آتون پرستی

آتون پرستی قدیم مصر میں سورج دیوتا کی عبادت کی روایت بہت قدیم ہے اور اس کا آغاز اہرامی دور سے ہوتا ہے۔ ابتدا میں سورج دیوتا کی عبادت زیادہ تر صرف مصر کے اندر محدود تھی اور اس کا مرکزی عبادت خانہ ہیلِیوپولِس (موجودہ عین شمس، قاہرہ کے قریب) تھا۔ قدیم اہرامی متون میں سورج دیوتا کو سرحدوں کا محافظ سمجھا جاتا تھا، جو مصر کی سرحدوں پر پہرہ دیتا اور غیر ملکیوں کو اس مقدس سرزمین میں داخل ہونے سے روکتا تھا۔ مصر کے مختلف علاقوں میں مختلف دیوتاؤں کی عبادت جاری رہی، لیکن نئی سلطنت کے دور میں ایک دیوتا کی عبادت پورے مصر میں غالب آگئی اور وہ تھا آمون-رع۔ اس دور کے فرعونوں نے خاص طور پر طیبہ (موجودہ الاقصر) میں اس کے عظیم معابد تعمیر کیے، جن میں تحتمس اول ، تحتمس دوم ، حتشپسوت اور تحتمس سوم شامل ہیں۔[1]
یوں طیبہ آہستہ آہستہ آمون-رع کی عبادت کا سب سے بڑا مرکز بن گیا اور اسے دنیا کا سب سے عظیم مذہبی مرکز سمجھا جانے لگا۔ آمون-رع کو خاص طور پر جنگوں اور فتوحات کا سرپرست مانا جاتا تھا۔ مثال کے طور پر احمس اول کی ہیکسوس پر فتح اور بعد میں تحتمس سوم کی نوبیہ اور شام میں فتوحات کو بھی آمون کی مدد سے منسوب کیا جاتا تھا۔ اس مذہبی پس منظر میں اچانک ایک انقلابی تبدیلی آئی، جب فرعون اخناتون نے روایتی دیوتاؤں کی عبادت کو ترک کر کے ایک واحد سورج دیوتا آتون کی عبادت کو فروغ دیا۔ اس نے آتون کو صرف ایک مقامی دیوتا نہیں بلکہ ایک عالمگیر خدا کے طور پر پیش کیا، جو تمام انسانوں مصریوں اور غیر مصریوں کا رب ہے۔ اخناتون نے طیبہ کو چھوڑ دیا، جہاں آمون کے طاقتور پجاریوں کا اثر تھا اور ایک نیا دار الحکومت قائم کیا جسے اخیت آتون (موجودہ تل عمارنہ) کہا جاتا ہے۔ اس نے اپنا لقب بدل کر "ماعت میں زندہ رہنے والا" رکھا۔ تاہم طیبہ کے آمون-رع کے پجاریوں نے اس نئی فکر کی شدید مخالفت کی اور آہستہ آہستہ اخناتون کے مذہبی انقلاب کو رد کرنے کی کوشش کی۔
آتون کی عالمگیریت (نئے خدا کا عالمگیر تصور)
[ترمیم]اخناتون کے مذہبی نظام میں آتون کو کسی مخصوص قوم، شہر یا علاقے کا دیوتا نہیں سمجھا گیا، بلکہ اسے ایک عالمگیر خدا کے طور پر پیش کیا گیا۔

اس تصور کے مطابق آتون صرف مصر کا نہیں بلکہ اُن تمام انسانوں کا رب تھا جن پر سورج طلوع ہوتا ہے۔ وہ نہ صرف مصریوں کا خدا تھا بلکہ ایشیائی اقوام اور نوبیائی لوگوں کا بھی پروردگار تھا۔ اس کی صفات میں یہ بات شامل تھی کہ وہ اپنی رعایا میں کسی قسم کی تفریق نہیں کرتا۔ یہ عقیدہ اس بات پر زور دیتا ہے کہ ہر قوم اور ہر نسل کی جسمانی ساخت اور فطرت آتون ہی کی مرضی سے تشکیل پاتی ہے۔ یہی نظریہ ہمیں اس مشہور حمدِ آتون میں ملتا ہے جو اخناتون سے منسوب ہے، جس میں آتون کو پوری انسانیت اور کائنات کا خالق اور نگہبان قرار دیا گیا ہے۔
شمسی حمد کے اقتباسات (اخناتون سے منسوب)
[ترمیم]
اخناتون اور اس کے خاندان کو آتون کی عبادت کرتے ہوئے اور اس کے حضور نذرانے پیش کرتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ اس حمد کے بعض قدیم حصے برطانوی عجائب گھر (لندن) کے مجموعے میں محفوظ ہیں۔
یہ متن اس تصور کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ آتون ایک واحد اور ازلی ہستی ہے اور بعض روایات کے مطابق اخناتون نے اسی تصور کو دوبارہ زندہ کیا اور اس کی خالص عبادت کو فروغ دیا۔
- "اے وہ جو ازل سے یاد رکھا گیا ہے
- اور جو ابدیت کے ادراک کی دلیل ہے
- اے وہ جس نے خود کو خود ہی تخلیق کیا
- تو خود اپنا مصور ہے اور بغیر کسی نقش کے وجود رکھتا ہے
- تو صفات میں بے مثال اور ابدیت سے ماورا ہے
- تو لاکھوں کو راستے دکھانے والا رہنما ہے
- جب تو آسمان کے افق پر طلوع ہوتا ہے تو تمام انسان تجھے دیکھتے ہیں
- تو سب کا خالق ہے اور انھیں اپنی قوت عطا کرتا ہے
- تو انسانوں اور دیوتاؤں دونوں کے لیے رحمت ہے
- تو ایک نگران چرواہا ہے جو اپنی مخلوق کو سنبھالتا ہے
- اور تو ہی ان کی پناہ اور قوت کا ذریعہ ہے
- وہی ہے جو اپنی تخلیق کو دیکھتا ہے
- اور اکیلا رب ہے جو ہر زمین کو روز فتح کرتا ہے
- وہ واحد ہے جو سب پر نظر رکھتا ہے
- آسمان میں روشن ہے جیسے سورج
- وہ موسموں اور مہینوں کا خالق ہے
- اور تمام زمینیں اس کے طلوع پر خوش ہوتی ہیں
- تاکہ اس کی حمد کریں۔"[2][3]
توحید
[ترمیم]کچھ محققین کا یہ خیال ہے کہ آتونی مذہب میں توحید کا تصور بعد میں یہودی مذہب کے ارتقا سے کسی نہ کسی طور پر منسلک ہو سکتا ہے اور بعض اوقات اسے توحید کے تصور کی ابتدائی شکل بھی سمجھا جاتا ہے۔ کچھ مصنفین اور محققین، جن میں سگمنڈ فرائیڈ بھی شامل ہیں، اس نظریے کی تائید کرتے ہیں۔ فرائیڈ، جو خود یہودی تھے، کا خیال تھا کہ اخناتون نے ایک واحد خدا کے تصور کو پیش کیا اور بعد میں موسیٰ نے اسی فکر سے اثر لیا۔ اس موضوع پر فرائیڈ نے اپنی کتاب "موسیٰ اور توحید" میں تفصیلی بحث کی ہے، جس میں اس نے اس نظریے کو بھی زیرِ غور لایا کہ توحیدی تصور کی کچھ جڑیں قدیم مصری مذہبی اصلاحات میں تلاش کی جا سکتی ہیں۔
حوالہ جات
[ترمیم]- ↑ "معلومات عن الديانة الآتونية على موقع getty.edu"۔ getty.edu۔ 27 أكتوبر 2020 کو اصل سے آرکائیو کیا گیا
{{حوالہ ویب}}: تحقق من التاريخ في:|آرکائیو تاریخ=(معاونت) - ↑ Dominic Montserrat (2002)۔ Akhenaten: History, fantasy and ancient Egypt۔ Routledge۔ ص 40۔ ISBN:978-0415301862
- ↑ Baines, John (1998)۔ "The Dawn of the Amarna Age"۔ در O'Connor, David؛ Cline, Eric (مرتبین)۔ Amenhotep III: Perspectives on his reign۔ University of Michigan Press۔ ص 281
