میں اشعری فکر کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا

مشرقِ اسلامی میں جب امام ابو الحسن اشعری نے معتزلہ کا علمی رد کیا تو اہلِ سنت کے علما ان کے گرد جمع ہو گئے اور انھیں اپنا امام تسلیم کیا، کیونکہ انھوں نے معتزلہ کی فکری بالادستی کا خاتمہ کیا اور اہلِ سنت کے عقائد کو ایسے دلائل اور اسلوب کے ساتھ پیش کیا جس نے اہلِ سنت کو دوبارہ علمی میدان میں نمایاں مقام دلایا۔ سلجوقی سلطنت کے دور میں، خصوصاً وزیر نظام الملک کے عہد میں، اشعری مکتبِ فکر کو مزید فروغ ملا۔ نظام الملک نے مدارس قائم کیے، مساجد کو علمی مراکز سے مربوط کیا اور علما کی سرپرستی کی۔ اسی دور میں مدرسۂ نظامیہ بغداد اور مدرسۂ نظامیہ نیشاپور میں اشعری عقیدہ پڑھایا جانے لگا۔ بغداد کی نظامیہ اس زمانے میں عالمِ اسلام کی سب سے بڑی اسلامی درس گاہ سمجھی جاتی تھی۔[11] جب صلیبی جنگیں شروع ہوئیں تو اس وقت تک اشعری مکتبِ فکر مشرقِ اسلامی میں غیر معمولی طور پر پھیل چکا تھا۔ بعد میں جب سلطان صلاح الدین ایوبی نے مصر میں فاطمی ریاست کا خاتمہ کیا تو انھوں نے جامعۂ الازہر کو، جو فاطمی دور میں اسماعیلی عقائد کا مرکز تھا، اہلِ سنت والجماعت کے مطابق منظم کیا اور اس زمانے میں رائج اشعری عقیدہ کو وہاں رائج کیا۔ [12]

مغرب کے اکثر نامور اشعری علما نے جامعہ القرویین میں تعلیم حاصل کی یا وہاں تدریس کے فرائض انجام دیے

مغربِ عربی میں دولتِ مرابطین کے بانی یوسف بن تاشفین کے اشعری علما سے قریبی تعلقات تھے۔ مرابطین کے دور میں ابن رشد الجد (جنھیں شیخ مالکیہ کہا جاتا تھا) اور جو اشعری تھے، قاضی القضاۃ کے منصب پر فائز رہے۔ اسی طرح ابو عمران فاسی، جنھیں ریاستِ مرابطین کے قیام کا اصل محرک مجھا جاتا ہے، بھی اشعری علما میں شمار ہوتے تھے۔ اشعری عقیدہ اہلِ سنت کے اصولی مذہب کے طور پر شمالی افریقہ کے وسیع علاقوں میں پھیل گیا۔ امام ابو بکر باقلانی نے اپنے متعدد شاگرد مختلف علاقوں میں بھیجے، جن میں ابو عبد اللہ حسین بن عبد اللہ بن حاتم ازدی بھی شامل تھے، جو شام، قیروان اور پھر مغرب پہنچے۔ [13] .[14]وہاں مغرب کے بڑے علما نے ان سے استفادہ کیا، جس کے نتیجے میں اشعری مکتبِ فکر صقلیہ (سسلی) اور اندلس تک پھیل گیا۔ اس مکتب کے فروغ میں ابن ابی زید ، ابو عمران فاسی ، ابو حسن قابسی، ابو الولید بن الباجی اور ان کے شاگردوں نے نمایاں کردار ادا کیا۔ [15] ،[16]اسی طرح مالکی فقہ کے ممتاز عالم ابو بکر ابن العربی، جن پر یوسف بن تاشفین اعتماد کرتے تھے، امام ابو حامد غزالی کے شاگرد تھے۔ امام غزالی اس دور میں مشرقِ اسلامی کے سب سے بڑے علما میں شمار ہوتے تھے اور اشعری مکتبِ فکر کے اہم ائمہ تھے۔ روایت ہے کہ جب یوسف بن تاشفین نے اندلس میں داخل ہونے کا ارادہ کیا تو انھوں نے اشعری مکتبِ فکر کے عظیم امام ابو حامد غزالی سے مشورہ بھی کیا۔ [17] .[18]

بعض سلفی علما کا موقف ہے کہ مغربِ اسلامی میں دولتِ مرابطین کے زمانے تک اہلِ حدیث کا عقیدہ، ان کے نزدیک سلفی منہج کے مطابق، غالب تھا۔ ان کے مطابق مرابطین نے اسی عقیدے کو فروغ دیا، مختلف فرقوں اور علمِ کلام پر مبنی عقائد کی مخالفت کی اور امام ابو حامد غزالی کی بعض کتابوں کو جلانے کا حکم بھی دیا۔ ان کے بقول بعد میں محمد بن تومرت نے اشعری عقیدے کی دعوت دی اور وہی مغربِ عربی میں اشعری منہج متعارف کرانے کا سبب بنا۔ انھوں نے مرابطین کو مجسمہ اور مشبہہ قرار دے کر ان کی تکفیر کی، اپنے پیروکاروں کو موحدین کا نام دیا اور اسی بنیاد پر مرابطین کے خلاف جنگ کو جائز قرار دیا۔ بعد ازاں ان کے پیروکاروں نے مرابطین کی حکومت کا خاتمہ کرکے دولتِ موحدین قائم کی، جس نے اشعری منہج کو اختیار کیا۔ [19]اس نقطۂ نظر کے مطابق اس کے بعد سے آج تک اشعری عقیدہ مغرب میں غالب رہا۔ اس کے برعکس اشعری مؤرخین کا کہنا ہے کہ مرابطین اور موحدین کے درمیان اصل تنازع سیاسی اور قبائلی تھا، نہ کہ مذہبی۔ ان کے مطابق مرابطین کے بانی خود اشعری تھے اور محمد بن تومرت نے بھی اپنی ریاست کے قیام کا مقصد اشعری عقیدے کا فروغ نہیں بنایا تھا، اس لیے انھیں اشاعرہ کا نمائندہ قرار دینا درست نہیں۔ ان کے نزدیک ابن تومرت کا بنیادی ہدف اقتدار حاصل کرنا تھا۔ [20]البتہ اشعری مؤرخین اس بات کو تسلیم کرتے ہیں کہ دولتِ مرابطین کے زوال کے بعد اشعری منہج کی تدریس میں نمایاں اضافہ ہوا۔ ان کے مطابق چونکہ مغربِ اسلامی میں مشرق کی طرح مختلف فکری فرقے موجود نہیں تھے، اس لیے وہاں کے علما نے عقائدی مناظروں کی بجائے دینی فروع، خصوصاً فقہ، پر زیادہ توجہ دی، کیونکہ وہاں اشاعرہ، اہلِ حدیث اور معتزلہ کے درمیان مشرق جیسا فکری اختلاف موجود نہیں تھا۔[21][22]

جب مغربِ اسلامی میں حالات مستحکم ہوئے اور فتنوں کا خاتمہ ہوا تو متعدد علمی مراکز نے ایسا تعلیمی منہج اختیار کیا جو مشرق کے بڑے اداروں کا ہم پلہ بن گیا، خصوصاً اہلِ سنت والجماعت کے عقائد کو اشعری منہج کے مطابق پڑھانے میں۔ ان اہم مراکز میں درج ذیل شامل ہیں: جامع الازہر (مصر) جامع القرویین (مغرب) جامع زیتونہ (تیونس) جامع اموی (دمشق) ندوۃ العلماء (ہند) دار العلوم دیوبند (ہند) اس کے علاوہ عالمِ اسلام کے مختلف حصوں میں قائم دیگر بڑے علمی مراکز بھی عمومی طور پر اشعری یا ماتریدی عقیدے کو اختیار کیے ہوئے تھے۔ ان سے پہلے بھی اسلامی دنیا میں متعدد مدارس قائم کیے گئے تھے، جن میں مدارسِ نظامیہ خاص طور پر مشہور ہیں، جو وزیر نظام الملک کے نام سے منسوب تھے۔ ان مدارس کی تعداد اتنی زیادہ تھی کہ کہا جاتا تھا عراق اور خراسان کا شاید ہی کوئی شہر ایسا ہو جہاں ان میں سے کوئی مدرسہ موجود نہ ہو۔ اہلِ سنت کے مذہب کے فروغ میں ان مدارس کا نمایاں کردار رہا۔ ان میں سب سے مشہور مدرسۂ نظامیہ بغداد تھا، جسے شیخ علی طنطاوی نے اپنے زمانے کی دنیا کی سب سے بڑی جامعہ قرار دیا ہے۔ اس کے مشائخ میں امام ابو اسحاق شیرازی اور بعد ازاں امام ابو حامد غزالی شامل تھے۔ اسی طرح مدرسۂ نظامیہ نیشاپور کے شیخ پہلے امام ابو معالی الجوینی اور ان کے بعد امام غزالی رہے۔ اہم علمی اداروں میں دار الحدیث الاشرفیہ بھی شامل تھی، جس کے بانی نے شرط رکھی تھی کہ اس کا شیخ صرف اشعری عقیدہ عالم ہی ہوگا۔ اس بات کا ذکر امام تاج الدین سبکی نے اپنی کتاب طبقات شافعیہ الکبریٰ میں کیا ہے۔ اس ادارے کے پہلے شیخ حافظ ابو عمرو ابن الصلاح تھے، جن کے بعد امام یحییٰ بن شرف نووی، حافظ جمال الدین مزی، حافظ تقی الدین سبکی ، حافظ ابن کثیر اور دیگر جلیل القدر علما اس منصب پر فائز ہوئے۔ اس مدرسے سے فارغ التحصیل علما کی تعداد بے شمار ہے اور یہ ادارہ صدیوں تک علما، ائمہ، محدثین، فقہا اور قراء کی تربیت کرتا رہا۔ [23]

افکار و عقائد

[ترمیم]

اشعریہ ایک سنی مکتبِ فکر ہے، جس کے عقائد اہلِ سنت کے دیگر مکاتب، خصوصاً ماتریدیہ، سے بہت حد تک ہم آہنگ ہیں۔ اختلاف صرف چند مسائل میں ہے، جس کی بنیادی وجہ دلائل اخذ کرنے کے طریقۂ کار کا فرق ہے۔ اشعری علما نے بعض مقامات پر علمِ کلام کا منہج اختیار کیا۔ امام ابو الحسن اشعری نے عقائد کے اثبات میں نقل اور عقل دونوں سے استدلال کیا۔ وہ قرآن و سنت میں وارد اللہ تعالیٰ کی صفات، انبیائے کرام، یومِ آخرت، فرشتوں، حساب، ثواب اور عذاب پر ایمان کو ثابت مانتے تھے اور ان کی صداقت پر عقلی دلائل اور منطقی براہین بھی پیش کرتے تھے۔ ان کے نزدیک عقل نصوصِ شرعیہ پر حاکم نہیں بلکہ ان کی مؤید اور خادم ہے۔ [10] امام اشعری کے عقلی منہج اختیار کرنے کی چند وجوہات یہ تھیں:

  • وہ ابتدا میں معتزلہ سے وابستہ رہے تھے، اس لیے استدلال کا طریقہ انہی سے لیا، مگر قرآن و حدیث کی تعبیر میں ان کا طریقہ اختیار نہیں کیا۔
  • انھوں نے معتزلہ کی تردید کے لیے انہی کے استدلالی طریقے سے ان پر حجت قائم کی۔
  • انھوں نے فلاسفہ، قرامطہ، باطنیہ اور دیگر فرقوں کا رد کیا، جن میں سے اکثر صرف عقلی اور منطقی دلائل ہی سے قائل ہوتے تھے۔

امام تاج الدین سبکی نے طبقات الشافعیۃ الکبریٰ میں امام ابو الحسن اشعری کے بارے میں لکھا: ’’شیخ ابو الحسن اشعری بصری اہلِ سنت والجماعت کے طریقے کے امام، متکلمین کے پیشوا، سنتِ رسول ﷺ کے مددگار، دین کے محافظ اور مسلمانوں کے عقائد کے پاسبان تھے۔ انھوں نے شریعت کو باطل افکار سے محفوظ رکھا اور اسلام کی بھرپور نصرت کی۔‘‘[24]

پھر ان کی شان میں یہ اشعار نقل کیے:

بهمة في الثريا إثر أخمصهاوعزمة ليس من عاداتها السأم

ترجمہ: "ایسی بلند ہمت کہ اس کی بلندی ثریا (پروین) کے ستاروں تک پہنچتی ہے اور ایسا پختہ عزم کہ جسے کبھی تھکن یا اکتاہٹ نہیں آتی۔" وہ ہمیشہ محنت و جدوجہد میں مصروف رہے، پوری لگن اور عزم کے ساتھ آگے بڑھتے رہے، یہاں تک کہ لوگوں کے دلوں کو شبہات سے اس طرح پاک کر دیا جیسے سفید کپڑا میل سے پاک کر دیا جاتا ہے۔ انھوں نے یقین کے نور کے ذریعے لوگوں کو گمراہی کے گڑھوں میں گرنے سے بچایا۔ انھوں نے ایسی مدلل گفتگو کی کہ کسی مخالف کے لیے کوئی بات باقی نہ رہی، باطل نظریات کو مٹا دیا، کیونکہ حق ہمیشہ باطل کی بے بنیاد باتوں کو ختم کر دیتا ہے۔ انھوں نے رؤیتِ باری تعالیٰ، شفاعت، نظر اور دیگر عقائد سے متعلق احادیث کی بھرپور حمایت کی اور اللہ تعالیٰ نے انھیں ایسے دلائل، مباحث اور براہین عطا کیے جو نہ انھوں نے کسی استاد سے سنے تھے، نہ کسی مخالف نے ان پر پیش کیے تھے اور نہ وہ کسی کتاب میں دیکھے تھے۔

حسین بن محمد عسکری کہتے ہیں: "امام ابو الحسن اشعری، ابو علی جبائی کے شاگرد تھے۔ وہ نہایت صاحبِ نظر اور مناظرے میں مضبوط تھے، جبکہ جبائی اگرچہ صاحبِ تصنیف اور قلم تھے، لیکن مناظرے میں اتنے قوی نہ تھے۔ جب کوئی مناظرہ پیش آتا تو وہ ابو الحسن سے کہتے: میری طرف سے تم مناظرہ کرو۔" جان لو کہ اگر ہم امام ابو الحسن اشعری کے تمام فضائل بیان کرنا چاہیں تو صفحات کم پڑ جائیں گے اور قلم عاجز آ جائیں گے۔ جو شخص ان کی عظمت کو جاننا اور اپنے دل کو ان کی محبت سے بھرنا چاہتا ہو، اسے حافظ ابن عساکر کی تصنیف «تبيين كذب المفتری فيما نسب الى الامام ابی الحسن الاشعری» کا مطالعہ کرنا چاہیے، جو اس موضوع پر نہایت عظیم، مفید اور بہترین کتاب ہے۔ بعض لوگوں نے گمان کیا کہ امام ابو الحسن اشعری فقہ میں مالکی تھے، لیکن یہ درست نہیں۔ وہ فقہ میں شافعی تھے۔ انھوں نے ابو اسحاق مروزی سے فقہ حاصل کی۔ اس بات کی تصریح ابو بکر ابن فورک نے طبقات المتکلمین میں اور ابو اسحاق اسفرائینی نے بھی کی، جسے شیخ ابو محمد الجوینی نے شرح الرسالہ میں نقل کیا ہے۔[25]

یہ بھی جان لو کہ امام ابو الحسن اشعری نے نہ کوئی نیا عقیدہ ایجاد کیا اور نہ کوئی نیا مذہب قائم کیا، بلکہ انھوں نے سلف صالحین کے عقائد کی وضاحت کی اور انہی عقائد کا دفاع کیا جن پر رسول اللہ ﷺ کے صحابہ کرام تھے۔ ان کی طرف نسبت صرف اس لیے کی جاتی ہے کہ انھوں نے سلف کے طریقے کو مضبوط دلائل اور براہین کے ساتھ ثابت کیا۔ چنانچہ جو شخص ان کے استدلالی منہج کی پیروی کرے، وہ اشعری کہلاتا ہے۔ میں نے ایک مرتبہ اپنے شیخ امام سے عرض کیا: "مجھے حافظ ابن عساکر پر تعجب ہے کہ انھوں نے امام اشعری کے پیروکاروں میں صرف چند لوگوں کا ذکر کیا، حالانکہ اگر وہ استقصا کرتے تو چاروں فقہی مذاہب کے اکثر علما اس میں شامل ہوتے، کیونکہ وہ سب عقائد میں امام ابو الحسن کے مسلک پر اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتے ہیں۔" شیخ نے جواب دیا: "انھوں نے صرف ان لوگوں کا ذکر کیا ہے جو امام ابو الحسن کے دفاع میں مشہور تھے، ورنہ حقیقت یہی ہے کہ چاروں مذاہب کے اکثر علما انھی کے عقائد پر تھے۔" اسی طرح عز الدین عبد السلام نے ذکر کیا کہ امام ابو الحسن اشعری کے عقیدے پر شافعی ، مالکی ، حنفی اور حنابلہ کے اکابر علما متفق تھے۔ ان کے اس قول کی تائید ان کے زمانے کے شیخِ مالکیہ ابن حاجب اور شیخِ حنفیہ جمال الدین حصیری نے بھی کی۔[26] متعدد معتبر علما نے نقل کیا ہے کہ امام ابو الحسن اشعری فقہِ شافعی، ابو اسحاق مروزی سے پڑھتے تھے، جبکہ ابو اسحاق المروزی علمِ کلام امام اشعری سے حاصل کرتے تھے، اسی لیے وہ ان کی مجلس میں بیٹھا کرتے تھے۔

امام عز الدین عبد السلام عقیدے کے اعتبار سے امام ابو الحسن اشعری کے مسلک پر تھے۔ اس بات کو انھوں نے اپنے رسالہ «ملحة الاعتقاد» میں واضح کیا، جو انھوں نے سلطان اشرف کو اس وقت بھیجا جب دونوں کے درمیان اللہ تعالیٰ کے کلام کے مسئلے میں اختلاف پیدا ہوا۔ ابن سبکی نے طبقات میں امام عز بن عبد السلام کے حالات میں، ان کے صاحبزادے شیخ عبد اللطیف کے حوالے سے، اس رسالے کو نقل کیا ہے۔ اس کے آغاز میں وہ لکھتے ہیں: "تمام تعریفیں اس اللہ کے لیے ہیں جو عزت و جلال، قدرت و کمال، انعام و فضل کا مالک ہے، یکتا، بے نیاز، نہ اس نے کسی کو جنا، نہ وہ کسی سے جنا گیا اور نہ اس کا کوئی ہمسر ہے۔ وہ نہ جسم ہے، نہ محدود جوہر، نہ کسی چیز کے مشابہ ہے اور نہ کوئی چیز اس کے مشابہ ہے۔ نہ جہات اسے گھیر سکتی ہیں، نہ زمینیں اور نہ آسمان۔ وہ مکان کے پیدا ہونے سے پہلے بھی تھا، زمانے کے وجود سے پہلے بھی تھا اور اب بھی ویسا ہی ہے جیسا ہمیشہ سے تھا۔ اسی نے مخلوق اور ان کے اعمال پیدا کیے، ان کی روزیاں اور ان کی عمریں مقدر کیں۔ اس کی ہر نعمت محض فضل ہے اور ہر سزا عین عدل ہے۔"[27]

پھر وہ آیت نقل کرتے ہیں: ﴿لَا يُسْأَلُ عَمَّا يَفْعَلُ وَهُمْ يُسْأَلُونَ﴾ "وہ جو چاہے کرتا ہے، اس سے باز پرس نہیں ہوگی، جبکہ لوگوں سے باز پرس ہوگی۔" اس کے بعد فرماتے ہیں: "اللہ تعالیٰ عرشِ مجید پر اسی طرح مستوی ہے جیسا اس نے خود فرمایا اور جس معنی کا اس نے ارادہ کیا، ایسا استواء جو جسمانی اتصال، قرار، حلول، انتقال اور کسی مکان میں ٹھہرنے سے پاک ہے۔ عرش اللہ کو نہیں اٹھاتا بلکہ عرش اور اس کے اٹھانے والے خود اللہ کی قدرت کے سہارے قائم ہیں اور اس کی گرفت میں ہیں۔" پھر اللہ تعالیٰ کی صفات بیان کرتے ہوئے کہتے ہیں: "وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے، ہر چیز کو شمار کرنے والا ہے، دلوں کے راز اور خیالات سے باخبر ہے، زندہ، ارادہ رکھنے والا، سننے والا، دیکھنے والا، قدرت والا اور ایسا متکلم ہے جس کا کلام قدیم اور ازلی ہے، جو نہ حرف ہے اور نہ آواز۔" اس کے بعد وہ ان لوگوں کا رد کرتے ہیں جو کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کا کلام حرف اور آواز پر مشتمل ہے۔ وہ فرماتے ہیں:"یہ تصور نہیں کیا جا سکتا کہ اللہ کا کلام تختیوں یا کاغذوں پر سیاہی بن جائے یا ایسی شکل اختیار کرے جسے آنکھیں دیکھ سکیں، جیسا کہ بعض اہلِ حشو کا گمان ہے۔ لکھائی تو بندوں کا فعل ہے اور بندوں کے افعال قدیم نہیں ہو سکتے۔"

البتہ قرآنِ مجید کی تعظیم اس لیے واجب ہے کہ وہ اللہ کے کلام پر دلالت کرتا ہے، جیسے اللہ کے اسمائے حسنیٰ کی تعظیم اس لیے کی جاتی ہے کہ وہ اس کی ذات پر دلالت کرتے ہیں۔ اسی وجہ سے کعبہ، انبیا، اولیاء اور صالحین کا احترام بھی لازم ہے۔ پھر اس مفہوم کو واضح کرنے کے لیے مشہور شعر نقل کرتے ہیں:

أمر على الديـار ديـار ليلىأقبـل ذا الجـدار وذا الجـدارا
وما حب الديار شغفن قلبيولكن حب من سكن الديـارا

ترجمہ: میں لیلیٰ کے دیار سے گزرتا ہوں، کبھی اس دیوار کو بوسہ دیتا ہوں اور کبھی دوسری دیوار کو۔ مجھے ان دیواروں سے محبت نہیں، بلکہ اس سے محبت ہے جو ان میں رہتا تھا۔ پھر فرماتے ہیں کہ اسی وجہ سے حجرِ اسود کو بوسہ دیا جاتا ہے اور اسی بنا پر بے وضو شخص کے لیے مصحف کو چھونا جائز نہیں، خواہ وہ اس کی تحریر ہو، حاشیہ ہو یا جلد۔ اس کے بعد وہ سختی سے فرماتے ہیں: "تباہی ہے اس شخص کے لیے جو یہ گمان کرے کہ اللہ تعالیٰ کا قدیم کلام بندوں کے الفاظ یا سیاہی سے لکھی ہوئی شکلوں ہی کا نام ہے۔"[28] پھر لکھتے ہیں: "امام اشعری رحمہ اللہ کا عقیدہ ان ننانوے اسمائے حسنیٰ پر مشتمل ہے جن سے اللہ تعالیٰ نے اپنے آپ کو قرآن اور سنت میں موسوم فرمایا ہے۔" مزید تفصیل بیان کرنے کے بعد فرماتے ہیں: "یہ امام اشعری رحمہ اللہ، سلف صالحین، اہلِ طریقت اور اہلِ حقیقت کے عقیدے کا صرف ایک اجمالی بیان ہے۔ اس کی نسبت تفصیلی بیان سے ایسی ہے جیسے ایک قطرے کی نسبت بھرپور سمندر سے۔"

ماخذِ تلقی

[ترمیم]

اشاعرہ کے نزدیک استدلال نقلی دلائل (قرآن و سنت کی نصوص) اور عقلی دلائل دونوں سے کیا جاتا ہے اور یہ دونوں ایک دوسرے کی تائید کرتے ہیں۔ ان کے نزدیک صحیح عقل اور صحیح و ثابت نقل میں کوئی حقیقی تعارض نہیں ہوتا۔ جب اشاعرہ ایسے مخالفین سے گفتگو کرتے ہیں جو قرآن و سنت کو حجت نہیں مانتے، تو وہ پہلے عقلی دلائل پیش کرتے ہیں، پھر نقلی دلائل۔ یہ طریقہ صرف عقائد کے باب میں اختیار کیا جاتا ہے، کیونکہ مقصد دہریوں، ثنویوں، تثلیث کے قائلین، مجسمہ، مشرکین اور دیگر مخالفین پر حجت قائم کرنا ہوتا ہے۔ چونکہ یہ لوگ قرآن و سنت کو اس وقت تک حجت نہیں مانتے جب تک عقلی طور پر اللہ تعالیٰ کے وجود، قرآن کے کلامِ الٰہی ہونے اور حضرت محمد ﷺ کے رسولِ برحق ہونے کا ثبوت نہ مل جائے، اس لیے پہلے عقلی استدلال کیا جاتا ہے۔ لہٰذا اشاعرہ کے نزدیک ماخذِ تلقی صرف عقل نہیں بلکہ خبرِ صادق (قرآن و سنت) اور عقل دونوں ہیں۔ امام ابو حامد الغزالی نے الرسالة اللدنيہ میں فرمایا: "علمِ کلام کے اہلِ نظر سب سے پہلے قرآنِ مجید کی آیات سے استدلال کرتے ہیں، پھر رسول اللہ ﷺ کی احادیث سے اور اس کے بعد عقلی دلائل اور قیاسی براہین سے۔" [29]

سعید فودہ معاصر دور کے نمایاں متکلمین میں سے ہیں، جو اشعریہ اور اشعری فکر کے دفاع کے لیے معروف ہیں۔.

اشاعرہ کے نزدیک عام مسلمانوں کے لیے علمِ کلام سیکھنا ضروری نہیں، خصوصاً جب ایسے مخالف فرقے موجود نہ ہوں جن کے رد کے لیے علمِ کلام کی ضرورت پیش آئے۔ ان کے مطابق صحابۂ کرام اور تابعین کا بھی یہی طرزِ عمل تھا، کیونکہ ان کے دور میں معتزلہ جیسے فرقے پیدا نہیں ہوئے تھے، اس لیے وہ علمِ کلام سے احتیاط کی تلقین کرتے تھے۔ لیکن جب ایسے فرقے ظاہر ہوئے جو اسلامی عقائد، اللہ تعالیٰ کے وجود اور اہلِ سنت کے عقائد پر شبہات پھیلانے لگے، تو بعض علما نے ان شبہات کے ازالے اور اسلام کے دفاع کے لیے علمِ کلام کے استعمال کو ضروری سمجھا، تاکہ عوام گمراہ نہ ہوں۔[30]، اسی بنا پر بہت سے اشاعرہ نے کہا کہ علمِ کلام کا سیکھنا صرف ان لوگوں کے لیے مطلوب ہے: جنھیں عقائد میں شبہات لاحق ہوں تاکہ ان کے شبہات دور ہوں۔ جو مضبوط دلائل کے ساتھ اسلام کا دفاع کرنا چاہتے ہوں۔ جو گمراہ لوگوں کو حق کی طرف رہنمائی کرنا چاہتے ہوں۔ جو شبہات پھیلانے والوں کا علمی رد کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ [31]

عام مسلمانوں کے لیے صحیح عقائد کا اجمالی علم کافی ہے، جبکہ ہر شخص پر علمِ کلام کے تفصیلی دلائل سیکھنا لازم نہیں۔ ابو اسحاق اسفرائینی کا یہ موقف تھا کہ ہر شخص کے ایمان کی صحت علمِ کلام کے دلائل جاننے پر موقوف ہے، مگر اس رائے کی اکثر اشعری ائمہ نے مخالفت کی، خصوصاً ابو حامد الغزالی نے، کیونکہ ان کے نزدیک اس سے عوامِ مسلمین کی تکفیر لازم آتی تھی۔ اسی لیے اشاعرہ کے ہاں راجح قول یہ قرار پایا کہ عوام کو عقائد کے کلامی دلائل کا مکلف نہیں بنایا جائے گا، کیونکہ یہ ان کے لیے دشوار ہے۔ صفاتِ باری تعالیٰ کے باب میں اشاعرہ کے ہاں دو معروف مناہج ہیں:[32]، تفویض مع التنزیہ تأویل ان کے نزدیک یہ ایک اجتہادی مسئلہ ہے۔ بعض اشعری علما نے ابتدا میں تأویل کو اختیار کیا، پھر تفویض مع التنزیہ کو ترجیح دی، جن میں ابو المعالی جوینی نمایاں ہیں۔ تاج الدین سبکی نے الرسالۃ النظامیہ کے حوالے سے لکھا: "اس مسئلے میں نہ تفویض پر انکار ہے اور نہ تأویل پر، کیونکہ یہ اجتہادی مسئلہ ہے۔ اصل مصیبت یہ ہے کہ نصوص کو ان کے ظاہری جسمانی معنی پر محمول کیا جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہی اللہ کی مراد ہے، کیونکہ یہ مجسمہ کا قول ہے۔"[33] اشاعرہ کے نزدیک تفویض بھی ایک قسم کی تأویل ہے، مگر اجمالی تأویل، کیونکہ اس میں بھی ظاہری ناممکن معنی کو اللہ تعالیٰ سے دور رکھا جاتا ہے۔ اس لیے ان کے نزدیک تفویض اور تأویل دونوں کا مقصد اللہ تعالیٰ کو تشبیہ سے پاک ماننا ہے۔ ابن رشد کے نزدیک علمِ کلام سے استدلال مستحب ہے، جبکہ جامع زیتونہ کے شیخ ابن عرفہ کے مطابق اشاعرہ کا مشہور قول یہ ہے کہ علمِ کلام سیکھنا فرضِ کفایہ ہے، تاکہ ہر ایسے علاقے میں جہاں دوسرے علما تک پہنچنا دشوار ہو، کچھ اہلِ علم ایسے موجود ہوں جو شبہات کا علمی جواب دے سکیں۔[34]

تفویض (اجمالی تاویل)

[ترمیم]

اگرچہ متعدد روایات سے معلوم ہوتا ہے کہ صحابۂ کرام، تابعین اور سلف صالحین نے بعض متشابہ نصوص کی تفصیلی تاویل بھی کی، تاہم اشاعرہ کے نزدیک سلف کا غالب منہج تفویض مع التنزیہ تھا، جسے وہ اجمالی تاویل قرار دیتے ہیں۔ اشاعرہ کے مطابق سلف متشابہ نصوص کے ظاہری ایسے معنی، جو اللہ تعالیٰ کے لیے ناممکن اور تشبیہ پر مشتمل ہوں، ان کا انکار کرتے تھے، مگر ان کے صحیح معنی متعین کرنے کی بجائے اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتے تھے۔ یہی تفویض ہے۔ اشاعرہ کے نزدیک تفویض اور تفصیلی تاویل میں اصل فرق یہ ہے کہ: تفویض (اجمالی تاویل): ظاہری معنی کی نفی کی جاتی ہے، مگر مرادِ الٰہی متعین نہیں کی جاتی بلکہ اللہ کے سپرد کر دی جاتی ہے۔ تفصیلی تاویل: ظاہری معنی کی نفی کے بعد ایسا معنی اختیار کیا جاتا ہے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہو، عربی زبان کے اصولوں کے مطابق ہو اور تشبیہ سے پاک ہو۔ [35]

عز بن عبد السلام نے شرح المشکاة میں لکھا کہ: "سلف اور خلف حقیقت میں تاویل پر متفق ہیں۔ اختلاف صرف تعبیر کا ہے، کیونکہ دونوں ظاہری نامناسب معنی کو رد کرتے ہیں۔ فرق صرف یہ ہے کہ سلف اجمالی تاویل (تفویض) کرتے تھے، جبکہ خلف بدعتیوں کے کثرت سے پیدا ہونے کے باعث تفصیلی تاویل بیان کرتے تھے۔ اگر ہمارے زمانے میں بھی سلف جیسی عقائد کی صفائی ہوتی تو ہمیں کسی تفصیلی تاویل کی ضرورت نہ ہوتی۔"[36] اشاعرہ کے ہاں ایک مشہور قول ہے: "سلف کا طریقہ زیادہ محفوظ (أسلم) ہے اور خلف کا طریقہ زیادہ علمی اور زیادہ مضبوط (اعلم واحكم) ہے۔" اشاعرہ کے ہاں ایک مشہور قول ہے: سلف کا طریقہ (جو عموماً تفویض تھا) زیادہ محفوظ ہے، کیونکہ وہ کسی خاص معنی کو قطعی طور پر متعین نہیں کرتے تھے اور مراد اللہ کے سپرد کر دیتے تھے۔ خلف کا طریقہ (جو عموماً تفصیلی تاویل تھا) زیادہ علمی اور مضبوط ہے، کیونکہ اس کے ذریعے اہلِ بدعت اور مخالفین کے شبہات کا مدلل جواب دیا جا سکتا ہے۔[37] اس کے باوجود اشاعرہ کے نزدیک تفویض ہی اصل اور راجح طریقہ ہے۔ حتیٰ کہ وہ علما بھی جو تفصیلی تاویل کرتے ہیں، اس تاویل کو قطعی مرادِ الٰہی قرار نہیں دیتے، بلکہ صرف مخالفین کے شبہات دور کرنے کے لیے ایک ممکنہ اور عربی زبان کے مطابق معنی بیان کرتے ہیں۔ اسی لیے اشاعرہ کہتے ہیں کہ اگر بدعتیوں اور شبہات پھیلانے والوں کا وجود نہ ہوتا تو تفویض ہی بہتر اور زیادہ محفوظ طریقہ ہوتا، لیکن اسلام اور اہلِ سنت کے عقائد کے دفاع کے لیے بعض مواقع پر تفصیلی تاویل اختیار کی گئی، خصوصاً جب وہ عربی زبان کے مطابق ہو اور اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کی تشبیہ سے پاک رکھتی ہو۔

تاویل (تفصیلی تاویل)

[ترمیم]
اشعری علما نے قرآنِ کریم اور احادیثِ نبویہ کے معانی کو درست طور پر سمجھنے کے لیے عربی زبان کے علوم پر خاص توجہ دی۔

اشاعرہ الفاظ کے ظاہری معنی کو اصل مانتے ہیں، لیکن اگر کوئی قطعی دلیل موجود ہو تو لفظ کو اس کے ظاہری راجح معنی سے ہٹا کر ایسے معنی پر محمول کرنا جائز سمجھتے ہیں جو بظاہر کم راجح ہو۔ اس دلیل کو وہ قرینہ کہتے ہیں۔ مثال کے طور پر قرآنِ مجید کی آیت: ﴿نَسُوا اللَّهَ فَنَسِيَهُمْ﴾ "انھوں نے اللہ کو بھلا دیا، تو اللہ نے بھی انھیں بھلا دیا۔" عربی زبان میں نسیان کا ایک معنی بھول جانا (علم کا زائل ہونا) ہے اور دوسرا معنی ترک کر دینا ہے۔ چونکہ اللہ تعالیٰ کے لیے بھول جانا محال ہے، اس لیے یہاں "نسیان" سے مراد ترک کرنا لیا جائے گا۔ یہی قرینہ لفظ کو اس کے ظاہری معنی سے ہٹا کر دوسرے معنی کی طرف منتقل کرتا ہے۔

اشاعرہ کے نزدیک: بلا دلیل کسی لفظ کو اس کے ظاہری معنی سے ہٹانا جائز نہیں۔ اگر قطعی دلیل کی بنا پر ظاہری معنی چھوڑا جائے تو اسے صحیح تاویل کہتے ہیں۔ اگر کسی کمزور یا غیر معتبر دلیل کی بنیاد پر ایسا کیا جائے تو وہ فاسد تاویل ہے۔ اور اگر نہ کوئی دلیل ہو، نہ شبہِ دلیل، پھر بھی لفظ کو اس کے ظاہر سے ہٹا دیا جائے تو یہ کلام کو اس کے مقام سے تحریف کرنا ہے۔ اسی بنیاد پر اشاعرہ متشابہ آیات میں صحیح تاویل کے قائل ہیں، یعنی لفظ کو ایسے معنی پر محمول کرنا جو قرائن، عربی زبان کے عرف اور سیاق کے مطابق ہو۔ ان کے نزدیک اصل اعتبار متکلم کی مراد کا ہے، نہ کہ صرف الفاظ کا۔ [38] مثال کے طور پر: "میں نے ایک شیر دیکھا۔" یہاں "شیر" سے مراد درندہ ہے۔ "میں نے ایک شیر کو منبر پر خطبہ دیتے دیکھا۔" یہاں "شیر" سے مراد بہادر انسان ہے، کیونکہ "منبر پر خطبہ دینا" ایک قرینہ ہے جو اصل مراد واضح کرتا ہے۔ لہٰذا اشاعرہ کے نزدیک جب متکلم کی مراد کسی معتبر دلیل، قرینہ، عقل، عرف، اشارے یا حالات سے واضح ہو جائے تو اسی کے مطابق معنی لینا واجب ہے، کیونکہ الفاظ بذاتِ خود مقصود نہیں ہوتے بلکہ متکلم کی مراد تک پہنچنے کا ذریعہ ہوتے ہیں۔ [38]

تاویل کی ضرورت

[ترمیم]

متعدد علما نے یہ واضح کیا ہے کہ بعض حالات میں تأویل اختیار کرنے کی ضرورت پیش آتی ہے۔ ان کے چند اقوال درج ذیل ہیں: [39][40]

  • امام محمد بن ادریس شافعی نے قرآن کے بارے میں فرمایا:"قرآن میں ایسی آیات بھی ہیں جن کے سیاق سے معلوم ہو جاتا ہے کہ ان سے ظاہری معنی مراد نہیں۔" [41][42]
  • امام ابو اسحاق شاطبی نے اپنی کتاب الموافقات میں لکھا:"قرآن کے ظاہری الفاظ کو اس کے مقاصد اور معانی پر غور کیے بغیر اختیار کرنا اور ابتدائی رائے ہی کو قطعی فیصلہ سمجھ لینا، حق سے دور کر دیتا ہے اور سیدھے راستے کے خلاف ہے۔ صرف ظاہر پر چلنے والے کے سامنے آیات اور دلائل باہم متعارض نظر آنے لگتے ہیں۔"[43]
  • امام ابو المعالی جوینی نے فرمایا:"اگر لوگ پہلے جیسے ہی رہتے تو ہمیں علمِ کلام میں مشغول ہونے کا حکم نہ ہوتا، لیکن اب بدعات بہت بڑھ گئی ہیں، اس لیے فتنوں کی موجوں کا مقابلہ کیے بغیر چارہ نہیں۔"[44]
  • امام ابو حامد الغزالی نے إلجام العوام میں فرمایا:"سلف کے دور میں دل مطمئن تھے، اس لیے انھوں نے تأویل سے احتراز کیا تاکہ لوگوں کے دلوں میں شبہات پیدا نہ ہوں۔ اس زمانے میں تأویل کی ضرورت نہ تھی، اس لیے جو ایسا کرتا وہ فتنہ کا باعث بنتا۔ لیکن اب جبکہ شبہات عام ہو چکے ہیں، تو بعض مقامات پر تأویل بیان کرنا اس امید سے درست ہے کہ لوگوں کے دلوں سے باطل شبہات دور ہو جائیں اور اس پر ملامت بھی کم ہے۔"[45]
  • حافظ ابن حجر عسقلانی فرماتے ہیں:"چونکہ سلف کے زمانے میں اہلِ بدعت ظاہر نہیں ہوئے تھے، اس لیے وہ صفاتِ الٰہیہ سے متعلق آیات کے حقیقی معنی اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیتے تھے، ساتھ ہی اللہ کو ان ظاہری معانی سے پاک سمجھتے تھے جو اس کی شان کے لائق نہیں۔ لیکن بعد کے علما نے ان آیات کی مناسب تاویل کی، کیونکہ ان کے زمانے میں اہلِ بدعت اور گمراہ فرقے بہت بڑھ گئے تھے اور ان کے شبہات کا جواب دینا ضروری ہو گیا تھا۔"
  • امام عز بن عبد السلام نے فرمایا:"صفاتِ الٰہیہ کی تاویل پر گفتگو کوئی بری بدعت نہیں، بلکہ جب شبہات پیدا ہو جائیں تو اس پر گفتگو ایک اچھی بلکہ واجب بدعت ہے۔ سلف نے اس موضوع پر اس لیے خاموشی اختیار کی کہ ان کے زمانے میں کوئی ایسا شخص موجود نہ تھا جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے کلام کو غلط معنی پر محمول کرتا۔ اگر ان کے زمانے میں ایسے شبہات پیدا ہوتے تو وہ سختی سے ان کا رد کرتے۔ جس طرح صحابہ اور سلف نے قدریہ کے ظہور کے بعد ان کا رد کیا، حالانکہ ان کے آنے سے پہلے وہ اس موضوع پر گفتگو نہیں کرتے تھے۔" امام عز بن عبد السلام نے مزید فرمایا:"شرائط کے ساتھ کی جانے والی تاویل حق کے زیادہ قریب ہے۔" اس پر مرتضیٰ زبیدی نے وضاحت کی کہ: "شرط سے مراد یہ ہے کہ تاویل عربی زبان کے قواعد کے مطابق ہو۔" [46] .[47]
  • امام ملا علی قاری نے مرقاة المفاتيح میں علما کے تاویل اختیار کرنے کی وجہ بیان کرتے ہوئے فرمایا:"علما نے تاویل اس لیے نہیں کی کہ وہ سلف صالحین کی مخالفت کرنا چاہتے تھے، معاذ اللہ، بلکہ ان کے زمانے میں مجسمہ، جہمیہ اور دیگر گمراہ فرقے عام ہو گئے تھے اور عوام کے ذہنوں پر اثر انداز ہو رہے تھے، اس لیے ان کے باطل عقائد کا رد کرنا ضروری ہو گیا تھا۔ اگر ہم بھی سلف صالحین کے زمانے جیسے ماحول میں ہوتے، جہاں عقائد صاف تھے اور اہلِ باطل موجود نہ تھے، تو ہم بھی ان نصوص کی تاویل میں نہ پڑتے۔" [48] انھوں نے مزید فرمایا: "سلف اور خلف اس بات پر متفق ہیں کہ متشابہ نصوص کے ایسے ظاہری معانی، جو اللہ تعالیٰ کے لیے محال ہیں، ان سے اللہ کو پاک مانا جائے۔ البتہ اکثر متاخرین نے تاویل کی، مگر اس دعوے کے بغیر کہ یہی اللہ کی قطعی مراد ہے۔ ان کا مقصد صرف عوام کو ظاہری تشبیہی معنی سے بچانا اور بدعتیوں کا رد کرنا تھا۔"[49]
  • امام تاج الدین سبکی نے اپنی کتاب طبقات الشافعية الكبرى میں فرمایا: "اشاعرہ کے ہاں صفاتِ الٰہیہ کے اثبات میں دو مشہور طریقے ہیں: یا تو صفات کو ان کے ظاہر پر برقرار رکھا جائے، مگر اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کی تشبیہ سے پاک مانا جائے یا ان کی تاویل کی جائے۔ صفات کو ظاہر پر برقرار رکھنے کے ساتھ تنزیہ کا عقیدہ رکھنا سلف کی طرف منسوب ہے اور یہی امام الحرمین جوینی نے الرسالة النظاميہ اور اپنی دیگر تصانیف میں اختیار کیا۔ ان کا تاویل سے رجوع دراصل تفویض کی طرف رجوع تھا۔ اس میں یا اس کے برعکس کسی پر نکیر نہیں، کیونکہ تاویل اور تفویض، دونوں تنزیہ کے ساتھ، اجتہادی مسئلہ ہیں۔ اصل مصیبت اور سب سے بڑی آفت یہ ہے کہ متشابہ نصوص کو ان کے ظاہری معنی پر ہی محمول کیا جائے اور یہ عقیدہ رکھا جائے کہ یہی اللہ تعالیٰ کی مراد ہے اور یہ معنی اللہ کے لیے محال نہیں۔ یہی مجسمہ کا مذہب ہے، جو گویا بت پرست ہیں۔ ان کے دلوں میں کجی ہے اور یہی کجی انھیں متشابہ آیات کے پیچھے لگا دیتی ہے تاکہ فتنہ برپا کریں۔ اللہ کی ان پر پے در پے لعنت ہو! وہ جھوٹ بولنے میں نہایت دلیر اور حقائق کو سمجھنے میں نہایت کم فہم ہیں۔" [50]
  • حافظ ابن عساکر نے اپنی کتاب تبيين كذب المفتری میں فرمایا: "اشاعرہ، الحمد للہ، نہ معتزلہ ہیں اور نہ اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کرنے والے۔ بلکہ وہ اللہ تعالیٰ کے لیے وہی صفات ثابت کرتے ہیں جو اس نے اپنی ذات کے لیے ثابت فرمائی ہیں، خواہ قرآنِ مجید کی محکم آیات میں ہوں یا رسول اللہ ﷺ کی صحیح احادیث میں اور وہ اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے نقص اور عیب سے پاک مانتے ہیں۔ لیکن جب وہ ایسے لوگوں سے سابقہ رکھتے ہیں جو اللہ کو جسم قرار دیتے ہیں، اس کی کیفیت بیان کرتے ہیں، اس کے لیے حد، جہت یا مخلوق جیسی صفات ثابت کرتے ہیں، تو اس وقت وہ تاویل کا راستہ اختیار کرتے ہیں، تاکہ واضح دلائل کے ذریعے اللہ تعالیٰ کی تنزیہ ثابت کریں اور اس بات میں مبالغہ کرتے ہیں کہ لوگ تشبیہ میں مبتلا نہ ہو جائیں۔ اور جب وہ اس خطرے سے محفوظ ہوتے ہیں تو خاموشی کو زیادہ محفوظ سمجھتے ہیں اور بلا ضرورت تاویل میں نہ پڑنے کو زیادہ حکمت والا طریقہ قرار دیتے ہیں۔ ان کی مثال ایک ماہر طبیب کی سی ہے، جو ہر مرض کا علاج اسی دوا سے کرتا ہے جو اس کے مناسب ہو۔ اگر مریض میں سردی غالب ہو تو گرم دوا دیتا ہے اور اگر گرمی غالب ہو تو ٹھنڈی دوا دیتا ہے۔ اسی طرح سفیان ثوری سے منقول ہے: 'اگر تم شام میں ہو تو حضرت علیؓ کے فضائل بیان کرو اور اگر کوفہ میں ہو تو حضرت عثمانؓ کے فضائل بیان کرو۔' اور جو شخص واضح دلیل کے ساتھ تاویل کرتا ہے، اس کی مثال ایک ماہر تیرنے والے کی سی ہے۔ جب تک وہ خشکی پر ہو، اسے تیرنے کی ضرورت نہیں ہوتی۔ لیکن اگر سمندر میں کشتی ٹوٹ جائے اور ڈوبنے کا خطرہ ہو، تو اپنی جان بچانے کے لیے تیرنا لازم ہو جاتا ہے۔ اسی طرح ایک موحد جب تک تشبیہ سے محفوظ اور تنزیہ کے راستے پر قائم ہے، اسے تاویل میں پڑنے کی ضرورت نہیں۔ لیکن اگر اس کے دل میں تشبیہ اور تمثیل کا غبار پیدا ہو جائے، تو پھر اس غبار کو تاویل کی چھلنی اور دلیل کی روشنی سے دور کرنا ضروری ہے، تاکہ اس کا عقیدہ نہ تشبیہ میں مبتلا ہو اور نہ تعطیل میں۔"[51]
  • امام یحیی بن شرف نووی نے المجموع شرح المہذب کے مقدمے میں لکھا:"صفاتِ الٰہیہ سے متعلق آیات اور احادیث کے بارے میں علما کا اختلاف ہے کہ آیا ان کی تاویل کی جائے یا نہیں؟ ایک جماعت کا کہنا ہے کہ ان کی ایسی تاویل کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہو اور یہی متکلمین کے دو معروف اقوال میں زیادہ مشہور ہے۔ جبکہ دوسری جماعت کا موقف یہ ہے کہ ان کی تاویل نہ کی جائے، بلکہ ان کے معنی کے بارے میں خاموشی اختیار کی جائے اور ان کا حقیقی علم اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے، ساتھ ہی یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ ہر قسم کی مخلوقی صفات سے پاک ہے۔ مثلاً کہا جائے: ہم اس بات پر ایمان رکھتے ہیں کہ "الرحمٰن عرش پر مستوی ہوا"، لیکن اس استواء کی حقیقت اور اس سے مراد کیا ہے، ہم نہیں جانتے۔ البتہ ہمارا عقیدہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کے بارے میں فرمایا گیا ہے: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ﴾ "اس جیسی کوئی چیز نہیں۔" اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ حلول، مخلوقی اوصاف اور حادث ہونے سے پاک ہے۔ یہی سلف یا ان کی اکثریت کا طریقہ ہے اور یہی زیادہ محفوظ ہے، کیونکہ انسان اس بحث کا مکلف نہیں۔ جب تنزیہ کا عقیدہ موجود ہو تو اس سے آگے بحث کرنے کی نہ ضرورت ہے اور نہ اس میں پڑنا مناسب ہے۔ البتہ اگر کسی بدعتی کے رد کے لیے ضرورت پیش آئے تو اس وقت علما تاویل کرتے ہیں اور علما سے جو تاویلات منقول ہیں، انھیں اسی ضرورت پر محمول کیا جائے گا۔"[52]
  • امام نووی نے شرح صحیح مسلم میں حدیثِ نزول کی شرح کرتے ہوئے فرمایا: "یہ حدیث صفاتِ الٰہیہ کی احادیث میں سے ہے اور اس کے بارے میں علما کے دو مشہور مذاہب ہیں: پہلا مذہب: جو سلف کی اکثریت اور بعض متکلمین کا ہے، وہ یہ ہے کہ ان احادیث پر اسی طرح ایمان لایا جائے جیسا اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہے اور ان کے ظاہری مخلوقی معنی مراد نہیں لیے جائیں، نیز ان کی تاویل میں گفتگو نہ کی جائے، ساتھ ہی یہ عقیدہ رکھا جائے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کی صفات، حرکت، انتقال اور دیگر تمام مخلوقی اوصاف سے پاک ہے۔ دوسرا مذہب: جو اکثر متکلمین اور بعض سلف کا ہے اور یہاں امام مالک بن انس اور امام اوزاعی کی طرف منقول ہے، وہ یہ ہے کہ ان نصوص کی ایسی تاویل کی جائے جو اللہ تعالیٰ کی شان کے مطابق ہو۔ اس حدیث کی انھوں نے دو تاویلات بیان کی ہیں: امام مالک اور دیگر علما کی تاویل: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کی رحمت، اس کا حکم یا اس کے فرشتوں کا نزول ہے، جیسے کہا جاتا ہے: "سلطان نے یہ کام کیا"، حالانکہ حقیقت میں اس کے کارندوں نے اس کے حکم سے کیا ہوتا ہے۔ استعارہ کی تاویل: اس سے مراد اللہ تعالیٰ کا دعا کرنے والوں کی طرف خصوصی توجہ، ان کی دعا قبول کرنا اور ان پر لطف و کرم فرمانا ہے۔ اور اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔" [53]امام مالک اور امام اوزاعی دونوں سلف صالحین کے جلیل القدر ائمہ میں شمار ہوتے ہیں۔
  • امام بدر الدین زرکشی نے اپنی کتاب البرہان فی علوم القرآن میں فرمایا: "علما کو تاویل کی طرف اس لیے جانا پڑا کہ قطعی دلائل سے ثابت ہو چکا تھا کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں جسمانیت اور متشابہ نصوص کے ظاہری معانی محال ہیں، اس لیے کلام کو اس کے ظاہری مفہوم سے ہٹا کر ایسے معنی پر محمول کرنا ضروری ہوا جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہو۔ ان مسائل میں گفتگو نہایت نازک ہے اور حقیقت یہ ہے کہ عقل اور نقل کے بنیادی اصولوں میں کوئی تضاد نہیں۔ اختلاف صرف الفاظ کے فہم میں ہوتا ہے اور مجاز کا استعمال عربی زبان میں معروف ہے۔ ہم اس لیے کہتے ہیں کہ عقل اور نقل میں بنیادی اختلاف نہیں، کیونکہ دلیل سے ثابت ہے کہ صحیح عقل، شریعت کے کسی ثابت شدہ حکم کی تکذیب نہیں کرتی۔ اگر عقل کو جھوٹا مان لیا جائے تو شریعت کی صداقت بھی مشکوک ہو جائے گی، کیونکہ شریعت کی حقانیت بھی عقل ہی سے معلوم ہوتی ہے۔ جو شخص علوم میں گہری مہارت رکھتا ہو، وہ عقل اور نقل کے درمیان تطبیق پیدا کر سکتا ہے، اگرچہ بعض مقامات پر تاویل باریک ہوتی ہے یا بعض جگہ انسانی عقل حقیقت تک نہیں پہنچ سکتی۔ اس لیے ہر چیز کی مکمل تطبیق کی امید رکھنا ممکن نہیں۔ آخرکار معاملہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان کی طرف لوٹتا ہے: فَاطِرُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ جَعَلَ لَكُم مِّنْ أَنفُسِكُمْ أَزْوَاجًا وَمِنَ الْأَنْعَامِ أَزْوَاجًا يَذْرَؤُكُمْ فِيهِ لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ البَصِيرُ "اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہی خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔" اسی کتاب میں امام زرکشی نے مزید فرمایا: "متشابہ آیات و احادیث کے بارے میں لوگوں کے تین مذاہب ہیں:[54]
  • پہلا: ان میں تاویل نہیں کی جائے گی، بلکہ انھیں ان کے ظاہری معنی پر رکھا جائے گا۔ یہ مشبہہ کا مذہب ہے۔ دوسرا: ان کی تاویل موجود ہے، لیکن ہم اس کی تعیین نہیں کرتے، بلکہ اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے ہیں اور ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کی تشبیہ اور تعطیل سے پاک مانتے ہیں۔ یہ سلف کا طریقہ ہے۔ [55]تیسرا: ان نصوص کی تاویل کی جائے گی اور ایسی تاویل کی جائے گی جو اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہو۔ پہلا مذہب باطل ہے، جبکہ دوسرے اور تیسرے دونوں طریقے صحابۂ کرام سے منقول ہیں۔" اس طرح امام زرکشی نے صحابۂ کرام سے بھی تاویل کا ثبوت نقل کیا۔ پھر انھوں نے مزید لکھا: "شیخ ابو عمرو ابن الصلاح نے فرمایا کہ یہی طریقہ امت کے ابتدائی اکابر، ائمہ فقہ اور محدثین کا تھا اور ہمارے متکلمین میں بھی کسی نے اس سے انکار نہیں کیا۔ جن صحابہ سے تاویل منقول ہے، ان میں حضرت علیؓ، عبد اللہ بن مسعودؓ اور عبد اللہ بن عباسؓ شامل ہیں۔ امام غزالی نے التفرقة بين الإسلام والزندقة میں ذکر کیا کہ امام احمد بن حنبل نے تین مقامات پر تاویل کی، اگرچہ بعض متاخرین نے اس کا انکار کیا۔ ابن الجوزی نے قاضی ابو یعلی سے نقل کیا کہ امام احمد نے آیت: ﴿أَوْ يَأْتِيَ رَبُّكَ﴾ کی تاویل کرتے ہوئے فرمایا: 'اس سے مراد اللہ کا حکم ہے'، کیونکہ دوسری آیت میں آیا ہے: ﴿أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ﴾ یعنی "یا تمھارے رب کا حکم آ جائے۔" ابن برہان اور دیگر اشعری علما نے بھی تاویل کو اختیار کیا۔ ان کے نزدیک اختلاف کی بنیاد یہ ہے کہ: کیا قرآن میں ایسی چیز ہو سکتی ہے جس کا معنی کسی کو معلوم نہ ہو؟ سلف کے طریقے کے مطابق اس کا جواب ہاں میں ہے، اس لیے انھوں نے تفویض اختیار کی اور تنزیہ پر اکتفا کیا۔ جبکہ ہمارے نزدیک ایسا نہیں، بلکہ راسخ فی العلم لوگ ان معانی کو جانتے ہیں۔"[54]
  • حنبلی محدث حافظ ابن الجوزی نے اپنی کتاب «المجالس» (جو مجالس ابن الجوزی فی المتشابہ من الآیات القرآنیة کے نام سے معروف ہے) میں تاویل کے انکار کرنے والوں پر سخت تنقید کرتے ہوئے فرمایا: "یہ کیسے کہا جا سکتا ہے کہ سلف نے کبھی تاویل استعمال نہیں کی، جبکہ صحیح حدیث میں موجود ہے کہ رسول اللہ ﷺ کے لیے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے وضو کا پانی پیش کیا۔ آپ ﷺ نے پوچھا:'یہ کس نے کیا؟' میں نے عرض کیا: 'یا رسول اللہ! میں نے۔' تو آپ ﷺ نے دعا فرمائی: 'اے اللہ! اسے دین کی سمجھ عطا فرما اور اسے تاویل کا علم سکھا۔' اب یا تو ماننا پڑے گا کہ رسول اللہ ﷺ نے ان کے حق میں دعا فرمائی یا (نعوذ باللہ) بددعا کی۔ ظاہر ہے کہ آپ ﷺ نے خیر کی دعا ہی فرمائی، نہ کہ بددعا۔ اگر تاویل ممنوع ہوتی تو یہ دعا ان کے حق میں نہیں بلکہ ان کے خلاف ہوتی۔ پھر اگر تم کہو کہ رسول اللہ ﷺ کی دعا قبول نہیں ہوتی تو یہ باطل ہے اور اگر مان لو کہ قبول ہوتی ہے تو تمھارا یہ دعویٰ باطل ہو جاتا ہے کہ سلف تاویل نہیں کرتے تھے۔ پھر اللہ تعالیٰ فرماتا ہے: ﴿وَمَا يَعْلَمُ تَأْوِيلَهُ إِلَّا اللَّهُ وَالرَّاسِخُونَ فِي الْعِلْمِ﴾ 'اس کی تاویل اللہ اور علم میں پختہ لوگ جانتے ہیں۔' اسی طرح بعض متشابہ حروف کی بھی تاویل کی گئی ہے، جیسے: الم یعنی: أنا الله أعلم اور كهيعص میں: کاف = کافی، ہا = ہادی، یاء = حکیم، عین = علیم، صاد = صادق، وغیرہ۔ اگر علم میں راسخ لوگ بھی ان معانی کو نہ جانتے ہوں، جیسے جاہل نہیں جانتے، تو عالم اور جاہل برابر ہو جائیں گے۔ کیا جاننے والا اور نہ جاننے والا برابر ہو سکتے ہیں؟ اللہ تعالیٰ نے خود ان میں فرق فرمایا ہے: ﴿هَلْ يَسْتَوِي الَّذِينَ يَعْلَمُونَ وَالَّذِينَ لَا يَعْلَمُونَ﴾ 'کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے برابر ہو سکتے ہیں؟'[56] یعنی ہرگز برابر نہیں۔" انھوں نے ایک اور مقام پر فرمایا: "اگر تم ظاہر اور باطن دونوں میں اللہ تعالیٰ کو تشبیہ سے پاک مانتے ہو تو خوش آمدید۔ لیکن اگر تم خالص توحید اور مکمل تنزیہ تک صرف تاویل کے ذریعے ہی پہنچ سکتے ہو، تو پھر تاویل، تشبیہ اختیار کرنے سے کہیں بہتر ہے۔"[45]
  • شیخ محمد سعید رمضان البوطی نے اپنی کتاب «کبریٰ الیقینیات الکونیۃ» میں لکھا: "سلف کا مذہب یہ تھا کہ صفاتِ الٰہیہ سے متعلق متشابہ نصوص کی تفصیلی تاویل یا تشریح میں نہ پڑا جائے، بلکہ اللہ تعالیٰ نے اپنی ذات کے لیے جو صفات بیان فرمائی ہیں، ان پر ایمان رکھا جائے، ساتھ ہی اللہ تعالیٰ کو ہر قسم کے نقص اور مخلوق سے مشابہت سے پاک سمجھا جائے۔ اس کا طریقہ یہ ہے کہ ان نصوص کی اجمالی تاویل کی جائے اور ان کے حقیقی اور تفصیلی معنی کا علم اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دیا جائے۔ البتہ ان نصوص کو ان کے ظاہری معنی پر، بغیر کسی تاویل (خواہ اجمالی ہو یا تفصیلی) کے چھوڑ دینا جائز نہیں اور نہ سلف و خلف میں سے کسی نے ایسا طریقہ اختیار کیا۔ جب تم ان تمام آیات کے بارے میں اللہ تعالیٰ کو اس بات سے پاک سمجھو کہ وہ مخلوق کی طرح کسی جگہ میں محدود ہو یا اس کے اعضاء، شکل، صورت یا ابعاد ہوں، پھر اللہ تعالیٰ کے لیے وہی صفات ثابت کرو جو اس نے خود بیان فرمائی ہیں، اس انداز سے جو اس کی شانِ کمال کے لائق ہو اور ان نصوص کے حقیقی معنی اللہ تعالیٰ کے سپرد کر دو، تو تم فہم کے تضاد سے بھی محفوظ رہو گے اور قرآنِ مجید میں کسی قسم کے تناقض کا وہم بھی پیدا نہیں ہوگا۔ یہی سلف رحمہم اللہ کا طریقہ تھا، اسی لیے وہ کہتے تھے: "امروها بلا كيف" (ان نصوص کو کیفیت بیان کیے بغیر قبول کرو۔) اگر وہ اجمالی تاویل نہ کرتے تو ان کا یہ کہنا درست نہ ہوتا۔ خلف کا مذہب یہ تھا کہ ان نصوص کی ایسی تفصیلی تاویل کی جائے جو انھیں قرآن کی محکم آیات کے ساتھ ہم آہنگ کر دے، جو قطعی طور پر اس بات پر دلالت کرتی ہیں کہ اللہ تعالیٰ جہت، مکان اور جسمانی اعضاء سے پاک ہے۔ یہ بھی جان لو کہ سلف کے زمانے میں انہی کا طریقہ بہتر، زیادہ محفوظ اور فطری ایمان کے زیادہ موافق تھا۔ اور خلف کے زمانے میں ان کا طریقہ ناگزیر ہو گیا، کیونکہ اس دور میں مختلف فکری مذاہب، فلسفیانہ مباحث اور علمی اعتراضات پیدا ہو چکے تھے۔ اہم بات یہ ہے کہ دونوں طریقے ایک ہی مقصد تک پہنچاتے ہیں اور وہ یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنی مخلوق میں سے کسی کے مشابہ نہیں اور ہر قسم کے نقص سے منزہ ہے۔ اس لیے دونوں کے درمیان اختلاف درحقیقت لفظی اور ظاہری ہے، حقیقی نہیں۔"[57]
  • شیخ محمود محمد خطاب سبکی فرماتے ہیں: "قرآن و حدیث میں جو متشابہ آیات و احادیث وارد ہوئی ہیں، ان کے بارے میں سلف و خلف کا اس بات پر اتفاق ہے کہ ان کا ظاہری معنی مراد نہیں، کیونکہ اللہ تعالیٰ کا فرمان ہے: قُلْ هُوَ اللَّهُ أَحَدٌ اللَّهُ الصَّمَدُ لَمْ يَلِدْ وَلَمْ يُولَدْ وَلَمْ يَكُن لَّهُ كُفُوًا أَحَدٌ اور: ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ اس کے بعد ان نصوص کے معنی بیان کرنے میں اختلاف ہوا۔ سلف ان کے حقیقی معنی اللہ تعالیٰ کے سپرد کرتے تھے۔ مثلاً آیت: ﴿الرَّحْمَنُ عَلَى الْعَرْشِ اسْتَوَى﴾ کے بارے میں کہتے تھے کہ اس کے حقیقی معنی اللہ ہی جانتا ہے، لیکن وہ قطعی طور پر یہ عقیدہ رکھتے تھے کہ اللہ تعالیٰ کے لیے عرش پر بیٹھنا، اس پر قرار پکڑنا یا اس کے ساتھ متصل ہونا محال ہے۔ کیونکہ اللہ تعالیٰ قدیم ہے اور عرش کی تخلیق سے پہلے بھی اسی صفت سے متصف تھا۔ قرآن، جس میں یہ آیت موجود ہے، عرش کی تخلیق سے پہلے اللہ کے علم میں موجود تھا، لہٰذا یہ کیسے ممکن ہے کہ اللہ ایسے عرش پر مستقر ہو جو اس وقت موجود ہی نہ تھا؟ پھر جب اللہ نے مخلوق کو پیدا کیا تو اسے کسی جگہ کی ضرورت نہ ہوئی، بلکہ وہ ہمیشہ سے مکان سے بے نیاز ہے اور ہمیشہ اپنی ازلی صفت پر قائم ہے۔ خلف نے اس آیت میں "استواء" کا معنی اقتدار، غلبہ، تصرف یا اس جیسے معانی لیا۔ سلف کا طریقہ زیادہ محفوظ تھا۔ اور خلف کے طریقے کی صحت اس وجہ سے ہے کہ انھوں نے آیت کی ایسی تفسیر کی جو عربی زبان کے مطابق ہے، کیونکہ قرآن عربی میں نازل ہوا ہے۔ انھوں نے تفویض پر اکتفا اس لیے نہ کیا کہ ان کے زمانے میں مشبہہ پیدا ہو گئے تھے، جو یہ دعویٰ کرتے تھے کہ ان آیات کے ظاہر سے ثابت ہوتا ہے کہ اللہ جسم ہے، جبکہ وہ یہ نہ سمجھ سکے کہ اللہ تعالیٰ کے حق میں جسم ہونا یا کسی مکان میں حلول کرنا محال ہے۔ اس لیے خلف پر لازم ہوا کہ وہ عوام کے سامنے ان متشابہ آیات و احادیث کے ایسے معانی بیان کریں جو قرآن و حدیث کے مطابق ہوں اور اللہ تعالیٰ کی شان کے لائق ہوں، تاکہ لوگ حق کو پہچان کر اس پر عمل کریں اور باطل اور اس کے ماننے والوں سے بچیں۔ اللہ تعالیٰ انھیں بہترین جزا عطا فرمائے۔ علامہ زروق نے امام ابو حامد غزالی سے نقل کیا ہے کہ: "جب ایسا شبہ پیدا ہو جس کا ازالہ تاویل کے بغیر ممکن نہ ہو، تو تاویل واجب ہو جاتی ہے۔"[58]
  • شیخ عدی بن مسافر شامی فرماتے ہیں کہ جب امت میں بدعات، تشبیہ اور تعطیل پھیل گئی تو اہلِ حق نے دین کی حفاظت کے لیے تاویل اختیار کی۔ رسول اللہ ﷺ نے حضرت عبد اللہ بن عباسؓ کے لیے دعا فرمائی: "اے اللہ! انھیں دین کی سمجھ اور قرآن کی تاویل کا علم عطا فرما۔" اس سے معلوم ہوتا ہے کہ تاویل فی نفسہٖ جائز ہے۔ علمائے اہلِ سنت کے نزدیک اشاعرہ اور ماتریدیہ نے صفاتِ الٰہیہ میں تاویل تنزیہِ باری تعالیٰ (اللہ کو مخلوق سے پاک ثابت کرنے) کے لیے کی، اس لیے وہ اہلِ سنت سے خارج نہیں۔ [59]امام ابو الوفاء ابن عقیل نے فرمایا: "اسلام دو انتہاؤں (باطنیہ اور ظاہریہ) کے درمیان ہے؛ ظاہر کو دلیل کے ساتھ لیا جائے اور بے دلیل باطنی معنی رد کیے جائیں۔" امام ابن دقیق العید نے فرمایا کہ اگر تاویل عربی زبان کے واضح اصولوں کے مطابق ہو تو وہ درست ہے۔ آخر میں مصنف کہتے ہیں کہ مشبہہ آیاتِ صفات کو ظاہری معنی پر لے کر اللہ کے لیے جسم اور مکان ثابت کرتے ہیں، جبکہ اہلِ سنت قرآن کی متعدد آیات سے استدلال کرتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ مکان، جہت اور جسم سے پاک ہے، اس لیے ان نصوص کا صحیح مفہوم تنزیہ کے مطابق سمجھنا ضروری ہے۔ [60]

سلف اور علما کا تاویل استعمال کرنا

[ترمیم]

اشاعرہ کا مؤقف ہے کہ وہ متشابہ نصوص کے معاملے میں سلف صالحین ہی کے طریقے کی پیروی کرتے ہیں، کیونکہ سلف نے بھی جہاں ضرورت ہوئی تاویل کی۔ اس طرف شہاب الدین آلوسی نے اشارہ کرتے ہوئے فرمایا: "میرے نزدیک وہ تاویل جو عربی زبان کے معروف اور قریب الفہم اسلوب کے مطابق ہو، اس میں کوئی حرج نہیں، بلکہ بعض آیات ایسی ہیں جن کی تاویل پر سلف اور خلف دونوں کا اتفاق ہے۔"[61] حنبلی عالم امام عز الدین رسعنی نے اپنی کتاب رموز الكنوز میں لکھا:"اس باب (آیاتِ صفات) میں ہمارے امام کا اصول یہ ہے کہ سلف صالحین کی پیروی کی جائے؛ جن آیات کی انھوں نے تاویل کی ہم بھی ان کی تاویل کرتے ہیں اور جن میں انھوں نے سکوت اختیار کیا ہم بھی سکوت کرتے ہیں، ان کے حقیقی معنی اللہ کے سپرد کرتے ہیں اور اللہ تعالیٰ کو ہر اس چیز سے پاک مانتے ہیں جو اس کی شان کے لائق نہیں۔"[62]

اشاعرہ درج ذیل مثالیں پیش کرتے ہیں کہ سلف نے متشابہ نصوص کی تاویل کی:[63][64][65][66]

  • حضرت ابن عباسؓ ، ضحاک، قتادہ اور سعید بن جبیر نے آیت: ﴿يَوْمَ يُكْشَفُ عَنْ سَاقٍ﴾ (القلم: 42) میں "ساق" کا معنی شدت اور سختی کیا۔ امام طبری نے بھی نقل کیا کہ صحابہ اور تابعین کی ایک جماعت نے یہی معنی بیان کیا۔ [67]
  • حضرت ابن عباسؓ ، مجاہد ، قتادہ اور سفیان نے آیت: ﴿وَالسَّمَاءَ بَنَيْنَاهَا بِأَيْدٍ﴾ (الذاریات: 47) میں "أيدٍ" کا معنی قوت اور قدرت کیا۔
  • حضرت ابن عباسؓ نے آیت الکرسی میں "کرسی" کا معنی اللہ کا علم کیا۔ امام طبری نے اس قول کو نقل کیا اور فرمایا کہ ظاہرِ قرآن بھی اسی کی تائید کرتا ہے۔
  • حضرت ابن عباسؓ نے آیت: ﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ (الفجر: 22) میں "جاء ربك" کا معنی اللہ کا حکم اور فیصلہ آنا کیا۔ نسفی اور قرطبی نے بھی یہی بیان کیا کہ اس سے اللہ کی قدرت، ہیبت اور سلطنت کے آثار کا ظاہر ہونا مراد ہے، نہ کہ اللہ تعالیٰ کا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا۔ قرطبی مزید لکھتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کو حرکت، انتقال، مکان اور زمان سے موصوف نہیں کیا جا سکتا، کیونکہ جو زمانے اور مکان کا محتاج ہو وہ مخلوق اور عاجز ہوتا ہے، جبکہ اللہ تعالیٰ ان تمام چیزوں سے منزہ ہے۔
  • حضرت عبد اللہ بن عباسؓ نے اللہ تعالیٰ کے فرمان: ﴿اللَّهُ نُورُ السَّمَاوَاتِ وَالْأَرْضِ﴾ (النور: 35) کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد یہ ہے کہ اللہ آسمانوں اور زمین والوں کا ہادی (راہ دکھانے والا) ہے۔ امام طبری نے یہی روایت نقل کی ہے۔
  • حضرت ابن عباسؓ نے آیت: ﴿وَيَبْقَى وَجْهُ رَبِّكَ ذُو الْجَلَالِ وَالْإِكْرَامِ﴾ (الرحمن: 27) میں "وجہ" سے مراد اللہ تعالیٰ کی ذات لی ہے۔ امام قرطبی نے بھی لکھا کہ یہاں "وجہ" سے مراد اللہ کا وجود اور ذات ہے اور یہی رائے امام ابن فورک، امام ابوالمعالی جوینی اور دیگر محققین کی ہے۔
  • امام سفیان ثوری اور امام طبری نے استواء کی تاویل کی۔ امام طبری نے آیت: ﴿ثُمَّ اسْتَوَى إِلَى السَّمَاءِ﴾ (البقرۃ: 29) کی تفسیر میں فرمایا کہ اس سے مراد قدرت کے ساتھ آسمانوں کا انتظام فرمانا ہے، نہ کہ ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونا۔ سفیان ثوری نے بھی عرش پر استواء کا معنی اپنے امر کا قصد فرمانا اور آسمان کی طرف استواء کا معنی آسمان کی طرف توجہ فرمانا بیان کیا۔
  • مجاہد، ضحاک اور ابو عبیدہ نے لفظ "وجہ" کی تاویل کی: آیت: ﴿فَأَيْنَمَا تُوَلُّوا فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ (البقرۃ: 115) میں مجاہد نے فرمایا: اللہ کا قبلہ۔ آیت:﴿كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ﴾ (القصص: 88) میں ضحاک اور ابو عبیدہ نے فرمایا: سوائے اللہ کی ذات کے ہر چیز فنا ہونے والی ہے۔
  • مجاہد اور سدّی نے آیت:﴿يَا حَسْرَتَا عَلَى مَا فَرَّطْتُ فِي جَنْبِ اللَّهِ﴾ (الزمر: 56) میں "جنب اللہ" سے مراد اللہ کے حکم اور اس کی اطاعت لی ہے۔ حسن بصریؒ نے آیت:﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ (الفجر: 22) کی تفسیر میں فرمایا: اللہ کا حکم اور فیصلہ آیا۔ اسی طرح کلبی نے بھی کہا: اللہ کا حکم آیا۔ اور آیت ﴿فِي جَنْبِ اللَّهِ﴾ کی تفسیر میں حسن بصریؒ نے فرمایا: اللہ کی اطاعت میں کوتاہی۔
  • ضحاک نے اللہ تعالیٰ کی صفت "عین" کی تاویل حفاظت اور نگرانی سے کی، جیسے آیات: ﴿فَإِنَّكَ بِأَعْيُنِنَا﴾ (الطور: 48) اور ﴿وَلِتُصْنَعَ عَلَى عَيْنِي﴾ (طٰہٰ: 39) میں، یعنی تم ہماری حفاظت و نگرانی میں ہو۔ یہ تفسیر امام ماوردی نے نقل کی ہے۔
  • امام بخاریؒ نے بعض احادیث میں وارد لفظ "ضحک" کی تاویل رحمت سے کی۔ یہ بات امام بیہقی نے الاسماء والصفات میں نقل کی ہے۔ اسی طرح آیت:﴿كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ﴾ میں "وجہ" سے مراد اللہ کی بادشاہی (ملک) بیان کی۔
  • امام طبرانیؒ نے اسی آیت میں "وجہ" کی تفسیر اللہ کی ذات سے کی اور حضرت عطاءؒ سے نقل کیا کہ اس سے مراد وہ عمل ہے جو اللہ کی رضا کے لیے کیا گیا ہو۔ [68]
  • امام حماد بن زیدؒ نے حدیثِ نزول: "اللہ ہر رات آسمانِ دنیا کی طرف نزول فرماتا ہے" کی تاویل کرتے ہوئے فرمایا: "نزول سے مراد اللہ کی رحمت اور توجہ ہے۔" [69]
  • امام مالکؒ نے حدیثِ نزول کی تاویل اللہ کی رحمت، اس کے حکم یا فرشتوں کے نزول سے کی۔ یہ قول حافظ ابن حجر اور امام زرقانی نے نقل کیا ہے۔ [70][71]
  • امام شافعیؒ نے آیت:﴿فَثَمَّ وَجْهُ اللَّهِ﴾ میں "وجہ اللہ" سے مراد وہ قبلہ لیا جس کی طرف اللہ نے رخ کرنے کا حکم دیا ہے۔
  • امام احمد بن حنبلؒ نے آیت:﴿وَجَاءَ رَبُّكَ﴾ کی تاویل اللہ کے ثواب یا قدرت کے آنے سے کی۔ یہ روایت امام بیہقی، ابن کثیر اور ابن جوزی نے نقل کی ہے۔ اسی طرح آیت: ﴿هَلْ يَنْظُرُونَ إِلَّا أَنْ يَأْتِيَهُمُ اللَّهُ﴾ کے بارے میں امام احمدؒ نے فرمایا کہ اس سے مراد اللہ کا حکم اور اس کی قدرت ہے، جیسا کہ دوسری آیت: ﴿أَوْ يَأْتِيَ أَمْرُ رَبِّكَ﴾ اس کی وضاحت کرتی ہے۔ آیت: ﴿مَا يَأْتِيهِمْ مِنْ ذِكْرٍ مِنْ رَبِّهِمْ مُحْدَثٍ﴾ کی تفسیر میں امام احمدؒ نے فرمایا کہ "محدث" سے مراد ہمارے لیے اس کا نازل کیا جانا ہو سکتا ہے۔ امام احمدؒ کے عقیدے کو بیان کرتے ہوئے امام تمیمیؒ نے لکھا: "اللہ تعالیٰ پر نہ انتقال جائز ہے اور نہ کسی جگہ میں حلول۔".[72][73]
  • بہاء الدین قزوینی نے اپنی کتاب سراج العقول میں لکھا: جو شخص اللہ تعالیٰ کی صفات کا انکار کرے، بعض علما نے اسے اللہ کی معرفت سے ناواقف ہونے کی وجہ سے کافر کہا ہے، جبکہ بعض نے کہا کہ اہلِ قبلہ میں صفات کے منکر معتزلہ ہیں۔ ابو ہاشم معتزلی صفات کو مانتا تھا، لیکن انھیں "احوال" (جیسے عالمیت، قادریت) سے تعبیر کرتا تھا، اس لیے اس پر تکفیر لازم نہیں آتی۔ یہاں تک کہ قاضی ابوبکر باقلانی نے بھی صفتِ بقا کے بارے میں مختلف تعبیر اختیار کی۔ البتہ جو شخص یہ کہے کہ اللہ ان صفات سے متصف ہی نہیں، اس کے کفر پر امت کا اجماع ہے۔ [74]
  • حافظ ابن حجر عسقلانی نے فتح الباری میں آیت: ﴿كُلُّ شَيْءٍ هَالِكٌ إِلَّا وَجْهَهُ﴾ کی تفسیر میں لکھا: ابن بطال نے کہا کہ اس آیت اور حدیث سے اللہ کے لیے "وجہ" ثابت ہے، مگر وہ کوئی جسمانی عضو نہیں، نہ مخلوق کے چہروں کی مانند ہے۔ بعض علما نے کہا کہ یہاں "وجہ" سے مراد اللہ کی ذات ہے۔ امام راغب اصفہانی نے کہا کہ عربی میں "وجہ" کا استعمال ذات، وجود، ابتدا، ظاہر یا مقصد کے معنی میں بھی ہوتا ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد اللہ ہی ہے۔ بعض نے کہا کہ اس سے مراد وہ عمل ہے جو اللہ کی رضا کے لیے کیا جائے۔ کرمانی نے لکھا کہ یہاں یا تو ذات مراد ہے یا وجود یا پھر ایسی صفت جو مخلوق کے چہرے جیسی نہیں؛ اس لیے تاویل یا تفویض ضروری ہے۔ امام بیہقی نے فرمایا کہ قرآن و حدیث میں "وجہ" مختلف معانی میں آیا ہے: کہیں صفتِ ذات، کہیں اللہ کی رضا، کہیں اخلاص اور اللہ کے لیے عمل۔ کسی جگہ بھی اس سے جسمانی عضو مراد نہیں۔ [75]
  • امام نووی نے صحیح مسلم میں حدیثِ جاریہ کی شرح کرتے ہوئے قاضی عیاض کا قول نقل کیا: "تمام مسلمانوں فقہا، محدثین، متکلمین، اہلِ نظر اور عام مقلدین کا اس بات پر اتفاق ہے کہ قرآن و حدیث میں جہاں اللہ کے بارے میں 'آسمان میں' جیسے الفاظ آئے ہیں، وہ اپنے ظاہری معنی پر مراد نہیں، بلکہ سب کے نزدیک ان کی تاویل کی جاتی ہے۔"[76]
  • حافظ ابو حسن علی بن قطان فاسی نے امت کا اجماع نقل کرتے ہوئے فرمایا: امت کا اس بات پر اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ قیامت کے دن حساب اور جزا کے لیے آئے گا، لیکن اس کا آنا حرکت یا ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل ہونے کے معنی میں نہیں ہوگا۔ اسی طرح امت کا اجماع ہے کہ اللہ تعالیٰ نیک بندوں سے راضی ہوتا ہے اور اس کی رضا سے مراد ان کے لیے نعمت کا ارادہ ہے۔ اور اللہ تعالیٰ توبہ کرنے والوں سے محبت کرتا ہے، جبکہ کافروں پر غضبناک ہوتا ہے اور اس کے غضب سے مراد ان کے لیے عذاب کا ارادہ ہے، نہ کہ مخلوق کی طرح جذبات یا تغیر۔ [77]

قضا و قدر (بندوں کے اعمال)

[ترمیم]

اشاعرہ کے نزدیک انسان کے تمام اعمال اللہ تعالیٰ کے علم، ارادے اور مشیت کے تحت واقع ہوتے ہیں۔ کائنات میں جو خیر و شر انسان کے ذریعے ظاہر ہوتا ہے، وہ بھی اللہ ہی کی مشیت سے ہوتا ہے۔ ان کے نزدیک انسان کی خواہش اللہ کی مشیت سے الگ نہیں ہو سکتی، کیونکہ قرآن میں فرمایا گیا ہے:"اور تم نہیں چاہ سکتے مگر یہ کہ اللہ چاہے۔" (سورۂ انسان: 30) اسی لیے اشاعرہ کہتے ہیں کہ انسان اپنے اختیار سے عمل کرتا ہے، اس لحاظ سے وہ مختار ہے، لیکن وہ صرف وہی اختیار کرتا ہے جس کی اللہ نے مشیت فرمائی ہو، اس لحاظ سے وہ اللہ کی مشیت کا پابند بھی ہے۔ یعنی انسان اپنی مرضی سے عمل کرتا ہے، مگر اس کی مرضی بھی اللہ کی مشیت کے تابع ہے۔ [78]، .[79]

اشاعرہ کے نزدیک یہی اللہ کی کامل قدرت کا تقاضا ہے کہ انسان میں اختیار بھی موجود ہو اور اللہ کی مشیت بھی ہر چیز پر غالب رہے۔ اگر انسان کو اس اعتبار سے مجبور کہا جائے تو وہ مجبور تو ہے، مگر اپنے اعمال پر جواب دہ بھی ہے۔ اس مسئلے پر وہ سورۂ نحل کی اس آیت سے بھی استدلال کرتے ہیں:[80] "اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک ہی امت بنا دیتا، لیکن وہ جسے چاہتا ہے گمراہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور تم سے ضرور تمھارے اعمال کے بارے میں پوچھا جائے گا۔" (سورۂ نحل: 93) ۔ [81]

اشاعرہ کا عقیدہ جبریہ سے مختلف ہے۔ جبریہ کے نزدیک انسان کے پاس نہ حقیقی قدرت ہے، نہ ارادہ اور نہ فعل؛ جبکہ اشاعرہ کہتے ہیں کہ انسان کے پاس قدرت، ارادہ اور اختیار موجود ہے، لیکن ان سب کا خالق اللہ تعالیٰ ہے اور انسان کے اعمال بھی اللہ ہی پیدا کرتا ہے۔ [82] اسی لیے وہ انسان کے اعمال کو اختیاری اعمال قرار دیتے ہیں، کیونکہ وہ انسان کے ارادے سے صادر ہوتے ہیں، اگرچہ اس ارادے اور قدرت کا خالق بھی اللہ تعالیٰ ہی ہے۔ اشاعرہ کے نزدیک قضا و قدر کا یہ مسئلہ قرآن، سنت اور عقلی دلائل پر مبنی ایک علمی مسئلہ ہے اور اس پر گفتگو بھی انہی دلائل کی روشنی میں ہونی چاہیے۔ [83]

کتاب الابانہ کے بارے میں اشاعرہ کا موقف

[ترمیم]

اشاعرہ کے نزدیک امام ابو الحسن اشعری کی کتاب «الإبانة عن اصول الديانة» میں بعد کے زمانوں میں بہت سی تحریفات اور اضافے کر دیے گئے ہیں۔ ان کے مطابق موجودہ مشہور نسخے کے کئی حصوں کا اسلوبِ تحریر بھی امام اشعری کے معروف اندازِ تصنیف سے مختلف ہے۔ جہاں اشاعرہ کے مخالفین رائج نسخے کو امام اشعری کے آخری عقیدے کی دلیل قرار دیتے ہیں، وہیں اشاعرہ کا کہنا ہے کہ یہ نسخہ اصل صورت میں محفوظ نہیں رہا بلکہ اس میں رد و بدل کیا گیا ہے۔[84] علامہ محمد زاہد الکوثری نے ابن قتیبہ کی کتاب «الاختلاف فی اللفظ» پر اپنے حاشیے میں لکھا:"تحریف کی عجیب مثالوں میں سے ایک یہ ہے کہ امام اشعری کی کتاب الابانہ کے بعض نسخوں میں بھی بہت سی چیزیں داخل کر دی گئی ہیں، جیسے دیگر مقامات پر بھی کیا گیا۔" اشاعرہ یہ بھی کہتے ہیں کہ موجودہ رائج نسخے میں بعض ایسی عبارتیں موجود ہیں جو تجسیم (اللہ کو جسم قرار دینے) کا تاثر دیتی ہیں اور ان میں امام ابو حنیفہؒ پر بھی سخت تنقید ملتی ہے، جسے وہ امام اشعری کی طرف منسوب نہیں کرتے۔ بعد میں ڈاکٹر فوقیہ حسین نے چار مخطوطات کے تقابل کے بعد کتاب الابانہ کا تحقیقی ایڈیشن شائع کیا۔ اس تحقیق میں رائج نسخے، ڈاکٹر فوقیہ حسین کے ایڈیشن اور ابن عساکر کی نقل کردہ عبارتوں کا موازنہ کرنے سے واضح ہوا کہ رائج نسخے میں نمایاں تحریفات موجود ہیں۔ [85]

علامہ الکوثری نے اپنی کتاب «تبيين كذب المفتری» کے مقدمے میں لکھا: "ہند میں شائع ہونے والا الابانہ کا نسخہ غلطیوں اور تحریفات سے بھرپور ہے، اس کے ساتھ بددیانت لوگوں نے چھیڑ چھاڑ کی ہے، لہٰذا اس کتاب کو کسی معتبر اصل مخطوطے سے دوبارہ شائع کیا جانا چاہیے۔" انھوں نے مزید کہا: "امام اشعری کی کثیر تصانیف میں سے کسی صحیح اصل نسخے کا ملنا بہت دشوار ہے۔ الابانہ کی طباعت بھی کسی معتبر اصل پر مبنی نہیں تھی اور ان کی طرف منسوب بعض دیگر رسائل بھی محلِ نظر ہیں۔"[86] ڈاکٹر عبد الرحمن بدوی نے بھی علامہ الکوثری کی تائید کرتے ہوئے لکھا:"علامہ کوثری نے بجا طور پر یہ نشان دہی کی ہے کہ ہند میں شائع ہونے والے الابانہ کے نسخے میں بددیانت ہاتھوں نے تحریف کی ہے۔" اسی طرح دوسرے محققین نے بھی اس مسئلے کی طرف توجہ دلائی۔ شیخ وہبی سلیمان غاوجی نے اس موضوع پر «نظرة علمية فی نسبة كتاب الإبانة جميعه الی الامام ابی الحسن» کے عنوان سے مستقل رسالہ لکھا، جس میں انھوں نے علمی دلائل کے ذریعے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ آج رائج الابانہ کا ایک بڑا حصہ امام ابو الحسن اشعری کی اصل تصنیف نہیں ہے، بلکہ بعد میں اس میں اضافے اور تحریفات کی گئی ہیں۔[87]

اشعری مکتبِ فکر پر اہم کتابیں

[ترمیم]
  • اشعریت کی ابتدا اور ارتقا — جلال موسیٰ
  • اہلِ سنت اشاعرہ: امت کے علما کی گواہی اور دلائل — حمد السنان، فوزی عنجرى
  • عقیدہ، فقہ اور سلوک میں عمومی منہج — عبد الفتاح قدیش الیافعی
  • اشاعرہ اہلِ سنت والجماعت ہیں — عبد الكريم تتان
  • امام اشعری کا عقیدہ: مسلمانوں کی اکثریت کا عقیدہ — مصطفیٰ بن علوی العطاس
  • براءۃ الاشعریین من عقائد المخالفین — ابو حامد بن مرزوق (محمد العربی التبانی)
  • اشاعرہ کا عقیدہ: حقائق اور شبہات — محمد صالح الغرسی
  • امام اہلِ حق ابو الحسن اشعری — عبد القادر محمد الحسین
  • تبیین کذب المفتری فیما نُسب الى الامام ابی الحسن الاشعری
  • مقالات الاسلاميين واختلاف المصلين — ابو الحسن اشعری
  • اللمع في الرد على أهل الزيغ والبدع — ابو الحسن اشعری
  • رسالة استحسان الخوض فی علم الكلام — ابو الحسن اشعری
  • الاشارة الى مذهب اہل الحق — ابو اسحاق شیرازی
  • مجرد مقالات الشيخ ابی الحسن الاشعری — ابو بکر ابن فورک
  • الأسماء والصفات — ابو بکر بیہقی
  • الاعتقاد والهداية الى سبيل الرشاد — ابو بکر بیہقی
  • الانصاف فيما يجب اعتقاده — ابو بکر باقلانی
  • تمهيد الاوائل وتلخيص الدلائل — ابو بکر باقلانی
  • الملل والنحل — ابو الفتح شہرستانی
  • نهاية الاقدام فی علم الكلام — ابو الفتح شہرستانی
  • اصول الدين — عبد القاہر بغدادی
  • الفرق بين الفرق — عبد القاہر بغدادی
  • التبصير فی الدين — ابو المظفر اسفراینی
  • العواصم من القواصم — ابو بکر ابن العربی
  • المسامرة شرح المسايرة — کمال بن ابی شریف
  • شرح العقيدة الطحاوية — شیخ عبد الغنی المیدانی (ابن ابی العز کی نہیں)
  • العقيدة الصلاحية — محمد بن ہبۃ اللہ البرمکی
  • العقيدة البرهانية — عثمان السلالجی
  • العقيدة السنوسية الصغرى (أم البراهين) — محمد بن یوسف السنوسی
  • إضاءة الدجنة فی عقائد اہل السنة — احمد المقری
  • العقيدة النورية في اعتقاد الائمة الأشعرية — علی النوری الصفاقسی
  • الخريدة البهية — احمد الدردیر
  • جوهرة التوحيد — ابراہیم اللقانی
  • اصولِ دین میں غنیہ — ابو سعد المتولی نیشاپوری
  • العقیدہ النظامیہ فی الأرکان الإسلامیۃ — امام ابو المعالی الجوینی
  • الإرشاد إلى قواطع الأدلة في أصول الاعتقاد — امام ابو المعالی الجوینی
  • لمع الأدلة في قواعد عقائد أهل السنة والجماعة — امام ابو المعالی الجوینی
  • الشامل في أصول الدين — امام ابو المعالی الجوینی
  • غنیہ فی علمِ کلام — ابو القاسم الأنصاری
  • الإشارة في علم الكلام — امام فخر الدین الرازی
  • تأسیس التقدیس (یا أساس التقدیس) — امام فخر الدین الرازی
  • لباب المحصل في أصول الدين — ابن خلدون
  • طوالع الأنوار من مطالع الأنظار — ناصر الدین البیضاوی
  • أبكار الأفكار في أصول الدين — سیف الدین الآمدی
  • غایة المرام في علم الكلام — سیف الدین الآمدی
  • المواقف في علم الكلام — عضد الدین الإیجی
  • شرح العقائد النسفیة — سعد الدین التفتازانی
  • رسائل في التوحيد — العز بن عبد السلام
  • البرهان المؤيد — احمد الرفاعی
  • الرسالۃ القشیریۃ — ابو القاسم القشیری
  • قواعد العقائد — امام ابو حامد الغزالی
  • الاقتصاد في الاعتقاد — امام ابو حامد الغزالی
  • دفع شبہ التشبيہ باكف التنزيہ — ابو الفرج ابن الجوزی
  • دفع شبه من شبه وتمرد ونسب ذلک الى السيد الجليل الامام احمد — تقی الدین الحصنی
  • اليواقيت والجواهر في بيان عقائد الأكابر — عبد الوہاب الشعرانی
  • ضوء المعالي شرح بدء الأمالي — ملا علی القاری
  • الإعلام بحدود قواعد الإسلام — القاضی عیاض
  • عقيدة أهل الإسلام — عبد اللہ بن علوی الحداد
  • مقالات الكوثری — محمد زاہد الکوثری
  • العقيدة الإسلامية كما جاء بها القرآن الكريم — محمد ابو زہرہ
  • موقف العقل والعلم والعالم من رب العالمين وعبادة المرسلين — مصطفی صبری
  • کبریٰ الیقینیات الکونیۃ — محمد سعید رمضان البوطی
  • السلفية مرحلة زمنية مباركة لا مذهب إسلامي — محمد سعید رمضان البوطی
  • السلفية بين الأصيل والدخيل — احمد کریمہ
  • البيان الموثق: دراسة موثقة لمقالات الفرق الثلاث — عبد اللہ الہرری
  • مقدمات المراشد في علم العقائد — ابن خمیر السبتی
  • كفاية العوام فيما يجب عليهم من علم الكلام — محمد الفضالی الأزہری
  • غاية البيان في تنزيه الله عن الجهة والمكان — خلیل دریان الأزہری
  • الحجة الدامغة لشبهات المجسمة الزائغة — حسین سامی بدوی
  • إتحاف الأكابر في سيرة ومناقب الامام محيي الدين عبد القادر الجيلانی — عبد المجید بن طہ الدہیبی الزعبی

تنقیدات

[ترمیم]

سلفی علما کے نزدیک اشاعرہ نے اسماء و صفاتِ الٰہی کے باب میں تاویل اور تفویض اختیار کرکے اہلِ سنت کے منہج سے اختلاف کیا۔ ان کے مطابق اہلِ سنت نہ صفات کی تاویل کرتے ہیں اور نہ ان کے معنی کو اللہ کے سپرد (تفویض) کرتے ہیں، بلکہ صرف ان امور میں اشاعرہ کو اہلِ سنت شمار کرتے ہیں جن میں وہ ان سے موافق ہوں۔ [88][89] ابن تیمیہ (متوفی 728ھ) اور ان کے شاگرد ابن قیم الجوزیہ (متوفی 751ھ) کا اشعری علما سے اس مسئلے پر شدید اختلاف رہا۔ اختلاف کا ایک اہم سبب صفاتِ الٰہی کی وہ آیات تھیں جن سے بظاہر تشبیہ کا وہم ہوتا ہے، جیسے ید (ہاتھ)، نزول (اترنا) وغیرہ۔ ابن تیمیہ اور ابن قیم کے نزدیک ان صفات کا معنی معلوم ہے لیکن ان کی کیفیت نامعلوم ہے، جبکہ اشاعرہ ان کے معنی اللہ کے سپرد کرتے ہیں یا ظاہری معنی سے ہٹا کر مناسب معنی مراد لیتے ہیں، جسے منہجِ تفویض کہا جاتا ہے۔ [90]

سلفیہ کے نزدیک اشاعرہ کی بعض صفات میں تاویل سلف صالحین کے طریقے کے خلاف ہے۔ ان کے مطابق اللہ تعالیٰ کی صفات کے بارے میں اصول یہ ہے کہ جو صفات اللہ نے اپنی کتاب میں یا رسول اللہ ﷺ نے بیان فرمائی ہیں یا صحابہؓ سے ثابت ہیں، ان کو بغیر تحریف، بغیر تعطیل، بغیر تکییف اور بغیر تمثیل مانا جائے۔ [91][92][93]اس پر وہ اللہ تعالیٰ کے اس فرمان سے استدلال کرتے ہیں:[94] ﴿لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ﴾ "اس جیسی کوئی چیز نہیں اور وہی خوب سننے والا، خوب دیکھنے والا ہے۔" (سورۃ الشوریٰ: 11)

ابن تیمیہ نے اس آیت کی تشریح کرتے ہوئے کہا: "سلف کا مذہب دو گمراہ راستوں کے درمیان معتدل راستہ ہے: صفات کو ثابت کرنا اور مخلوق سے مشابہت کی نفی کرنا۔ 'لَيْسَ كَمِثْلِهِ شَيْءٌ' اہلِ تشبیہ و تمثیل کا رد ہے اور 'وَهُوَ السَّمِيعُ الْبَصِيرُ' اہلِ نفی و تعطیل کا رد ہے۔ تشبیہ دینے والا گویا بت کی عبادت کرتا ہے، جبکہ صفات کا انکار کرنے والا عدم کی عبادت کرتا ہے۔" [95]

انھوں نے امام بخاری کے استاد نعیم بن حماد خزاعی کا یہ قول بھی نقل کیا: "جس نے اللہ کو اس کی مخلوق کے ساتھ تشبیہ دی وہ کافر ہوا اور جس نے اللہ کی ان صفات کا انکار کیا جو اس نے خود اپنے لیے بیان کی ہیں وہ بھی کافر ہوا۔ اور اللہ اور اس کے رسول ﷺ نے جو صفات بیان کی ہیں، وہ تشبیہ نہیں ہیں۔"[96]

اسی طرح یحییٰ بن ابی خیر عمرانی نے کہا: "قرآن، سنت اور اجماع اس بات پر دلالت کرتے ہیں کہ قرآن یہی سورتیں اور آیات ہیں، نہ کہ وہ بات جو اشاعرہ اپنی عقل اور تاویل کے ذریعے کہتے ہیں۔"[97]

ابن قدامہ نے کہا: "یہ روایات ہمیشہ لوگوں میں معروف اور متداول رہیں، یہاں تک کہ اشعری آئے اور انھوں نے ان کا انکار کیا۔ اہلِ حق کے نزدیک ان کا قول قابلِ قبول نہیں اور رسول اللہ ﷺ کی حدیث اور امت کے اجماع کو اشعری کے قول کی وجہ سے ترک نہیں کیا جا سکتا، سوائے اس شخص کے جسے اللہ نے ہدایت سے محروم کر دیا ہو۔"[98]

ابن تیمیہ نے اشاعرہ کے بارے میں کہا: "اکثر اشاعرہ اسماء و احکام کے باب میں مرجئہ، تقدیر کے باب میں جبریہ اور صفات کے باب میں مکمل جہمیہ نہیں بلکہ ان میں جہمیہ کا کچھ اثر ہے۔ مجموعی طور پر وہ دوسرے متکلمین کی نسبت اہلِ سنت و حدیث کے زیادہ قریب ہیں۔"[99]

اور شمس الدین ذہبی نے اشاعرہ کے قولِ نفیِ علو پر رد کرتے ہوئے کہا: "یہ کہنا کہ اللہ نہ کسی جگہ میں ہے، نہ جگہ سے باہر، نہ عرش کے اوپر ہے، نہ مخلوق سے متصل ہے اور نہ جدا، نہ کسی جہت میں ہے اور نہ جہت سے خارج؛ یہ ایسی بات ہے جو نہ عقل میں آتی ہے اور نہ سمجھی جا سکتی ہے، نیز یہ قرآن و حدیث کے بھی خلاف ہے۔ لہٰذا اپنے دین کی حفاظت کرو، متکلمین کی آراء سے بچو، اللہ اور اس کی وحی پر ایمان لاؤ اور اپنا معاملہ اللہ کے سپرد کر دو۔"[100]

حوالہ جات

[ترمیم]
  1. ↑ دكتور فخري بصول، الأشاعرة، ص: 1. سانچہ:أرشيف الويب
  2. ↑ "الأشعرية في خريطة الفكر الإسلامي"۔ بوابة أقطاب۔ 3 يناير 2017 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  3. ↑ حمد السنان وفوزي العنجري۔ أهل السنة الأشاعرة شهادة علماء الأمة وأدلتهم۔ دار الضياء للنشر والتوزيع۔ ص 7، و248-258
  4. ↑ كتاب التوحيد للإمام الماتريدي، تحقيق: الأستاذ الدكتور بكر طوبال أوغلي، والأستاذ المساعد الدكتور محمد آروشي، طبعة: دار صادر بيروت، ومكتبة الإرشاد استانبول، تقديم الطبعة الجديدة، ص: 7-9.
  5. ↑ "الحبيب علي الجفري: الأشاعرة مثلوا ما يزيد عن 95% من علماء أهل السنة"۔ بوابة الوطن۔ 11 سبتمبر 2018 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا {{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في: |آرکائیو تاریخ= (معاونت)
  6. ↑ مقدمة كتاب: أهل السنة الأشاعرة شهادة علما الأمة وأدلتهم، تقديم: أ. د. محمد حسن هيتو، ص: 6. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ almostaneer.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  7. ↑ أبو الحسن الندوي، أبو الحسن الأشعري، المختار الإسلامي للطباعة والنشر والتوزيع، القاهرة
  8. ↑ الملل والنحل
  9. ↑ تبيين كذب المفتري فيما نسب إلى الإمام الأشعري، ابن عساكر، الطبعة: 2 سنة: 1979، دار الفكر، صفحة: 472
  10. 1 2 تاريخ المذاهب الإسلامية/الجزء الأول-في السياسة والعقائد/محمد أبو زهرة.
  11. ↑ الكامل في التاريخ – الجزء السادس –لعز الدين أبو الحسن علي بن محمد بن عبد الكريم الجزري الشهير بابن الأثير
  12. ↑ محمد عبد الله عنان – تاريخ الجامع الأزهر – مكتبة الخانجي – القاهرة – 1378هـ – 1958.
  13. ↑ عمر عبد الله كامل، كفى تفريقًا للأمة باسم السلف
  14. ↑ يوسف احنانة في كتابه تطور المذهب الأشعري في الغرب الإسلامي صفحة 62
  15. ↑ حركة التوحيد والإصلاح: أبو عمران الفاسي آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ alislah.org (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) تاريخ الوصول: 26 10 2010 سانچہ:أرشيف الويب
  16. ↑ شذرات الذهب في أخبار من ذهب، تأليف: ابن العماد، ج4، ص141.
  17. ↑ قيام دولة الموحدين، الدكتور مراجع عقيلة الغناي، ص49، منشورات جامعة قاريونس
  18. ↑ انزر مقدمة محقق كتاب الإملاء على مشكل الإحياءللغزالي، عبد المولى هاجل، بيروت، دار الكتب العلمية، 1441هـ/2020م.
  19. ↑ تاريخ دولتي المرابطين والموحّدين في الشمال الأفريقي تأليف: علي محمد الصلابي دار النشر: دار المعرفة للطباعة والنشر والتوزيع - بيروت - لبنان
  20. ↑ كتاب الاستقصا لأخبار دول المغرب الأقصى، للناصري، دار الكتاب، الدار البيضاء 1954 م
  21. ↑ (إبراهيم حركات) في كتابه ((المغرب عبر التاريخ))، الجزء الأول، صفحة 178
  22. ↑ يوسف الكتاني، مدرسة الإمام البخاري في المغرب، الجزء الأول، ص 21
  23. ↑ كتاب: أهل السنة الأشاعرة شهادة علما الأمة وأدلتهم، ص: 264-265. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ almostaneer.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  24. ↑ [طبقات الشافعية الكبرى، لشيخ الإسلام تاج الدين السبكي -الطبعة الأولى- المطبعة الحسينية المصرية -الجزء الثاني- ص :245 – 257]
  25. ↑ [طبقات الشافعية الكبرى 3/ 367].
  26. ↑ [طبقات الشافعية الكبرى 3/ 365].
  27. ↑ طبقات الشافعية (8/ 219).
  28. ↑ طبقات الشافعية (8/220).
  29. ↑ كتاب: منهج الأشاعرة في العقيدة بين الحقائق والأوهام، تأليف: الشيخ محمد صالح بن أحمد الغرسي، 25- مصدر التلقي عند الأشاعرة...، ص: 76-77. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ almostaneer.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  30. ↑ سعيد فودة، ص 62، الفرق العظيم بين التنزيه والتجسيم ويليه المقتطف في نقد التحف، دار الرازي، الطبعة الأولى 2004، عمّان
  31. ↑ محمد الخضر الشنقيطي، ص 17، استحالة المعيّة بالذات وما يضاهيها من متشابة الصفات، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة
  32. ↑ تاج الدين السبكي، طبقات الشافعية الكبرى، (5/ 191)
  33. ↑ سعيد فودة، ص 41، الفرق العظيم بين التنزيه والتجسيم ويليه المقتطف في نقد التحف، دار الرازي، الطبعة الأولى، 2004، عمّان
  34. ↑ محمد الخضر الشنقيطي، ص 16 - 17، استحالة المعيّة بالذات وما يضاهيها من متشابة الصفات، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة
  35. ↑ سعيد فودة، ص 36 - ص 48، الفرق العظيم بين التنزيه والتجسيم ويليه المقتطف في نقد التحف، دار الرازي، الطبعة الأولى 2004، عمّان
  36. ↑ محمد الخضر الشنقيطي، ص 88، استحالة المعيّة بالذات وما يضاهيها من متشابة الصفات، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة.
  37. ↑ محمد الخضر الشنقيطي، ص 88 - 89، استحالة المعيّة بالذات وما يضاهيها من متشابة الصفات، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة
  38. 1 2 الآيات المتشابهة/محمد عز الدين الغرياني.
  39. ↑ الرسالة للإمام الشافعي، ص: 52.
  40. ↑ بوابة الحركات الاسلامية: "الأشعرية" الاعتدال في مواجهة التطرف، أفكار الأشاعرة ومنهجهم، (رقم 8). سانچہ:أرشيف الويب
  41. ↑ الرسالة للإمام الشافعي، ص: 52.
  42. ↑ بوابة الحركات الاسلامية: "الأشعرية" الاعتدال في مواجهة التطرف، أفكار الأشاعرة ومنهجهم، (رقم 8). سانچہ:أرشيف الويب
  43. ↑ الموافقات في أصول الفقه (4/179)، تحقيق: عبد الله دراز، الناشر: دار المعرفة - بيروت. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ islamport.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  44. ↑ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح 1/134.
  45. 1 2 المنهجية العامة في العقيدة والفقه والسلوك والإعلام بأن الأشعرية والماتريدية من أهل السنة، الناشر: الجيل الجديد ناشرون – صنعاء، الطبعة الأولى: 2007م، ص: 56.
  46. ↑ فتاوى العز بن عبد السلام، ص: 22.
  47. ↑ إتحاف السادة المتقين بشرح إحياء علوم الدين 2/ 109.
  48. ↑ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح 2/ 136.
  49. ↑ مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح 1/ 189.
  50. ↑ طبقات الشافعية الكبرى للإمام تاج الدين السبكي. سانچہ:أرشيف الويب
  51. ↑ كتاب: أهل السنة الأشاعرة شهادة علما الأمة وأدلتهم، هل عطل الأشاعرة صفات الله تعالى؟، ص: 226-227. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ almostaneer.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  52. ↑ المجموع شرح المهذب 1/ 25. سانچہ:أرشيف الويب
  53. ↑ المنهاج شرح صحيح مسلم بن الحجاج للنووي. سانچہ:أرشيف الويب
  54. 1 2 البرهان في علوم القرآن للزركشي. سانچہ:أرشيف الويب
  55. ↑ البرهان في علوم القرآن 2/ 207.
  56. ↑ مجالس ابن الجوزي في المتشابه من الآيات القرآنية، ص: 172.
  57. ↑ كبرى اليقينيات الكونية، ص: 138 وما بعدها.
  58. ↑ كتاب: الدين الخالص (1/ 27).
  59. ↑ المنهجية العامة في العقيدة والفقه والسلوك والإعلام بأن الأشعرية والماتريدية من أهل السنة، الناشر: الجيل الجديد ناشرون – صنعاء، الطبعة الأولى: 2007م، ص: 8-9، و57.
  60. ↑ كتاب: السيف الصقيل في الرد على ابن زفيل للإمام تقي الدين السبكي، ومعه تكملة الرد على نونية ابن القيم (تبديد الظلام المخيم من نونية ابن القيم) بقلم الإمام الكوثري، الناشر: المكتبة الأزهرية للتراث، ص: 106-108.
  61. ↑ تفسير الألوسي: روح المعاني في تفسير القرآن العظيم والسبع المثاني 3/ 116.
  62. ↑ رموز الكنوز في تفسير الكتاب العزيز، تأليف: عز الدين الرسعني، دراسة وتحقيق: عبد الملك بن عبد الله بن دهيش، الناشر: مكتبة الأسدي للنشر والتوزيع، الجزء الأول، الطبعة الأولى: 2008م، ص: 64.
  63. ↑ نماذج من التأويل من كتاب: منهج الأشاعرة في العقيدة بين الحقائق والأوهام. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ almostaneer.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  64. ↑ موقع السنّة: تأويل السلف الصالح لآيات الصفات. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ alsunna.org (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  65. ↑ كتاب: أهل السنة الأشاعرة شهادة علما الأمة وأدلتهم، تأويلات السلف الصالح لنصوص الصفات، ص: 232-247.
  66. ↑ كتاب: أهل السنة الأشاعرة شهادة علما الأمة وأدلتهم، نماذج من تأويل علما الأمة وأئمتها لنصوص الصفات، ص: 171-185.
  67. ↑ تفسير الطبري (7/27). سانچہ:أرشيف الويب
  68. ↑ تفسير التفسير الكبير للإمام الطبراني (سورة القصص: آية 88).
  69. ↑ الأسماء والصفات للبيهقي. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ islamport.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  70. ↑ شرح الزرقاني على موطأ الإمام مالك. سانچہ:أرشيف الويب
  71. ↑ فتح الباري شرح صحيح البخاري. آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ islamport.com (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  72. ↑ نهاية المبتدئين في أصول الدين، ص: 35.
  73. ↑ نهاية المبتدئين في أصول الدين، ص: 32.
  74. ↑ القزويني بهاء الدين، سراج العقول في منهاج الأصول، تحقيق عبد المولى هاجل، بيروت، دار الكتب العلمية، 1442هـ/ 2020م
  75. ↑ فتح الباري شرح صحيح البخاري، كتاب التوحيد، باب قول الله تعالى كل شيء هالك إلا وجهه. سانچہ:أرشيف الويب
  76. ↑ شرح النووي على صحيح مسلم. سانچہ:أرشيف الويب
  77. ↑ الإقناع في مسائل الإجماع 1/ 32–33.
  78. ↑ مصطفى صبري، ص 36، موقف البشر تحت سلطان القدر، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة
  79. ↑ مصطفى صبري، ص 40، موقف البشر تحت سلطان القدر، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة
  80. ↑ مصطفى صبري، ص 50، موقف البشر تحت سلطان القدر، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة
  81. ↑ مصطفى صبري، ص 50، 51، موقف البشر تحت سلطان القدر، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة
  82. ↑ مصطفى صبري، ص 58، 59، موقف البشر تحت سلطان القدر، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة
  83. ↑ مصطفى صبري، ص 26، موقف البشر تحت سلطان القدر، دار البصائر، الطبعة الأولى 2008، القاهرة
  84. ↑ نظرة علمية في نسبة كتاب الإبانة جميعه إلى الإمام أبي الحسن/وهبي غاوجي.
  85. ↑ أهل السنة الأشاعرة/حمد السنان، فوزي العنجري /ص267.
  86. ↑ تبيين كذب المفتري-للكوثري-تحقيق: أحمد حجازي السقا-دار الجيل/بيروت-الطبعة الأولى/1995، وانظر مقدمته على كتاب إشارات المرام للبياضي، وتعليقه على السيف الصقيل-ص:155-196.
  87. ↑ مذاهب الإسلاميين –عبد الرحمن بدوي– دار العلم للملايين/بيروت-الطبعة الأولى/1996-ص: 515/516.
  88. ↑ الفكر السياسي للتيارات السلفية، تأليف: د. محمد فتحي محمد حصّان، الناشر: المكتب العربي للمعارف، ص: 50.
  89. ↑ جاء في كتاب: تهذيب وترتيب الإتقان في علوم القرآن، تأليف: محمد بن عمر بن سالم بازمول، ص: 355 ما نصه: "التفويض في معاني الأسماء والصفات ليس مذهب السلف وأهل السنة والجماعة، فهم يقولون: «الاستواء معلوم، والكيف مجهول»، فهم يفوضون في الكيف، ولا يفوضون في المعنى".
  90. ↑ المجلس الإسلامي للإفتاء-بيت المقدس - الأشاعرة والماتريدية هم السواد الأعظم للأمة. سانچہ:أرشيف الويب
  91. ↑ الدرر السنية موسوعة الفرق - بيانُ مُخالفةِ المذهَبِ الأشعريِّ لمذهَبِ السَّلَفِ الصَّالِحِ آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ dorar.net (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  92. ↑ تفسير ابن عثيمين (سورة الشورى الآية 11) سانچہ:أرشيف الويب
  93. ↑ بيان فرقة الأشاعرة - فتوى ابن باز مفتي السعودية الراحل سانچہ:أرشيف الويب
  94. ↑ الموسوعة العقدية - الدرر السنية آرکائیو شدہ (غیرموجود تاریخ) بذریعہ dorar.net (نقص:نامعلوم آرکائیو یو آر ایل) سانچہ:أرشيف الويب
  95. ↑ مجموع الفتاوى - شيخ الإسلام ابن تيمية ج/ 5 ص -196
  96. ↑ مجموع الفتاوى ج/ 5 ص -196
  97. ↑ ((الانتصار في الرد على المُعْتَزِلة القدرية الأشرار)) (2/ 599).
  98. ↑ ((المناظرة في القُرْآن)) (ص: 40)
  99. ↑ ((مجموع الفتاوى)) (6/ 55) باختصار.
  100. ↑ ((العلو للعلي الغفار)) (ص: 596) باختصارٍ وتصرُّفٍ يسير.